Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190358
Published : 5/11/2017 16:22

پوری تاریخ میں عاشورا جیسا کوئی دوسرا واقعہ رونما نہیں ہوا:رہبر انقلاب

آدمی جب غور کرتا ہے تب سمجھ میں آتا ہے کہ متعدد ائمہ علیہم السلام کی زبانی کیوں یہ نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے سید الشہداء علیہ الصلواۃ و السلام کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ:«لَایَوْمَ کَیَوْمِکَ یَا اَبَا عَبْدِاللہُ»یعنی کوئی بھی واقعہ اور کوئی بھی حادثہ آپ کے واقعہ و حادثہ جیسا نہیں ہے۔


ولایت پورٹل:محرم اور محرم کے آثار و برکات سے پوری ادوار تاریخ میں اسلامی معاشرے نے بہت زیادہ فیض اٹھایا ہے،ملت ایران کے عظیم اسلامی انقلاب میں بھی واقعۂ عاشورا اور حسین بن علی(ع) کی یاد اور مجموعی طور پر محرم کے مسائل نے بہت ہی بنیادی کردار نبھایا ہے۔ عاشورا کا موضوع کبھی نہ ختم ہونے والا ایک دائمی و ابدی موضوع ہے،اس واقعہ نے تاریخ اسلام میں اس قدر گہرے نقوش کیوں چھوڑے ہیں؟ میرے خیال میں، عاشورا کے موضوع کی اس لئے زیادہ اہمیت ہے کیونکہ واقعہ میں جس قدر فداکاری و ایثار کو پیش کیا گیا ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے،آغاز تاریخ سے لے کر اب تک جنگ و شہادت اور فداکاری و ایثار کا وجود رہا ہے اور ہم نے بھی اپنے زمانے میں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ جنہوں نے مجاہدت و ایثار کے ذریعہ شدائد و مشکلات برداشت کئے ہیں،جاں نثاروں اسیروں، حریت پسندوں اور ان کے اہل خانہ کی اس قدر بڑی تعداد، علاوہ از ایں انقلاب کے بعد اور اس کے دوران اس قدر لوگوں کی فداکاریاں، یہ سب ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ماضی میں بھی واقعات انجام پائے ہیں اور آپ نے ان کا مطالعہ کیا ہے  لیکن ان سبھی واقعات کا واقعۂ عاشورا سے موازنہ اور مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہے،یہاں تک کہ اسلام کے دور اوّل (بدرواحد) کے شہیدوں سے بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
آدمی جب غور کرتا ہے تب سمجھ میں آتا ہے کہ متعدد ائمہ علیہم السلام کی زبانی کیوں یہ نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے سید الشہداء علیہ الصلواۃ و السلام کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ:«لَایَوْمَ کَیَوْمِکَ یَا اَبَا عَبْدِاللہُ»یعنی کوئی بھی واقعہ اور کوئی بھی حادثہ آپ کے واقعہ و حادثہ جیسا نہیں ہے، کیونکہ واقعۂ عاشورا ایک بے مثال اور لاثانی واقعہ تھا،واقعۂ عاشورا کی اصلیت بھی یہ تھی کہ ایسی دنیا میں کہ جس میں ظلم و بربریت نے ہر جگہ اپنا سایہ پھیلا رکھا تھا، حسین بن علی علیہ السلام نے اسلام کو نجات دلانے کے لئے انقلاب برپا کیا اور اس بڑی اور بھری دنیا میں کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی،یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو حضرت(ع) کے دوست مانے جاتے تھے اور ان میں سے فرداً فرداً لوگوں کی ایک تعداد کو آپ کی مدد اور یزید سے مقابلہ کے لئے روانہ کرسکتے تھے، بہانے بناکر الگ ہوگئے۔
ابن عباس نے ایک طرح سے، عبداللہ بن زبیر اور دیگر صحابہ و تابعین نے کسی نہ کسی بہانہ کا سہارا لیا، مشہور و معروف اور نامدار وبرجستہ شخصیتیں جو مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے جد و جہد کے میدان میں روح پھونک سکتی تھیں، ان سب نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر کنارہ کشی اختیار کرلی، یہ اس وقت کے حالات تھے کہ ان میں کا ہر شخص باتیں کرنے کے دوران اسلام کے دفاع کی بات کیا کرتا تھا، لیکن جب میدان عمل میں اترنے کا وقت آیا اور دیکھا کہ حکومت یزید بہت ہی تشدّد پسند ہے رحم کرنے والی نہیں ہے اور اس کے فیصلے سختی و تشدّد پر مبنی ہیں، تو سبھی نے ایک گوشہ میں بھاگنے میں عافیت سمجھی اور امام حسین(ع)کو میدان میں اکیلا چھوڑدیا، اور انہوں نے اپنے کام کو جائز ٹھہرانے کے لئے حسین بن علی(ع)کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے اصرار کیا کہ مولا آپ بھی انقلاب برپانہ کریں،قیام نہ کریں اور یزید کے خلاف جنگ کے لئے نہ جائیں!

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16