Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190378
Published : 7/11/2017 15:30

فکر قرآنی:

قرآن مجید کی نظر میں مسجد کی اہمیت

اگر مسجد بنانے والے جابر اور سلطان ہوں اور نمازی جاہل اور ڈرپوک اور خادم بے حال افراد ہوں تو مسجد اپنے اصلی ہدف کو جو معنویت کا چراغ جلانا ہے اس سے دور ہو جائے گی۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام!ایک بار پھر فکر قرآنی نامی سریز میں آپ کا خیر مقدم ہے،آج ہم جس موضوع کو لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اس کا عنوان ہے مسجد،جیسا کہ آپ کو معلوم ہے مسجد اللہ کا گھر اور اس کے بندوں کے عبادت کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں،مسجد الہی نظام اور دینی ثقافت کی ترویج کا اہم مرکز ہے اور صدر اسلام ہی سے مسجد کی افادیت تمام مسلمانوں پر عیاں ہے لہذا قرآن مجید نے بھی مساجد کے حوالہ سے کئی مقامات پر گفتگو کی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّما یَعْمُرُ مَساجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ أَقامَ الصَّلاۃَ وَ آتَی الزَّکاۃَ وَ لَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللَّهَ فَعَسیٰ أُولئِکَ أَنْ یَکُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ»۔(۱)
ترجمہ:اللہ کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جن کا ایمان اللہ اور روز آخرت پر ہے اور جنہوں نے نماز قائم کی ہے، زکات ادا کی ہے اور سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرے یہی وہ لوگ ہیں جو عنقریب ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں گے۔
مسجد مسلمانوں کی ایک عبادی اور اجتماعی مرکز ہے،اس بنا پر اس کا متولی بھی نیک اور صالح ہونا چاہیئے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اکثر وہ لوگ مسجد کے متولی ہوتے ہیں جو خود نماز ہی سے بے خبر ہوتے ہیں اور اسی طرح مسجد کے پروگرام بھی لوگوں کو سدھارنے اور تربیت کرنے والے ہونا چاہیئے، اسی طرح اس کا بجٹ بھی مشروع اور حلال راستے سے ہی پورا ہونا چاہیئے،ایسا نہ ہو کہ ہم اللہ کے نام پر کسی غیر مشروع اور حرام مال کو مسجد میں لگا کر یا حرام مال سے مسجد بنواکر یہ سوچیں کہ ہم نے بہت بڑا کام کردیا ہے چونکہ صحیح منزل تک پہونچنے کے لئے صحیح راستہ کا انتخاب بھی ضروری ہے کبھی غلط راستہ اور ٹیڑھی راہ ہمیں منزل مقصود تک نہیں پہونچا سکتی،ساتھ ساتھ مسجد والے بھی متقی،خدا والے اور با کرامت شخصیات ہونے چاہئیں۔
اس کے بر عکس اگر مسجد بنانے والے جابر اور سلطان ہوں اور نمازی جاہل اور ڈرپوک اور خادم بے حال افراد ہوں تو مسجد اپنے اصلی ہدف کو جو معنویت کا چراغ جلانا ہے اس سے دور ہو جائے گی،لہذا مسجد میں جانے کے ساتھ ساتھ مقصد مسجد کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔چنانچہ تفسیر صافی میں مرحوم فیض کاشانی سے نقل ہوا ہے کہ مسجد کی تعمیر کا مطلب اس کی مرمت نظافت ،فرش بچھانا ،روشنائی پیدا کرنا ،تدریس اور تبلیغ کرنا ہے۔
اور ایک حدیث میں رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا«اِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْھَدُوْالَهٗ بِالْاِیْمَانِ »۔(۲)
ترجمہ:جیسے ہی آپ دیکھیں کہ کوئی شخص مسجد میں آتا جاتا ہے توآپ اس کے ایمان کی گواہی دیں۔
جو لوگ مسجد میں رفت و آمد رکھتے ہیں ان کے لئے احادیث میں بہت سارے فوائد ذکر ہوئے ہیں من جملہ دینی دوست اور بھائی کا مل جانا، مفید معلومات کا حاصل ہونا ارشاد و ہدایت ہونا اور گناہ سے دوری، خدا کی نعمت اور رحمت سے مستفید ہونا یہ سب مسجد میں جانے کے فوائد ہیں۔(۳)
نیز اس آیت کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ ایمان، عمل سے ہرگز جدا نہیں ہوتا:«آمَنَ۔۔۔وَاَقَامَ»نماز،زکات سے الگ نہیں:«اَقَامَ الصَّلَاۃَ وآتیَ الزَّکَاۃَ»اور مسجد انقلاب سے الگ نہیں ہے«مَسَاجِدُ اللّٰہِ۔۔۔وَلَمْ یَخْشَ»۔
چونکہ مسجدیں روی زمین پر اللہ کے گھر ہیں اسی وجہ سے مسجدوں کا خاص اکرام و احترام ہونا چاہیئے چونکہ روایات میں مسجد کا احترام کرنے والوں کے لئے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص)‏ مَنْ أَسْرَجَ‏ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ سِرَاجاً لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ وَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ مَا دَامَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ ضَوْءٌ مِنَ السِّرَاجِ»۔(۴)
.ترجمہ:رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا:اگر کوئی کسی ایک مسجد میں چراغ جلائے تو اللہ کے مقرب فرشتے اور حاملان عرش اس وقت تک اس کے لئے استْغفار کرتے ہیں جب تک مسجد میں وہ چراغ روشن ہے۔
اور اسی طرح مسجد کا احترام کرنے والوں کو دوسرا انعام یہ دیا جائے گا:«قال الامام علی (ع): مَنْ وَقَّرَ مَسْجِداً لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ ضَاحِكاً مُسْتَبْشِراً وَ أَعْطَاهُ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ»۔(۵)
ترجمہ:حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:جو شخص مسجد کے احترام کا پاس و لحاظ رکھے گا وہ قیامت کے دن اللہ سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ حالت خوشی میں ملاقات کرے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص):‏ مَنْ أَحَبَ‏ أَنْ لَا يُظْلَمَ لَحْدُهُ‏ فَلْيُنَوِّرِ الْمَسَاجِد»۔(۶)
ترجمہ:رسول اللہ(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی قبر میں اندھیرا نہ ہو اسے مساجد میں روشنی کرنی چاہیئے۔
قارئین کرام! یہ وہ احادیث تھیں کہ جو احترام و اکرام مسجد کے متعلق آپ کی خدمت میں عرض کی گئیں اب سوال یہ ہے کہ آج چراغ کا دور تو گذر چکا ہے یعنی اب روشنی کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں تو کیا ہمیں ابھی بھی مساجد کو اسی سابق طریقہ پر روشن و منور رکھنا چاہیئے؟
در حقیقت روایات میں لفظ سراج کنایۃ استعمال ہوا ہے چونکہ پہلے زمانے میں چراغ کے ذریعہ روشنی کی جاتی تھی جبکہ آج کے دور میں لائیٹ نے اس کی جگہ لے لی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ توبہ:۱۸۔
۲۔تفسیر در المنثور،تفسیر سورہ توبہ۔
۳۔وسائل الشیعہ و تفسیر در المثور۔
۴۔من لا يحضره الفقيه،ج‏1 ، 237 ، باب فضل المساجد و حرمتها و ثواب من صلى فيها ….. ص: 228۔
۵۔بحار الانوار،ج84،ص 16۔
۶۔مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل؛ ج‏3؛ ص386۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16