Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190429
Published : 13/11/2017 18:11

صلح سمیت امام حسن(ع) کے تمام حالات خدا کی تدبیر تھے:رہبر انقلاب

صلح کرکے امام حسن(ع) نے شیعوں کو بچایا ہے،یعنی اصل بنیاد (تشیع )کی حفاظت کی ہے تاکہ بیس یا پچیس سال بعد حکومت اہل بیت(ع) کی طرف لوٹ آئے۔


ولایت پورٹل:البتہ یہ صلح تحمیلی(تھوپی ہوئی) تھی۔ بہرحال ایک قسم کی صلح ہوگئی،یہ کہنا چاہیئے کہ امام حسن(ع) نے دل سے صلح نہیں کی، لیکن انہیں حالات میں رہتے ہوئے آپ(ع) نے معاویہ کے منصوبہ کی بنیاد ہلادی، صلح سمیت امام حسن(ع) کے تمام حالات خدا کی تدبیر تھے:«وَمَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّهہُ» یعنی اگر امام حسن(ع) جنگ کرتے تو قتل ہوجاتے (قوی احتمال یہ ہے کہ آپ اپنے ان اصحاب کے ہاتھ سے قتل ہوجاتے جن کو معاویہ کے جاسوسوں نے خرید لیا تھا) اور معاویہ یہ کہہ کر اپنا دامن بچا لیتا کہ میں نے نہیں قتل کیا ہے، ان کے ساتھیوں نے انہیں قتل کیا ہے،بظاہر سوگوار بھی بن جاتا اور بعد میں آپ کے تمام اصحاب کو تہہ تیغ کردیتا یعنی تشیّع (شیعیت) نام کی کوئی چیز باقی نہ بچتی چہ جائیکہ کوفہ میں کوئی گروہ پایا جاتا اور بیس سال بعد امام حسین(ع) کو بلاتا، کوئی باقی ہی نہ بچتا،یعنی صلح کرکے امام حسن(ع) نے شیعوں کو بچایا ہے،یعنی اصل بنیاد (تشیع )کی حفاظت کی ہے تاکہ بیس یا پچیس سال بعد حکومت اہل بیت(ع) کی طرف لوٹ آئے۔
۳نومبر ۲۰۰۰ء کے خطاب سے اقتباس




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16