Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190416
Published : 12/11/2017 17:10

مودت اہلبیت(ع)فطرت کا لازمی جزء

اگر روایتوں میں شیعوں کا تعارف اہلبیت(ع) کے دین ومذہب کو قبول کرنے کے لئے منتخب شدہ قوم کے طور پر کرایا گیا ہے تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ جو شخص بھی حق پسندی کی روح کو اپنے اندر زندہ کرلے اور تعصب کی عینک اتار دے تو حق پسندی کی یہی روح اسے تشیع اور محبت اہلبیت(ع) کی طرف کھینچ کرلے آئے گی۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! جیسا کہ آپ نے بارہا رسول اکرم(ص) کی یہ مبارک حدیث ضرور پڑھی یا سنی ہوگی جس میں سرکار نے ارشاد فرمایا:کل مولود یولد علی الفطرۃ؛یعنی ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی لوگوں کے اندر روح الٰہی پائی جاتی ہے جو محمد وآل محمد(ص)کے نور کی تجلی ہے یعنی ان کے باطن میں ایک ایسی چیز ہے جو پیغمبر اکرم(ص) کے دین اور آل محمد(ص) کی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہے،خداوند عالم نے بھی فرمایا ہے کہ میرا دین فطری ہے جیسا کہ ارشاد ہے:«فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللّٰهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیھَا لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذَالِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُون»۔( سورہ روم: آیت ۳۰)آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے،یقیناً یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے۔
قرآن مجید کی اس گواہی کے مطابق تمام انسانوں کی خلقت اور دین اسلام میں اور رسولخدا(ص) و آئمہ معصومین(ع) کے تعلیمات کے درمیان ہم آہنگی اور یک رنگی پائی جاتی ہے،جو شخص بھی اس دین پرعمل کرتا ہے اس کی فطرت زیادہ فعّال ہوجاتی ہے اور اس میں مزید نکھار آجاتا ہے اور کیونکہ یہ فطرت حضرات محمد وآل محمد(ص) کی تجلّی بھی ہے اس لئے وہ ان سے مزید نزدیک ہو جاتا ہے اور جب وہ دین کے فطری احکام کو قبول کرکے ان پر عمل کرتا ہے تو یہ قربت مزید بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ دینی احکام پر عمل کرنے کی وجہ سے اس کا کردار ان کے کردار سے اور ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جیسے ہی لوگوں کو حقیقی اسلام(نہ کہ وہابیت جیسے فرضی، جعلی،اور امریکی اسلام)کے بارے میں صحیح اطلاعات حاصل ہوتی ہیں ان کے دل میں تیزی کے ساتھ محمد وآل محمد(ص) کی محبت خود بخود اترتی چلی جاتی ہے،حقیر نے اپنے تبلیغی دوروں کے درمیان ملک کے اندر اور بیرون ملک ایسے متعدد نو مسلموں کو دیکھا ہے جو حیرت انگیز حد تک محبت محمد وآل محمد(ص) سے سرشار تھے،اگر پیغمبر اکرم(ص)،اہلبیت(ع) اور انسانوں کا کوئی قلبی رابطہ اور لگائو نہ ہوتا تو ایسے افراد کے دل میں ایسی والہانہ محبت وہ بھی اتنی جلدی پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں تھا،ان نو مسلموں کے دل میں ایسی محبت ومودت موجزن ہوتی ہے جو انہیں جانثاری اور شہادت طلبی کی سرحدوں تک پہنچا دیتی ہے۔
اس بنا پر اگر روایتوں میں شیعوں کا تعارف اہلبیت(ع) کے دین ومذہب کو قبول کرنے کے لئے منتخب شدہ قوم کے طور پر کرایا گیا ہے تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ جو شخص بھی حق پسندی کی روح کو اپنے اندر زندہ کرلے اور تعصب کی عینک اتار دے تو حق پسندی کی یہی روح اسے تشیع اور محبت اہلبیت(ع) کی طرف کھینچ کرلے آئے گی۔
تمام انسانوں کے باطن میں کہیں نہ کہیں اہلبیت(ع) کا وجود ہے،شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنے فطری خمیر سے غبار دور کریں اور روح الٰہی کو کچھ مضبوط کرلیں تاکہ مودت محمد وآل محمد(ص) ان کے وجود میں زندہ ہوجائے اور ان کے نور کی کرن اس کے وجود سے پھوٹ کر نکلنے لگے۔ اور جو شخص بھی اس راستے میں کامیاب ہو جائے گا وہ شیعہ بن جائے گا یعنی اس کی الٰہی اور فطری روح اس کی حیوانی اور طبیعی روح پر حاکم ہو جائے گی،وہ اہلبیت(ع) کے دین ومذہب اور ان کی حکومت کو قبول کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور نااہل اور باطل حکام سے یکسر کنارہ کش ہوکر اور تعلیم الٰہی سے آراستہ وپیراستہ ہونے کے بعد ہادیان برحق کو اپنا نمونہ بنا کر اس دین کی پابندی کرے گا۔
مختصر یہ کہ تمام انسانوں کے اندر کیونکہ اہلبیت(ع) کا پرتو اور فطرت الٰہی موجود ہے اس لئے دین حق میں ان کے داخلے کا راستہ کھلا ہو اہے،البتہ دین حق کو قبول کرنے کا دار و مداراس بات پر ہے کہ حقیقی دین محمدی(ص) کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کے بعد وہ تعصب کی عینک اتار کر کس قدر غیر جانبداری سے کام لیتے ہیں۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15