Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190384
Published : 8/11/2017 8:33

اگر حزب اللہ نہ ہوتی اسرائیل بہت پہلے لبنان پر قبضہ کرچکا ہوتا:سابق لبنانی صدر

لبنان کے سابق صدر امیل جمیل لحود نے اپنے انٹریو میں یہ بھی کہا کہ:سعد حریری کے لبنان لوٹنے اور ان کی بات سننے سے پہلے ان کا استعفٰی کو قبول نہیں کیا جاسکتا،اور جو کچھ آجکل سعودی عرب کے اندر رونما ہورہا ہے وہ بہت بڑے فتنہ کا پیش خیمہ نظر آتا ہے۔


ولایت پورٹل:المیادین کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے سابق صدر امیل جمیل لحود نے ایک انٹریو میں کہا ہے کہ اگر حزب اللہی جوانوں کی فداکاریاں نہ ہوتیں تو اسرائیل اب تک پورے لبنان کو اپنے قبضہ میں لے چکا ہوتا نیز انھوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ سعودی عرب میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ایران پر حملہ کرسکے۔
لبنان کے سابق صدر نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ:مشل عون کی صدارت کے دور میں لبنان کے صدر کے اختیارات پہلے سے کہیں بہتر ہوئے ہیں اور مجھے جرود کے عرسال شہر میں داعش و جبہ النصرة کی شکست کے بعد ہی سے اسرائیل کے منفی پیروپگنڈوں کا خدشہ تھا،لہذا لبنانی قوم کو اپنے داخلی فتنوں کی آگ سے دامن بچانے کی سخت ضرورت ہے چونکہ اسرائیل کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ لبنان میں خانہ جنگی اور فرقہ واریت کو فروغ دے۔
لبنان کے سابق صدر امیل جمیل لحود نے اپنے انٹریو میں یہ بھی کہا کہ:سعد حریری کے لبنان لوٹنے اور ان کی بات سننے سے پہلے ان کا استعفٰی کو قبول نہیں کیا جاسکتا،اور جو کچھ آجکل سعودی عرب کے اندر رونما ہورہا ہے وہ بہت بڑے فتنہ کا پیش خیمہ نظر آتا ہے۔
انھوں نے اس امر کی بھی تاکید کی کہ اگر حزب اللہ اور مقاومت کے جوانوں کی فداکاریاں و قربانیاں نہ ہوتیں اسرائیل لبنان پر قبضہ جماچکا ہوتا،چونکہ اسرائیل تو ہر حال میں سعودی عرب سےطاقتور ہے لیکن حزب اللہ کے سامنے اس کے بھی گھٹنے ٹک گئے، سعودی عرب تو بہت کمزور ملک ہے وہ اپنے داخلی مسائل میں اتنا الجھ چکا ہے کہ اب اس کا باہر آنا مشکل معلوم ہوتا ہے،اسے اپنی فکر کرنی چاہیئے ،ایران پر حملہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔

ٹی نیوز



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20