Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190413
Published : 12/11/2017 16:48

غیبت(چغلی)کے متعلق آیت اللہ سیستانی کا بہترین جواب

اگر کسی کے عیب بیان کرنے والا یہ جانتا ہے کہ میں جس کا عیب بیان کررہا ہوں وہ اس سے ناراض نہیں ہوگا تب بھی کسی کے پوشید عیب کو بیان کرنا غیبت کے مصادیق میں سے ہے اور غیبت کرنا ہر حال میں حرام ہے۔


ولایت پورٹل:حضرت آیت الله العظمی سیستانی سے غیبت(چغلی) کے متعلق دریافت کیا گیا جس میں آپ نے نہایت ہی مختصر لیکن جامع جواب مرحمت فرمایا۔
سوال یہ تھا کہ اگر کسی شخص کے عیب یا کمی کو کسی دوسرے کے سامنے بیان کیا جائے اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گا اور ہم سے راضی ہے تو کیا تب بھی اس کا عیب کسی کے سامنے بیان کرنا گناہ ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمٰی سیستانی نے فرمایا:جس شخص کی غیبت(چغلی) کی جارہی ہے اس کے راضی ہونے سے غیبت کرنے کی حرامت زائل نہیں ہوگی لہذا اگر کسی کے عیب بیان کرنے والا یہ جانتا ہے کہ میں جس کا عیب بیان کررہا ہوں وہ اس سے ناراض نہیں ہوگا تب بھی کسی کے پوشید عیب کو بیان کرنا غیبت کے مصادیق میں سے ہے اور غیبت کرنا ہر حال میں حرام ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15