Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190417
Published : 13/11/2017 6:48

آل سعودی کی گود میں بیٹھ کر:

سعد حریری نے حزب اللہ اور ایران کے خلاف اگلا زہر،جبکہ سعودی کو بتایا لبنان کا سب سے بڑا حامی

انھوں نے یہ حزب اللہ پر لبنان میں تخریب کا الزام لگاتے ہوئے کہا:لبنان کے تئیں عربی ممالک کی مزید پابندیاں لبنان کے لوگوں کے فائدہ میں نہیں ہے،اگرچہ حزب اللہ کے ایک سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی مشکل نہیں ہے لیکن حزب اللہ کو لبنان کی تخریب میں شریک نہیں ہونا چاہیئے۔


ولایت پورٹل:رپورٹ کے مطابق اتوار کی رات کو لبنان کے سابق وزیر اعظم حریری نے استعفٰی دینے کے بعد پہلی بار وہ ٹی وی کی وساطت سے لبنانی عوام کے روبرو ہوئے ہیں،اور انھوں نے یہ انٹریو لبنان کے المستقبل ٹی وی کو دیا جس میں انھوں نے کہا:کہ آجکل جو کچھ خطہ میں چل رہا ہے وہ لبنان کے لئے بڑا خطرہ ہے اور میں نے ملک کی بہتری کے لئے ہی استعفٰی دیا ہے۔
انھوں نے یہ حزب اللہ پر لبنان میں تخریب کا الزام لگاتے ہوئے کہا:لبنان کے تئیں عربی ممالک کی مزید پابندیاں لبنان کے لوگوں کے فائدہ میں نہیں ہے،اگرچہ حزب اللہ کے ایک سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی مشکل نہیں ہے لیکن حزب اللہ کو لبنان کی تخریب میں شریک نہیں ہونا چاہیئے۔
حریری نے سعودی بادشاہ اور ولیعہد کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ:سعودی بادشاہ مجھے اپنے بیٹے جیسا سمجھتے ہیں اور یہاں کے ولی عہد بھی میرے لئے قابل احترام ہیں۔
سعد حریری نے ایران کو بھی عربی ممالک میں مداخلت کا ملزم ٹہرایا اور کہا:ہم ایران کے اس رویہ کے مخالف ہیں کہ وہ لبنان کو  عربی ممالک کی ضد کے طور پر استعمال کرے۔
یاد رہے کہ سعد حریری نے سعودی عرب پہونچ کر اپنے منصب سے استعفٰی دیا تھا اور جو ابھی تک سعودی عرب ہی میں ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ 2006 میں لبنان کے خلاف جنگ میں سعودی عرب نے ہی اسرائیل کا ساتھ دیا تھا جبکہ اس وقت سعد حریری کے لئے آل سعود کی گود میں بیٹھ کے ایران اور حزب اللہ کے لئے ہرزہ سرائی کرنا بہت آسان ہے۔


العالم


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15