Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190407
Published : 11/11/2017 18:29

سیٹلائٹ پروگرامز اور تہذیبی یلغار

ایک معاشرہ کی تہذیب اس کے ہزاروں سال کے تلخ و شرین تجربات کا ماحصل شمار ہوتی ہے اور یہی تہذیب ہے کہ جو ایک معاشرہ کے خدو خال سنوارتی ہے اور دوسرے معاشرے کی نسبت اسے ممتاز بناتی ہے لہذا یہ تہذیبی فضا اور تمدنی سایہ ہمارے ماحول کی فضا کی مانند ہمارا ہر آن احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں۔چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ اس کی تاثیر سے انکار نہیں کرسکتے۔

ولایت پورٹل:تہذیب و کلچر گذشتہ نسل  کی ہزاروں برسوں کی فکری ،صنعنی اور ہنری کوششوں اور کاوشوں کا ماحصل ہوتی ہے اور ہر نسل اپنے کلچرل اور تہذیبی ذخیروں اور زندگی کے تجربوں کو مختلف طریقوں سے بعد میں آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کرتی ہے اور اسی طرح آنے والی نسلیں ان تجربوں میں اضافہ کرکے اپنے بعد والی نسلوں کے حوالہ کرتی ہیں لہذا یہ سلسلہ ہمیشہ سے تاریخ کے ساتھ ساتھ جاری و ساری ہے،جس طرح ایک فرد کی شخصیت  اس کے انفرادای تجربات کا ماحصل اور دوسروں سے اس کے امتیاز کا سبب ہوتی ہے اسی طرح ایک معاشرہ کی تہذیب  اس کے ہزاروں سال کے تلخ و شرین تجربات کا ماحصل شمار ہوتی ہے اور یہی تہذیب ہے کہ جو ایک معاشرہ کے خدو خال سنوارتی ہے اور دوسرے معاشرے کی نسبت اسے ممتاز بناتی ہے لہذا یہ تہذیبی فضا اور تمدنی سایہ ہمارے ماحول کی فضا کی مانند ہمارا ہر آن احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں۔چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ اس کی تاثیر سے انکار نہیں کرسکتے۔
جس طرح دوسری گرانقدر چیزیں راہزنوں  اور لٹیروں کے خطرات کی زد پر رہتی ہیں  اسی طرح تہذیب بھی ہمیشہ معرض خطر میں رہی ہے اور خصوصاً گذشتہ چند صدیوں سے طاقتور اور استعماری ممالک دنیا کی تہذیبوں کو دو وجوہات کی بنیاد پر برباد کرنے کی درپئے ہیں۔
۱۔سیاسی و اقتصادی منافع کا حصول
کسی قوم کے مقدر کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے سامراجیت ان کے مادی و معنوی منابع کو اپنے فوائد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس راہ میں ان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ان کی تہذیب اور تمدن ہوتی ہے لہذا ان کی سب سے پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ مختلف بہانوں سے خصوصاً جاذب نظر سیٹلائٹ  پروگرامز کے ذریعہ ان کے تہذیب کو گھٹیا اور صعیف جبکہ اپنی تہذیب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اس طرح ان ممالک کے باشندے اپنی تہذیب سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں  اور آہستہ آہستہ اجنبی تہذیب کو اپنا لیتے ہیں،چونکہ کوئی بھی انسان تہذیب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
۲۔مغربی اور امریکی تہذیب کو عالمی تہذیب کے طور پر پیش کرنا
گذشتہ چند برسوں میں سامراجی ممالک کے حکام کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ پوری دنیا کی تہذیب کو مغربی تہذیب کے سانچہ میں ڈھال دیں، لہذا وہ اپنے نظریہ پر عمل در آمد کے لئے ،سیاسی،تبلغاتی اور صنعتی وسائل کے علاوہ ایک شبہ کے طور پر بھی دوسروں کی تہذیب کو نشانہ بناتے ہیں مثلاً مارشل میک لوان(Marshal McLuhan) کا گلوبل ولیج(global village) اور اس طرح کے دوسرے مغربی اسکالرز کے نظریات اس پروگرام کا ایک حصہ ہیں جن کی کوشش یہ ہے کہ مغربی تہذیب کی ترویج کے لئے میدان ہموار کردیا جائے اور اپنی تہذیب کے لئے ممکنہ حساسیت کو ختم کردیا جائے،لہذا دشمن کی اس تہذیبی یلغار کے سبب پہلے تو لوگوں میں اپنی تہذیب کے تئیں شک و تردید ایجاد ہوجاتی ہے اور پھر اس کے بعد اجنبی تہذیب کو اپنانے کی آمادگی ظاہر ہونے لگتی ہے لہذا یہ کوئی حادثاتی طور پر ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ دشمن کی سیٹلائٹ  اور ٹی وی چینلز کے ذریعہ ہر روز القاء ہونے والی فکر ہے جو  منظم طور پر ہم تک پہونچائی جارہی ہے۔
