Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191311
Published : 3/1/2018 18:42

جنتی بننے کی کچھ شرطیں

وہ شخص بہشت میں جائے گا جس نے ایمان و عمل صالح کے نصاب پر مکمل پورا اترتا ہو چنانچہ قرآن مجید میں ۲۵۸ مرتبہ لفظ آمنوا کا تذکرہ ہوا ہے اور اکثر و بیشتر عمل صالح بھی ساتھ ساتھ بیان ہوا جس کا واضح سا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص بہشت کا حقدار ہے کہ جس کا ایمان محکم اور اسے نے عمل صالح بھی انجام دیا ہو اور یہ دونوں خصوصیات تادم مرگ اس کے پاس رہے ہوں۔


ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے بارہا سنا یا پڑھا ہوگا کہ اگر فلاں عمل انجام دو گے تو جنت آپ کے لئے واجب ہوجائے گی چنانچہ بہت سی روایات میں بھی اس طرح کا کلام موجود ہے۔
مثلاً امام رضا علیہ السلام یا حضرت معصومہ قم(س) کی زیارت کے متعلق ملتا ہے :«من زارها فله الجنة»۔ جو شخص قم میں میری بہن کی زیارت کرےگا جنت اس پر واجب ہوجائے گی۔(1)
یا اسی طرح امام جعفر صادق(ع) سے وہ مشہور روایت بھی نقل ہوئی ہے جس میں آپ نے جعفر بن عفان سے فرمایا: جو شخص میرے جد حسین کی مصیبت پر  کوئی شعر کہکر خود روئے یا کسی دوسرے کو رلائے تو خداوند عالم اس پر جنت کو واجب کردیتا ہے اور اس کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔(2)
غرض ! اس جیسی اور بہت سی روایات لسان معصومین علیہم السلام سے معتبر منابع میں مرقوم ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب ایک عمل کے انجام دینے سے انسان  کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے تو  حق الناس کے گناہوں کا کیا ہوگا؟ اور واجبات جسیے نماز و روزہ اگر اس نے نہیں ادا کئے تو کیا وہ بخش دیئے جائیں گے اور اب ان کا حساب و کتاب نہیں ہوگا؟
قارئین! اس سوال کا صحیح جواب ان چند چیزوں کے سمجھنے پر موقوف ہے:
1۔وہ روایات جن میں کسی خاص عمل کی جزا کے طور پر جنت کو بیان کیا گیا ہے وہ عمل حصول جنت کے لئے علت تامہ نہیں ہے بلکہ جزء علت ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جائے کہ کسی بھی چیز یا عمل کا حصول دوچیزوں پر موقوف ہوتا ہے:۱۔مقتضی موجود ہو ۲۔ مانع بھی مفقود ہو۔
مثلاً اگر ہم ایک لکڑی کو جلانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے،پہلے تو یہ کہ مانع موجود نہ ہو یعنی وہ لکڑی گیلی نہ ہو ۔دوسرے یہ کہ آگ بھی لکڑی کے جلانے کے لئے موجود ہو تاکہ لکڑی جل سکے۔
2۔ہمیشہ روایات میں وجوب کا لفظ فقہی وجوب پر دلالت نہیں کرتا بلکہ بہت سے مواقع پر مستحب امور پر بھی دلالت کرتا ہے کہ جن کے انجام دینے کی تاکید کی گئی ہو، لہذا یہاں بھی روایات میں وجوب سے مراد اس اہم عمل پر تاکید کرنا مقصود ہے۔چنانچہ بعض وہ اعمال کہ جو ایک خاص کیفیت پر دلالت کرتے ہیں اور جن کا اجر بھی بہت زیادہ ہے تو ان کے لئے بھی وجوب جنت کی لفظیں استعمال ہوئی ہیں۔
3۔ جبکہ بعض دیگر دینی نصوص میں یہ بھی آیا ہے کہ بعض اعمال کے قبولیت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا حق اس کے ذمہ ہو تو اسے ادا کیا جائے اور اگر کوئی واجب عمل اس سے چھوٹ گیا ہے  تو پہلے اسے انجام دیا جائے۔
4۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ کسی بھی مستحبی عمل کا ثواب واجب عمل کا جایگزین نہیں ہوسکتا مثلاً کوئی شخص رات بھر کسی مستحبی عمل کے لئے بیدار رہے اور صبح کی نماز کو چھوڑ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس مستحبی عمل کے مقصد سے غفلت کی ہے اور اگر کسی عمل پر جنت کا وعدہ دیا گیا ہے تو وہ اس شرط کے ساتھ کہ تمام شروط کی پابندی کرتے ہوئے انسان مؤمن حقیقی بن جائے۔
5۔وہ شخص بہشت میں جائے گا جس نے ایمان و عمل صالح کے نصاب پر مکمل پورا اترتا ہو چنانچہ قرآن مجید میں ۲۵۸ مرتبہ لفظ آمنوا کا تذکرہ ہوا ہے اور اکثر و بیشتر عمل صالح بھی ساتھ ساتھ بیان ہوا جس کا واضح سا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص بہشت کا حقدار ہے کہ جس کا ایمان محکم اور اسے نے عمل صالح بھی انجام دیا ہو اور یہ دونوں خصوصیات تادم مرگ اس کے پاس رہے ہوں۔ اگرچہ اس میں بھی دورائے نہیں کہ بہت سے افراد صرف ایک عمل کی بنا پر جنتی جبکہ بہت سے ایک ہی عمل کے سبب دوزخی بن گئے ہیں ۔
6۔خداوند عالم کے فضل سے کچھ بعید نہیں وہ تو اپنے بندوں کو عطا کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے اور صرف ایک مختصر سے عمل کی خاطر اجر عظیم عطا کردیتا ہے۔  
نتیجہ:
ہم سب کو تمام واجبات اور فرائض پر عمل کرنا چاہیئے اور حرام سے بچنا چاہیئے اور فضل خدا پر امید رکھنی چاہیئے کہ یہ ثواب ہمیں
دیئے جائیں گے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ انسان جب تک زندہ ہے اس کے ہاتھ سے ایمان اور عمل صالح کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔بحارالانوار، علامه محمد باقر مجلسی، ج48، ص316۔
2۔اختیار معرفة الرجال [یا رجال الکشی]، شیخ طوسی، ج2، ص 575 ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16