Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190426
Published : 13/11/2017 17:25

اپنے بابا کے دور میں امام حسن(ع) کے سیاسی و ثقافتی کارنامے

بڑے افسوس کی بات ہے کہ امام علی علیہ السلام کو اسلام کی تبلیغ و نشر و اشاعت کا بہت کم وقت ہاتھ لگا چونکہ تقریباً ۵ برس میں ۳ بڑی جنگیں،جن میں ۱۸ مہینہ تک چلنے والی جنگ صفین،اگر دنیا اور اس وقت کے نادان علی علیہ السلام کو موقع دیتے حضرت اپنی تمام تر توجہ بلاد اسلامی کی تعمیر و ترقی اور علوی نظام کے صحیح خدو خال پیش کرنے میں صرف کرسکتے،لیکن افسوس! ایسا ممکن نہ ہوسکا۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام:امیرالمؤمنین علیہ السلام کی گوشہ نشینی،اہل بیت(ع) کے لئے بہت سخت دور تھا چونکہ یہ حضرات اپنی انکھوں سے پیغمبر اکرم(ص) کی زحمتوں کو برباد ہوتے دیکھ رہے تھے،نیز یہ بھی ملاحظہ کیا جاتا تھا کہ دین کیسے نالائق لوگوں کے ہاتھوں کا بازیچہ بنا ہوا ہے اور وہ اسے استعمال کرکے اپنی دنیاوی زندگی کو پررونق بنا رہے ہیں۔
لیکن اہل بیت(ع) کا گوشہ نشین ہوجانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ حضرات دین کی نسبت غیر جانبدار ہوگئے ہوں بلکہ اس زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر جتنا ممکن تھا لوگوں کی ہدایت و نجات کا کام کرتے رہے لہذا ہم اس مقالہ میں منصب امامت سے پہلے امام حسن علیہ السلام کی سیاسی ثقافتی کارناموں کا مختصر تعارف پیش کرنا چاہتے ہیں:
۱)لوگوں کو جنگ جمل میں شرکت کے لئے تیار کرنا
حکومت کرنے میں عثمان کا ضعف،بنی امیہ کو دوسروں پر فوقیت دینا،اور بیت المال میں خرد برد اور اپنے رشتہ داروں کو بے حساب عطا کرنا اور اس کے علاوہ دوسری مشکلات  کے سبب مدینہ اور دوسری جگہوں کے لوگوں نے عثمان کے خلاف بغاوت کی اور عثمان قتل ہوگئے اور پھر یہ امر خلافت علی(ع) کے پاس پہونچا اگرچہ علی علیہ السلام کی نظر میں عثمان کوئی عادل حاکم تو نہیں تھا لیکن آپ اس طرح فتنہ و فساد پھیلا کر اس کو قتل سے ناراض ضرور تھے،چونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ ایک بلوا نہ جانے کتنی مصبتیں عالم اسلام کے لئے وجود میں لانے کا سبب بنے گا۔
لیکن اپنے شفاف موقف کے باوجود کچھ بہانہ طلب افراد نے عائشہ کے ساتھ مل کر جنگ جمل کا نقشہ بنایا اور عثمان کا خونی پیراھن اٹھاکر فتنہ کی آگ کو بھڑکا دیا گیا،چنانچہ اس موقع پر امام حسن علیہ السلام نے اپنے بابا کا بھرپور تعاون کیا اور آپ کوفہ تشریف لے گئے وہاں تقریر فرمائی جس سے ایک عظیم لشکر تیار ہوکر علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہوا۔
۲)جنگ جمل میں شرکت
جیسا کہ تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ جنگ جمل میں امام علی علیہ السلام کے ہمراہ امام حسن بھی شانہ بہ شانہ موجود تھے اور مولا نے آپ کو میمنہ لشکر کا علمبردار بنایا تھا،اسی طرح آپ نے حضرت عائشہ کے اونٹ کو بھی نحر کیا جس کے سبب دشمن کا لشکر پراکندہ ہوگیا اس طرح وہ جنگ لشکر حق کے حصہ میں آئی۔
