Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190360
Published : 5/11/2017 17:9

۲۵۰ سالہ انسان

ائمۂ ہدی(ع) سب کے سب ایک ہی عصمت و ولایت کے حامل اور ایک ہی شخصیت کے مالک ہیں سب کا ہدف و مقصد ایک ہے، سب کی ذمہ داری ایک ہے لہٰذا ہم بجائے اس کے کہ مثلاً امام حسن مجتبٰی(ع) کی زندگی کا ایک طرح سے،امام حسین(ع) کی زندگی کا دوسری طرح سے اور امام سجاد(ع) کی زندگی کا جداگانہ طور پر کسی اور طرح سے تجزیہ و تحلیل کریں،بلکہ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایک ایسا انسان فرض کریں جس نے ڈھائی سو (۲۵۰) سال کی عمر تک زندگی بسر کی ہو اور اس نے سن ۱۱ ہجری میں ایک جادہ پر قدم رکھا ہو اور ۲۶۰ ہجری تک اسی جادہ پر چلتا رہا ہو۔


ولایت پورٹل:۲۵۰ سالہ انسان ،ائمۂ معصومین علیہم السلام کی زندگی میں سیاسی جنگ و جہاد کا عنصر اور انسان کامل کا کلیدی عنوان ہے جو ایک غرض و غایت اور ایک ہدف و مقصدکی طرف ائمۂ کرام علیہم السلام کی سلسلہ وار تصویر کشی کرنے والی ایک طولانی تحریک کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔
یہ کتاب ۲۵۰ سالہ انسان جس کا مطلب و مفہوم، ائمۂ معصومین علیہم السلام کی مجاہدانہ زندگی کے مرام و مقصد کے بلند و بالا مفاہیم کی طرف منتقل کرنے میں مشعل راہ ہے، یہ محض ایک تاریخی کتاب نہیں ہے بلکہ ایک عظیم تاریخی تحلیلی و تجزیاتی کتاب سے  بھی بڑھ کرہے لہذا جو حضرات معصومین علیہم السلام کی زندگی کے حالات و واقعات کی تشریح و تفصیل بیان کرنے کے بجائے ہرمعصوم کے مربوطہ عہد کی تاریخی زندگی پر ایک عمومی و کلی نظر ہے اور ان حضرات(ع) کے یگانہ مقصود و مطلوب کے متعلق کہ جس کو پانے کی سعی ٔپیہم کرتے رہے منظر کشی کرتی ہے۔
ان امامان دین مبین و ہادیان شرع متین کی حیات طیبہ ظاہری فرق و اختلاف کے برخلاف (کہ جن کے بارے میں بعض نادان دوستوں اور دانا دشمنوں نے اس زندگی کے بعض حصوں کے درمیان تناقض محسوس کیا ہے) مجموعی طور پر ایک طولانی و لا متناہی تحریک ہے کہ جو گیارہ ہجری وصال پیغمبر اکرم(ص) سے شروع ہوتی ہے اور ڈھائی سو(۲۵۰)سال تک جاری و ساری رہتی ہے اور غیبت صغریٰ کے ابتدائی سال دو سو ساٹھ(۲۶۰) ہجری تک ائمۂ معصومین علیہم السلام کی مبارک زندگی میں اپنے اختتام تک پہنچ جاتی ہے۔
 ائمۂ ہدی(ع) سب کے سب ایک ہی عصمت و ولایت کے حامل اور ایک ہی شخصیت کے مالک ہیں سب کا ہدف و مقصد ایک ہے، سب کی ذمہ داری ایک ہے لہٰذا ہم بجائے اس کے کہ مثلاً امام حسن مجتبٰی(ع) کی زندگی کا ایک طرح سے،امام حسین(ع) کی زندگی کا دوسری طرح سے اور امام سجاد(ع) کی زندگی کا جداگانہ طور پر کسی اور طرح سے تجزیہ و تحلیل کریں( تاکہ کہیں اس خطرناک اشتباہ کے جال میں نہ پھنس جائیں کہ ائمۂ کرام(ع) کی سیرت طیبہ ظاہری اختلاف کی وجہ سے آپس میں معارض و مخالف ہے) ہمیں چاہیئے کہ ہم ایک ایسا انسان فرض کریں جس نے ڈھائی سو (۲۵۰) سال کی عمر تک زندگی بسر کی ہو اور اس نے سن ۱۱ ہجری میں ایک جادہ پر قدم رکھا ہو اور ۲۶۰ ہجری تک اسی جادہ پر چلتا رہا ہو۔
یہ کتاب ملجأ و مأوائے مسلمانان، مرجع و مقلد شیعیان ،ولی فقیہ زمان حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ السید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی کی تحریروں اور تقریروں کا مرکز صہبا کے ذریعہ مرتب و مدون کیا ہوا فارسی مجموعہ ہے جسے مترجم شہیر، عالم بصیر حجۃ الاسلام جناب مولانا نثار احمد زین پوری نے بے حد جانفشانی اور نہایت عرق ریزی کے بعد ترجمہ کا قالب عطا کرکے اردو داں حضرات کے مطالعہ کی راہ ہموار کردی ہے۔ ترجمہ ایسا سلیس، رواں اور عام فہم ہے کہ لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ کسی کتاب کا ترجمہ ہے بلکہ خود ایک مستقل کتاب معلوم ہوتی ہے۔
اس کتاب کو ہندوستان میں پہلی بار ولایت فاؤنڈیشن نے زیور طبع سے آراستہ کرنے کے بعد راہیان ولایت و حامیان امامت کی خدمت میں پیش کیا ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18