Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190405
Published : 11/11/2017 16:5

امام حسین(ع) کے گنبد پر صرف سرخ رنگ کا پرچم ہی کیوں؟

جب سے یہ لال رنگ کا خوبصورت پرچم امام حسین(ع) کے گنبد پر لگا ہے یہ ہم کو سبق دے رہا ہے کہ حضرت کے قاتلین اور کفار کے ساتھ آج تک جنگ جاری ہے اور ظہور امام زمانہ(عج) کہ جو خون امام حسین(ع) کے اصلی منتقم ہے جاری رہے گی۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! خونخواہی،انتقام اور قصاص جیسے الفاظ سے تو آپ واقف ہی ہیں۔انتقام یعنی اگر کسی بے گناہ شخص کا مظلومانہ اور بہیمانہ قتل کردیا جائے تو اس کے ورثاء کو  دین نے یہ حق دیا ہے  اس کے خون کا بدلہ لیں،تقریباً انتقام کی رسم تمام اقوام عالم کے درمیان ہمیشہ سے رہی ہے انھیں میں سے عربوں کے درمیان بھی یہ روایت موجود تھی کہ وہ اپنے مقتول کا انتقام لیتے تھے لیکن اگر کسی شخص کے قاتل سے اس  بنحو احسن  انتقام نہ لیاجاسکا ہو تو ایک سرخ پرچم اس کی قبر پر لگادیا جاتا تھا لہذا حضرت امام حسین(ع) کی قبر مطہر پر سرخ رنگ کا پرچم اسی وجہ سے ہے کہ ابھی تک آپ کے خون کا بنحو احسن انتقام نہیں لیا جاسکا ہے۔
چنانچہ وہ زیارت جو حضرت امام جعفر صادق(ع) نے «عَطِیّه»  کو تعلیم فرمائی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ:سید الشہداء علیہ السلام کا اللہ کے ساتھ رابطہ اتنا عمیق ہے کہ گویا حضرت کا خون بالکل ویسے ہی ہے جیسے قبیلہ خدا کی کسی فرد کا خون بہا دیا گیا ہو۔(در واقع امام علیہ السلام نے استعارۃً ایسا فرمایا ہے ورنہ خدا تو لم یلد و لم یولد ہے چونکہ امام حسین(ع) مقام رضوان الہی پرفائز اس کی صفات کے مظہر اتم ہیں اس وجہ سے یہ تعبیر ارشاد فرمائی) اور اولیاء الہی کے انتقام لئے بغیر اس کا قصاص ادا نہیں ہوسکتا(ر. ک: مجلسی، بحار الانوار، ج۹۸، ص۱۴۸ و ۱۶۸)  پس یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسین(ع) کو «ثار اللہ» یعنی خون خدا کہا جاتا ہے اور حضرت کے خون کا انتقام لینے والوں کو «لثارات» کہا جاتا ہے۔
پس امام حسین(ع) کے پرچم کا رنگ سرخ اس وجہ سے ہے تاکہ دنیا کو یہ پتہ رہے کہ حضرت امام حسین(ع) کے خون کا انتقام لینے والا خود خدائے متعال ہے اور حضرت کا خون کبھی فراموش نہیں کیا جائےگا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ لال رنگ امام حسین(ع) کے تمام عاشقوں اور شیداؤں کو متنبہ کرنے کے لئے ہے کہ دیکھیں ان کے امام کو کس مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا ہے لہذا حضرت کی طرح راہ خدا میں ہمیشہ جانفشانی کے لئے آمادہ رہیں۔
جب سے یہ لال رنگ کا خوبصورت پرچم امام حسین(ع) کے گنبد پر لگا ہے یہ ہم کو سبق دے رہا ہے کہ حضرت کے قاتلین اور کفار کے ساتھ آج تک جنگ جاری ہے اور  ظہور امام زمانہ(عج) کہ جو خون امام حسین(ع) کے اصلی منتقم ہے جاری رہے گی۔
اسی وجہ سے ہم دعائے ندبہ میں یہ جملہ پڑھتے ہیں:«این الطالب بدم المقتول بکربلا»؛اے کربلا کے مقتول کا انتقام لینے والے،آپ کہاں ہیں؟چونکہ آپ(عج) ہی امام حسین(ع) کے خون ناحق  کے متقم ہیں  اور قیامت تک یہ پرچم انتقام اسی طرح حضرت کے دست ہای مبارک میں رہے گا۔اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی ہمیں امام زمانہ(عج) ناصرین میں شمار فرمائے تاکہ ہم بھی حضرت(عج) کی معیت میں سید الشہداء(ع) کے خون ناحق کا انتقام لے سکیں۔

http://bashiran.ir

  ترجمہ:سجاد ربانی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15