Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190367
Published : 6/11/2017 15:44

معصومین(ع) میں سے صرف امام حسین(ع) کا ہی چہلم کیوں منایا جاتا ہے؟

غرض وہ ہر ممکن طریقہ سے لوگوں کو کربلا سے روکتا رہا لیکن شیعیان علی(ع) نے ان روکاوٹوں سے مقابلہ کے لئے اس طرح کی کچھ مناسبتیں کربلا حاضر ہونے کے لئے مخصوص کرلی،یعنی چاہے وہ پورے سال کربلا نہ آئیں لیکن جب یہ خاص ایام آتے تھے تو یہ افراد کسی نہ کسی صورت اپنے کو کربلا پہونچاتے تھے چنانچہ ان مخصوص ایام میں عاشورا،۱۵ شعبان ،روز عرفہ اور خاص طور پر ۲۰ صفر یعنی روز اربعین شہداء کربلا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہم 1439 مطابق 2017 کے اربعین سے نزدیک ہورہے ہیں اور دنیا بھر سے امام حسین(ع) سے محبت کرنے والے اور خاص طور پر شیعیان علی(ع) امام حسین(ع) کے چہلم کو خود کربلا معلٰی اور حائری حسینی میں درک کرنا چاہتے ہیں،جیسا کے اس سال بعض اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ روز اربعین تقریباً 250 لاکھ یعنی ڈھائی کروڑ حسینی کربلائے معلٰی میں مشرف ہونے جارہے اور یہ بہت بڑی تعداد اور اجتماع ہے نہ دنیا کے کسی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں اور نہ ہوسکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اجتماع کے لئے سب لوگوں کا ہم فکر و ہم مقصد ہونا ضروری ہے ورنہ ایک جگہ اکٹھا ہونے کا فائدہ ہی کیا؟
بہر کیف جب دنیا اس عظیم اجتماع کو دیکھتی ہے تو انگشت بدندان رہ جاتی ہے،یہ جم غفیر،یہ لوگوں کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر کس نے ان کو مدعو کیا؟وہ کون سے جذبہ ہے جو ان لوگوں کو یہاں کھینچ لایا؟
جبکہ غیر تو در کنار کبھی اپنے بھی یہ سوال کرنے لگتے ہیں کہ شہید تو ہمارے تمام آئمہ ہوئے،اور ایک روایت کی رو سے خود سرکار رسالتمآب(ص) کو بھی شہید کیا گیا تو پھر ہم صرف امام حسین علیہ السلام کے ہی لئے یہ سب اہتمام کیوں کرتے ہیں؟صرف انھیں کا چہلم مناتے ہیں اور کسی امام کا نہیں؟اس کی وجہ کیا ہے؟
تو آئیے قارئین اس سوال اور شبہ کی وضاحت کے لئے ان امور پر توجہ ضروری ہے:
۱۔سرکار سید الشہداء علیہ السلام کی قربانیوں کے سبب آج اسلام زندہ و تابندہ ہے اور حضرت کا اسلام کو زندہ کرنا اہم بات ہے لہذا جو قربانی دین کی راہ میں دی جاتی ہے وہ پائیدار رہتی ہے یہ عاشورا اور اربعین کے احیاء کا حکم بھی ہمیں دین ہی نے دیا ہے چونکہ امام حسین(ع) کی قربانیوں کو یاد کرنا ہی دین اسلام کی بقا اور دشمنان اسلام کی فنا کا ضامن ہے۔
۲۔حضرت امام حسین(ع) کی مصیبت ہر نبی اور ہر امام سے بڑی اور سخت تھی،نہ کسی نبی نے دین کی راہ میں اور پیغام توحید کو پہونچانے میں اتنی زحمتیں اور مصیبتیں برداشت کیں جیسا کہ متفق علیہ حدیث جو ہر معصوم نے اپنے اپنے دور میں سرکار کے لئے فرمائی:لا یوم کیومک یا اباعبداللہ!
۳۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سن ۶۱ ہجری میں امام حسین(ع) کی اولاد،اعزاء و اقرباء کو شہید کردیا گیا اور باقی لوگوں کو قید کرکے کوچہ بہ کوچہ،دیار بہ دیار پھرایا گیا،اور جب یہ مصیبت زدہ اسیر رہا ہوکر کربلا پہونچے وہ اربعین ہی کا دن تھا لہذا ان لوگوں نے پھر اربعین کے دن عاشورا کی یادیں تازہ کردیں اور یہ دن اہل بیت(ع) کے لئے ایک سخت دن تھا۔
۴۔اسلام کے دشمن امام حسین(ع) کو شہید کردینے کے بعد اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہتے تھے،دشمن یہ چاہتے تھے کہ کربلا ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے اور لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوجائے یہاں تک کہ جو لوگ حضرت کی زیارت کے لئے آتے تھے انھیں اذیت و آزار پہونچائی جاتی تھی چنانچہ متوکل عباسی نے کربلا میں شہداء کی قبروں پر ہل چلوائے،مقتل کو کھیت بنادیا گیا،غرض وہ ہر ممکن طریقہ سے لوگوں کو کربلا سے روکتا رہا لیکن شیعیان علی(ع) نے ان روکاوٹوں سے مقابلہ کے لئے اس طرح کی کچھ مناسبتیں کربلا حاضر ہونے کے لئے مخصوص کرلی،یعنی چاہے وہ پورے سال کربلا نہ آئیں لیکن جب یہ خاص ایام آتے تھے تو یہ افراد کسی نہ کسی صورت اپنے کو کربلا پہونچاتے تھے چنانچہ ان مخصوص ایام میں عاشورا،۱۵ شعبان ،روز عرفہ اور خاص طور پر ۲۰ صفر یعنی روز اربعین شہداء کربلا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
۵۔جیسا کہ ہم نے پہلے بھی رقم کیا کہ مؤمن کی علامتوں میں سے ایک روز اربعین،حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی مخصوص زیارت بھی پڑھنا ہے جیسا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے وارد ہوا ہے کہ حقیقی مؤمن ان ۵ علامتوں اور نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے۔(شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان، ص ۵۴۵)۔

سجاد ربانی
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15