غرض امام حسن علیہ السلام اپنی امامت سے بھی پہلے امام علی علیہ السلام کے ہمراہ ویسے ہی تھے جیسے خود امام علی(ع) رسول خدا(ص) کے ساتھ تھے چنانچہ ہم حضرت امام حسن کے کارناموں کو فہرست وار شمار کرتے ہیں:
۳)جب جنگ جمل کا فتنہ ختم ہوگیا تو ابھی علی علیہ السلام نے ٹھنڈی سانس بھی نہیں لی تھی کہ معاویہ صفین کے لئے کود کھڑا ہوا اور ایسے میں اسے کے مقابلہ کے لئے امام حسن علیہ السلام بصرہ اور کوفہ تشریف لے جاتے تھے اور لوگوں کو نصرت امام کے لئے ترغیب دلاتے تھے۔
۴)جنگ صفین میں شرکت اور میمنہ لشکر کے سرداری
بڑے افسوس کی بات ہے کہ امام علی علیہ السلام کو اسلام کی تبلیغ و نشر و اشاعت کا بہت کم وقت ہاتھ لگا چونکہ تقریباً ۵ برس میں ۳ بڑی جنگیں،جن میں ۱۸ مہینہ تک چلنے والی جنگ صفین،اگر دنیا اور اس وقت کے نادان علی علیہ السلام کو موقع دیتے حضرت اپنی تمام تر توجہ بلاد اسلامی کی تعمیر و ترقی اور علوی نظام کے صحیح خدو خال پیش کرنے میں صرف کرسکتے،لیکن افسوس! ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
امام مجتبیٰ علیہ السلام کو جنگ صفین میں بھی لشکر کے میمنہ کی سپہ سالاری ملی،آپ نے بڑی شجاعت کے ساتھ تلوار چلائی۔
۵)واقعہ حاکمیت کے بعد امام علی(ع) کے ترجمان
صفین کی جنگ طولانی ہوتی جارہی تھی،علی(ع) حق سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے اور معاویہ اپنے گمراہ کن اور باطل منصوبوں پر بضد،لہذا یہ حق و باطل کا معرکہ تھا،اور کئی مہنوں چلنے والی یہ جنگ ابھی ختم ہی ہونا چاہتی تھی کہ معاویہ نے قرآن کو نیزوں پر اٹھادیا اور مسئلہ حاکمیت پیش کردیا گیا اور ہر طرف سے لا حکم الا للہ کے نعرے بلند ہونے لگے،معاویہ کا یہ حربہ اتنا شدید تھا کہ خود لشکر علی(ع) کے بڑے بڑی نامور لوگ بھی فریب میں مبتلاء ہوگئے اور نتیجہ میں ابو موسی اشعری اور عمر بن عاص کو حکم چن لیا گیا کہ یہ جو فیصلہ کریں گے ہم اسے مان لیں گے اس شرط کے ساتھ کہ یہ فیصلہ قرآن کے مطابق ہوگا،لیکن دیکھتے ہی دیکھتے عمر عاص نے اشعری کو فریب دیدیا ،اب لشکر میں ایک خلفشار تھا لہذا اب اس موقع پر امام حسن(ع) نے ہی لوگوں کو سمجھایا کہ یہ معاویہ کا فریب تھا اور وہ کس طرح تم لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا،شاید امام حسن(ع) کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ایسے موقع پر لوگوں کو واقعیت سے آگاہ نہیں کرسکتا تھا اسی لئے امام حسن کا انتخاب کیا گیا۔
۶)امام علی(ع) کے سیاسی مشاور،اور جانشین
۷)امام علی(ع) کے کوفہ میں نہ ہونے کی صورت میں جمعہ کی نماز کی امامت
۸)خود امام علی(ع) اپنی موجودگی میں کبھی کبھی امام حسن(ع) سے فیصلے کرواتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ علی(ع) کے بعد امام برحق کون ہیں؟


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14