Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191346
Published : 5/1/2018 6:30

کیا 2018ء میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ہوسکتی ہے؟(ایک تجزیہ)

اسرائیلی سیاسی محافل میں کہا جا رہا ہے کہ 2018 میں اسرائیل اور شام، ایران اور حزب اللہ کے درمیان مسلح جنگ کا امکان ہے۔


ولایت پورٹل:اسرائیلی نیوز وللا نے اپنے فوجی ذرائع  کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ شام کے جنوبی علاقہ جات میں اب تک نقصان صرف اسرائیلی مفاد کا ہوا ہے، اسی سے اندازہ لگانا چاہیے کہ اگلا سال داعش کے لئے بھی اہم سال ہوگا،داعش کی شکست کے بعد حزب اللہ شام کے جنوب میں آجائے گی، کیونکہ داعش کی شکست کے بعد بھی حزب اللہ شام سے نہیں نکلے گی، بلکہ اسرائیل سے مقابلے کے لیے جولان کے پاس آجائیگی،اسرائیلی محافل میں حزب اللہ کی جانب سے شام کے جنوب میں منیر شعیتو کو کمانڈر بنانے کا مقصد یہی ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں۔ شیعتو 2002 میں خفیہ مشن پر اسرائیل میں موجود تھے، جن کی وجہ سے 6 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے،اسرائیل کے مطابق حزب اللہ اس علاقے میں اپنے معلوماتی سسٹم نصب کر رہی ہے،اس وجہ سے اسرائیل یہ سوچ رہا ہے کہ حزب اللہ اور ایران کے بارے کوئی اہم قدم اٹھانا چاہئے ادھر سعودی عرب کے اقدامات کی وجہ سے علاقے میں ایران کا اثرورسوخ مزید بڑھ گیا ہے جو اسرائیل کے لیے ایک مشکل بن گیا ہے۔ شام میں ایران سے اسرائیل کا مقابلہ روسی مفاد میں نہیں ہے، اس لیے شاید روس اس کام میں رکاوٹ بن جائے لیکن اس کے باوجود ایران اور اسرائیل میں شام کی زمین پر جنگ کا خطرہ ہے، کیونکہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایران پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔
iuvmpress.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22