Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190381
Published : 7/11/2017 18:14

کربلائی خواتین کا جہاد

حماسہ کربلا کا سب سے عظیم ،سخت و مشکل کام عاشورا کے بعد یہ تھا کہ جس مقصد کے لئے یہ سب کچھ ہوا اس مقصد کو لوگوں تک پہونچایا جائے اور یہ اس حماسہ کا سب سے حساس پہلو ہے کہ خواتین کے کاندھوں پر یہ عظیم کام آیا،اور ان خواتین نے اس طرح اس پیغام کو پہونچایا کہ رہتی دنیا تک اسلام ان کا ممنون و مشکور رہے گا۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! کربلا ہمارے لئے درسگاہ ہے اس کی ہرچیز ہمارے لئے مشعل راہ ہے،ہر انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت،بوڑھا ہو یا جوان اگر عبرت اور سبق لینے کی غرض سے کربلا کا مطالعہ کرے تو اسے بہترین نمونے مل جائیں گے آئیے ہم بات کرتے ہیں کہ کربلا میں روز عاشورا یا بعد عاشورا ،خواتین نے کون سے کام انجام دیئے؟ تو ہم مختصر طور پر کربلا میں خواتین کے جہاد کی صرف جھلکیاں پیش کررہے ہیں۔
۱۔مردوں میں شوق جہاد و شہادت کو پروان چڑھانا
۱۔کربلا کے عظیم حماسہ میں بعض مردوں کا حاضر و شریک ہونا خواتین کے عزم پیہم کا  مرہون منت ہے اگر یہ خواتین اپنے مردوں کو محاذ حق پر باطل کے خلاف جہاد کرنے کے لئے آمادہ نہ کرتیں اور انھیں فرزند زہرا(س) کی نصرت کے لئے تیار نہ کرتیں تو شاید وہ اس مقام پر نہ پہونچ پاتے جہاں وہ پہونچے اور اسی طرح قافلہ حسینی کی خواتین کا صبر و استقامت اور اپنے عزیزوں کے فراق میں جوانمردی کا مظاہرہ اپنی مثال آپ ہے،لہذا ہمارے معاشرے میں بھی خواتین اہم کردار ادا کرسکتیں ہیں،اپنے مردوں اور بچوں کو دینداری دین شنانسی اور حق کی حمایت کے لئے وادار کرسکتی ہیں کربلا سے الہام لے کر آج کی خواتین اپنے معاشرہ کو خیر و سعادت کی ڈگر پر لگا سکتیں ہیں،حق و باطل کے محاذ آج بھی برپا ہے اور وہی جوانمرد حق کا ساتھ دیتے ہیں اور باطل کے خلاف نبرد آزما ہوتے ہیں جن کے گھروں کی عورتیں انھیں ترغیب دلاتی ہیں۔
۲۔ہر مصیبت کے مقابل صبر و استقامت کا مظاہرہ
کربلا کی خواتین کی دوسری خصوصیت ان کی استقامت تھی اگرچہ وہ اپنے عزیزوں کو کھو چکی تھیں اور ایسے حساس موقعوں پر خواتین جلد جذباتی اور حساس ہوجاتی ہیں لیکن وہ سورما اور دلاور خواتین ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے موقف یعنی نصرت دین سے پیچھے نہیں ہٹیں بلکہ انھوں نے دوسری خواتین اور لوگوں کی ڈھارس بندھائی چنانچہ ارباب مقاتل رقمطراز ہیں کہ جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو علی اکبر(ع) کی شہادت کی خبر ملی شہزادی کےلب پر یہ صدا تھی:«واحبیباه و ابن أخیاه....» اے میرے پیارے اے میرےبھتیجے! لیکن آپ اس حالت میں بھی امام حسین(ع) کو تسلی اور حضرت کی ڈھارس کے لئے گئیں۔
کربلا کے یہ کردار آج کی خواتین کے لئے عبرت ہیں اگر راہ خدا میں تمہارے مرد مشکلات و مصائب میں چاروں طرف سے گھر جائیں تو ان کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ انھیں تسلی دیں ان کی ڈھارس بندھائیں۔
۳۔امامت و ولایت کا دفاع
کربلا کے حماسہ میں موجود خواتین کی گفتار و کردار سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے امامت و ولایت کے دفاع میں کسی قربانی سے دریغ نہ کیا چنانچہ جب شمر امام حسین(ع) کے سر مبارک کو جسم اقدس سے جدا کرنا چاہتا تھا حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا امام علیہ السلام کی جان کے نجات کے لئے یا اتمام حجت کے لئے عمر سعد کو خطاب کرتی ہیں:اے پسر سعد میرا بھائی قتل ہورہا ہے اور تو دیکھ رہا ہے؟
اور اسی طرح ابن زیاد کے دربار میں جب وہ علی ابن الحسین(ع) کو قتل کرنا چاہتا تھا حضرت زینب(س) ابن زیاد کے اس اردے کے درمیان حائل ہوئیں اس طرح کہ ابن مرجانہ کو خطاب کرتےہوئے فرمایا:تو نے ابھی تک ہمارا جتنا خون بہایا ہے کیا یہ کافی نہیں ہے؟خدا کی قسم میں اس سے ہرگز جدا نہ ہونگی یہانتک کہ پہلے مجھے قتل کردے۔شہزادی کا یہ خطاب سن کر ابن زیاد اپنے ارادے سے منصرف ہوگیا۔
۴۔مقصد کربلا کی تبلیغ
حماسہ کربلا کا سب سے عظیم ،سخت و مشکل کام عاشورا کے بعد یہ تھا کہ جس مقصد کے لئے یہ سب کچھ ہوا اس مقصد کو لوگوں تک پہونچایا جائے اور یہ اس حماسہ کا سب سے حساس پہلو ہے کہ خواتین کے کاندھوں پر یہ عظیم کام آیا،اور ان خواتین نے اس طرح اس پیغام کو پہونچایا کہ رہتی دنیا تک اسلام ان کا ممنون و مشکور رہے گا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16