Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190414
Published : 12/11/2017 17:13

شہیدان کربلا کی عظمت کا راز دشمن سے خائف نہ ہونا اور فریضہ الہی پر عمل کرنا ہے:رہبر انقلاب

یہ لوگ فریضے کو محسوس کرتے ہوئے جو کہ راہ خدا اور دین کے لئے جہاد تھا، دشمن کی کثرت سے خائف نہ ہوئے اور اپنے اکیلے پن سے گھبرائے نہیں، انہوں نے اپنی تعداد کی قلت کو دشمن سے مقابلہ نہ کرنے کو جواز قرار نہیں دیا۔ یہ ہے جو ایک آدمی کو، ایک رہبرو و رہنما اور ایک قوم کو عظمت و بزرگی عطا کرتا ہے۔


ولایت پورٹل:مظلومیت کا معنٰی،حقارت و ذلت نہیں ہے،بلکہ عزت کے ساتھ اپنے حق موقف پر ڈتے رہنا چاہے اس راہ میں جان کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے،امام حسین(ع) تاریخ اسلام کے سب سے بڑے سورما اور مجاہد ہیں، کیونکہ وہ ایسے میدان میں کھڑے ہوئے اور خوف نہ کھاتے ہوئے مجاہدت کی،اسی کے ساتھ یہ عظیم ہستی اپنی عظمت کے لحاظ سے مظلوم بھی ہے،جس قدر بزرگ اور عظیم ہیں اسی قدر مظلوم بھی ہیں اور غریب الوطنی میں شہادت بھی پائی ہے،فرق ہے اس فداکار و ولولہ انگیز جوان کے درمیان جو میدان جنگ میں جاتا ہے اور لوگ بھی اس کے نام کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کی قدردانی کرتے ہیں، میدان کے ارد گرد اسی کی طرح ولولہ انگیز لوگوں کا مجمع ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر وہ زخمی یا شہید ہوگیا تو لوگ کس جوش و جذبہ سے اس کی ہمت افزائی کریں گے اور وہ دوسرا آدمی جو کہ غریب الوطنی میں دشمن کے پروپیگنڈوں کی وسعت کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ قضائے الٰہی کے آگے سر جھکا دیتا ہے اور راہ خدا میں مارے جانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے، شہیدان کربلاء کی عظمت یہ ہے یعنی یہ لوگ فریضے کو محسوس کرتے ہوئے جو کہ راہ خدا اور دین کے لئے جہاد تھا، دشمن کی کثرت سے خائف نہ ہوئے اور اپنے اکیلے پن سے گھبرائے نہیں، انہوں نے اپنی تعداد کی قلت کو دشمن سے مقابلہ نہ کرنے کو جواز قرار نہیں دیا۔ یہ ہے جو ایک آدمی کو، ایک رہبرو و رہنما اور ایک قوم کو عظمت و بزرگی عطا کرتا ہے:(اور یہ سبق دیتا ہے کہ)دشمن کی خالی اور کھوکھلی عظمت سے ہراساں نہیں ہونا چاہیئے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16