آشکار دشمن کا خفیہ حملہ
ہم جس دور میں زندگی گذار رہے ہیں یہ الیکٹرانیک مواصلاتی ذرائع کا دور ہے  کہ جس میں انسان کی زندگی پر مواصلاتی سسٹم کا قبضہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہزاروں ٹی وی اور ریڈیو چینلز دن رات عام لوگوں کے عقائد و افکار کو تبدیل کررہے ہیں،چنانچہ مغربی تہذیب نے سکولیزم  کی ترویج و تبلیغ کے لئے ہزاروں چینلز لانچ کئے ہیں جو دن رات کسی نہ کسی صورت اپنی فعالیت کررہے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ممالک میں ایسے پروگرامز اور چینلز تک پہونچنا بہت آسان ہے اور جب سیٹلائٹ  کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے تہذیب کے منافی امور ہی انسان کی توجہات کا مرکز ہوتے ہیں پھر اس کے بعد سیاسی اور اقتصادی پروگرامز،لہذا ان چینلز کی وساطت سے ہم اور ہمارا پورا معاشرہ کسی نہ کسی صورت مغربی باطل افکار کی زد میں آچکا ہے کہ جن کا مقصد لوگوں کو اسلام کی اصلی تعلیمات سے دور کرنا اور انھیں بے عمل بنانا ہے  اگرچہ یہ عمل چیونٹی کی چال چل رہا ہے لیکن ان کا مقصد مسلمانوں کے عقائد کو نشانہ بنانا ہے ۔
آج کل ہمارے معاشرے کے اکثر لوگ اپنے دن رات کا بہت سا وقت سیٹلائٹ چینلز پر مخصوص پروگرام دیکھنے میں بسر کرتے ہیں  اور یہی امر آج ہمارے اکثر گھروں کے عائلی نظام کو درہم برہم کررہا ہے اور بعض ماہرین کے مطابق  آج کے اکثر لوگ سادہ چینلز اور ریڈیو پروگرامز کو اپنی ضرورتوں کے پوری کرنے کے لئے کافی  نہیں جانتے لہذا ہمیشہ اسی فکر میں ہیں کہ کس طرح باہر کی دنیا سے رابطہ ہوجائے۔
ایک معاشرتی علوم کے ماہر جوانوں پر سیٹلائٹ کے منفی اثرات کے بارے میں کہتے ہیں کہ:اگرچہ سیٹلائٹ پروگرامز کے درمیان علمی اور فائدہ مند پروگرامز بھی موجود ہیں ،لیکن آج کے اکثر جوان سیٹلائٹ کے علمی اور فائدہ مند پروگرامز کے تشنہ نہیں ہیں بلکہ وہ گندے اور مستہجن پروگرامز دیکھنے کے لئے سیٹلائٹ چینلز کا استعمال کرتے ہیں کہ جن میں جوان نسل کے انحراف اور اخلاقی انحطاط کا زمینہ فراہم رہتا ہے۔
پیغمبر اکرم(ص) کا یہ قول ہمارے زمانہ پر بلکل منطبق ہوتا ہوا نظر آتا ہے:«کیف بکم اذا رأیتم المنکر معروفا»؛اس وقت تمہارا کیا ہوگا جب تمہیں بری چیز اچھی اور ناپسند چیز پسندیدہ معلوم ہوگی۔
برائی کی ترویج میں سیٹلائٹ کا کردار
اس بات میں کوئی شک نہیں ہےکہ سیٹلائٹ  کے ذریعہ غیر مناسب اور عریاں تصاویر کو اپلوڈ کرنا اور انھیں نشر کرنا،جوانوں کو فساد و لاابالی پن کی طرف لانے کا ایک اہم سبب ہے،چونکہ دینی تہذیب اور اسلامی کلچر اور معنویات کی ترویج کرنا دشمن کے مقاصد کے مقابل سب سے بڑی رکاوٹ ہے  لہذا انھیں کوئی اہمیت نہ دیکر نامناسب چیزوں کی ترویج کرنا جوانوں کے اعتقادات میں خلل اور اپنی حقیقت سے عاری کرنے کی زبردست کوشش ہے۔  
لہذا قرآن مجید معاشرہ کے اندر برائی کو پھیلانے والوں کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:جو باایمان لوگوں کے درمیان برائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لئے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور خداوندعالم جانتا ہے اور تم واقف نہیں ہو۔
پس جس طرح  سیٹلائٹ کے پروگرامز اخلاقی اور الہی اقدار کو پامال کرتے ہیں اسی طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ وسیلہ کے طور پر بلند انسانی اخلاق کو پیش کرکے معاشرہ کی بہت بڑی خدمت بھی  کرسکتے ہیں  اگرچہ اکثر سیٹلائٹ نے فساد و برائی کو عام کرنے اور جوانوں کو برباد کرنے کا ہی زیادہ کام کر رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15