Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190369
Published : 6/11/2017 16:55

سید الشہداء(ع) کی فتح کا اثر ہر دور میں جاری رہے گا:رہبر انقلاب

جاں بحق ہوجانا شکست کھانے کے مترادف نہیں ہوتا،جو کوئی محاذ جنگ پر جاں بحق ہوتا ہے وہ نہیں ہارتا ہے بلکہ جو کوئی اپنے مقصد تک نہیں پہنچ پاتا وہ ہارا کرتا ہے۔


ولایت پورٹل:سید الشھداء علیہ الصلوٰۃ و السلام یہ بات جانتے تھے کہ ان کی شہادت کے بعد، دشمن پورے معاشرے اور اس وقت کی دنیا میں ان کے خلاف پروپیگنڈوں کا بازار گرم کردے گا،امام حسین علیہ السلام ایسے نہ تھے جو اپنے دور اور اپنے دشمن کو نہ پہچانیں، انہیں پتہ تھا کہ دشمن کیا خباثتیں انجام دے گا،اس کے باوجود انہیں اس بات پر ایقان و اطمینان تھا کہ ان کا یہ مظلومانہ اور غریب الوطنی پر مبنی اقدام دشمن کو بہت کم وقت میں لیکن طویل عرصہ تک شکست سے دوچار کرے گا اور ایسا ہی ہوا بھی۔یہ غلط ہوگا اگر کوئی یہ خیال کرے کہ امام حسین(ع)نے شکست کھائی،جاں بحق ہوجانا شکست کھانے کے مترادف نہیں ہوتا،جو کوئی محاذ جنگ پر جاں بحق ہوتا ہے وہ نہیں ہارتا ہے بلکہ جو کوئی اپنے مقصد تک نہیں پہنچ پاتا وہ ہارا کرتا ہے۔امام حسین(ع) کے دشمنوں کا مقصد تھا کہ اسلام اور یادگار نبوت کا نام و نشان دنیا سے مٹادیں، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا،کیونکہ انہوں نے جیسا چاہا تھا ویسا نہ ہوسکا،امام حسین علیہ السلام کا بھی مقصد یہ تھا کہ اسلام دشمنوں کے متحدہ پروگرام میں کہ جس کے تحت انہوں نے ساری جگہوں پر اپنی چھاپ چھوڑ رکھی تھی یا سب جگہوں پر قبضہ جمانے کا ارادہ رکھتے تھے خلل ڈال دیں، تاکہ ہر جگہ اسلام اور مظلومیت و حقانیت کا ڈنکا بجنے لگے اور سرانجام دشمن کو شکست و ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ اور ایسا ہوا بھی۔ امام حسین علیہ السلام مختصر اور قلیل المیعاد مدت میں بھی کامیاب ہوئے اور طویل المیعاد مدت میں بھی کامیابی انہی کو نصیب ہوئی،قلیل المیعاد مدت میں اس لحاظ سے کہ آپ کے انقلاب اور مظلومانہ شہادت پھر آپ کے اہل خانہ کی گرفتاری نے حکومت بنی امیہ کے نظام کو متزلزل کرکے رکھ دیا۔
اسی واقعہ کے بعد عالم اسلام(خاص کر مکہ و مدینہ) میں مسلسل کئی واقعات رونما ہوئے جس کے نتیجہ میں آل ابوسفیان کے سلسلہ کا خاتمہ ہوگیا۔تین چار سال کے اندر آل ابوسفیان کے سلسلہ کا پوری طرح خاتمہ ہوگیا۔ کس نے یہ سوچا تھا کہ جس دشمن نے امام حسینؑ کومیدان کربلا میں اس طرح مظلومانہ اور بہیمانہ طرز پر شہید کیا تھا، اس مظلوم امام کی فریاد کی بازگشت سے مغلوب ہوجائے گا۔ وہ بھی صرف تین یا چار سال کے مختصر سے عرصہ میں؟ طویل المیعاد مدت میں بھی رشد و نمو اور ترقی حاصل کی ہے، اس کی جڑیں کس قدر مضبوط اور گہری ہوگئی ہیں! اسلامی قوموں میں کس قدر ترقی و بیداری حاصل ہوئی ہے۔ اسلامی علوم میں کس قدر ترقی ہوئی ہے۔ اسلامی فقہ نے پیشرفت حاصل کی ہے اور آخرکار یہ کہ صدیاں گذر جانے کے بعد آج دنیا کی بلند ترین چوٹی پر اسلام کا پرچم لہرا رہا ہے۔ کیا یزید اور اس کے گھرانے والے اسلام کی اس طرح روز افزوں ترقی پر راضی تھے؟ وہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے، وہ یہ چاہتے تھے کہ قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کا نام و نشان بھی باقی نہ بچے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کے بالکل خلاف ہوا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18