Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190370
Published : 6/11/2017 19:16

امام مہدی(عج) کا انداز غیبت

امام زمانہ(عج) کی غیبت کے سلسلہ میں دو مشہور نظریہ پائے جاتے ہیں ایک نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) کا وجود واقعاً نظروں سے پوشیدہ ہے،دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) لوگوں کے درمیان زندگی بسر فرمارہے ہیں نگاہیں آپ(عج) کو دیکھتی بھی ہیں لیکن لوگ آپ کو پہچانتے نہیں ہیں۔ غیبت کیفیت و انداز کے متعلق وارد ہونے والی روایات دونوں نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم نے گذشتہ چند مقالات میں امامت خاصہ حضرت ولیعصر(عج) اور آپ کی غیبت کے متعلق مفصل گفتگو کی ہے،لیکن آج جس امر کی جانب آپ حضرات کی توجہات مبذول کرانا ہے وہ ہے حضرت کا انداز غیبت۔ یعنی حضرت کی غیبت کی حقیقت اور کیفیت کیسی ہے؟
چنانچہ امام زمانہ(عج) کی غیبت کے سلسلہ میں دو  مشہور نظریہ پائے جاتے ہیں ایک نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) کا وجود واقعاً نظروں سے پوشیدہ ہے،اس طرح کہ آپ(ع) انسانوں کی آبادی سے دور کسی مقام پر زندگی بسر کررہے ہیں یا یہ کہ لوگوں کے درمیان ہیں لیکن معجزاتی طور پر لوگوں کی نگاہیں آپ(ع)کودیکھ نہیں سکتیں۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) لوگوں کے درمیان زندگی بسر فرمارہے ہیں نگاہیں آپ(عج) کو دیکھتی بھی ہیں لیکن لوگ آپ کو پہچانتے نہیں ہیں۔
غیبت کے انداز کے بارے میں وارد ہونے والی روایات دونوں نظریات سے ہم آہنگ ہیں،چنانچہ شیخ صدوق(رح)ریان بن صلت سے روایت کرتے ہیں کہ امام رضا(ع) نے قائم آل محمد (عج)کے بارے میں فرمایا:«لا یری جسمه ولایسمی باسمه»۔نہ ان کا جسم دکھائی دیتا ہے اورنہ انہیں ان کے نام سے پکارا جاتاہے۔(۱)
شیخ صدوق(رح) نے دوسری روایت عبید بن زرارہ سے نقل کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق(ع)کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ:لوگ اپنے امام تک نہیں پہونچتے وہ حج کے دوران موجود ہوتے ہیں لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔(۲)
ایک روایت امام جعفر صادق(ع) سے منقول ہے کہ آپ(ع)نے فرمایا:ساتویں امام کے فرزندوں میں سے پانچویں امام کا شخصی وجود تم لوگوں سے پوشیدہ رہے گا اور اس کا نام لینا تمہارے لئے جائز نہ ہوگا۔(۳)
اس نظریہ کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ جب مصلحت ہوگی امام(ع) کو پہچانا جاسکے گا اس طرح وہ واقعات جن میں لوگوں نے آنحضرت (عج)سے ملاقات اور مشاہدہ کا شرف حاصل کیا ہے مذکور نظریہ کے منافی نہ ہوں گے۔
 دوسرے نظریہ سے مطابقت رکھنے والی روایات یہ ہیں:
شیخ طوسی(رح) نے امام زمانہ (عج)کے دوسرے نائب خاص محمد بن عثمان سمری سے روایت نقل کی ہے کہ:«واللّٰه ان صاحب ھٰذا الامر لیحضر الموسم کل سنة یری الناس ویعرفھم ویرونه ولا یعرفونه»۔(۴) خدا کی قسم اس امر کا صاحب ہر سال حج کے دوران موجود ہوتا ہے لوگوں کو دیکھتا ہے اور پہچانتاہے لوگ بھی ان کو دیکھتے ہیں مگر پہچانتے نہیں ہیں۔
محمد بن عثمان ہی سے امام زمانہ (عجل )کا نام لینے کے ناجائز ہونے کے سبب کے بارے میں روایت ہے کہ:اگر آپ(ع) کا نام لیا جائے گا تو دشمن انہیں پہچان لیں گے۔(۵)
ظاہر ہے کہ اگر امام نظروں سے اوجھل ہیں دکھائی نہیں دیتے تو نام لیا جانا پہچاننے کا سبب نہیں ہو سکتا۔
تیسری روایت یہ ہے کہ ابو سہل نوبختی سے کہا گیا آخر تم امام(ع) کے نائب خاص کیوں منتخب نہیں ہوئے جب کہ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی اس درجہ پر فائز ہو گئے؟ابو سہل نے جواب دیا:اپنے امور کی مصلحت ائمہ(ع) زیادہ بہتر جانتے ہیں لیکن میری رفت و آمد دشمنوں کے ساتھ میں  ہے میں ان سے مناظرے کرتا ہوں اگر مجھے معلوم امام (ع) کی قیام گاہ معلوم ہوتی اور بحث ومناظرہ میں کبھی مشکل در پیش آتی تو شائد میں دشمنوں سے آپ(ع) کی قیام گاہ کے بارے میں بتا دیتا لیکن ابو القاسم نوبختی کا ایمان اتنا قوی ہے اور ان میں استقامت پائی جاتی ہے کہ اگر امام(ع) ان کے پاس موجود ہوں اور ان کے بدن کو قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے تب بھی امام(ع) کے قیام گاہ کا راز فاش نہ کریں گے۔(۶)یہ بات تو مسلم ہے کہ دشمنوں کو قیام گاہ کی اطلاع دنیا اسی وقت خطرناک ہو سکتا ہے کہ جب آپ(عج) کا وجود دکھائی دیتا ہو۔
لہٰذا سابق کلام کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غیبت کے انداز کے سلسلہ میں دونوں نظریہ صحیح اور قابل قبول ہیں اور دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے لوگ امام(ع) کو دیکھتے ہیں اورپہچان نہیں پاتے یا آنکھیں آپ کو دیکھ ہی نہیں پاتی ہیں اس کا تعلق حالات ،مصالح اور افراد کی صلاحیتوں سے ہے اور اس سلسلہ میں کوئی کلی نظریہ پیش نہیں کیا جا سکتا  بلکہ امام(عج) اپنے مصالح ک مطابق عمل کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔کمال الدین،ص۶۴۸۔
۲۔کمال الدین،ص۳۴۶ پر یہ عبارت مرقوم ہے:«یفقد الناس امامھم فیشھد الموسم فیراھم ولایرونه»۔
۳۔کمال الدین،ص،۳۳۸ پر یہ عبارت موجود ہے:«الخامس من ولد السابع یغیب عنکم شحصبہ ولایحلّ لکم تسمیته»
۴۔کتاب الغیبة،ص۲۲۱۔
۵۔کتاب الغیبة ،ص۲۲۲۔
۶۔کتاب الغیبة ،ص۲۴۰۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14