Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191443
Published : 10/1/2018 15:59

نہج البلاغہ میں صداقت رسول(ص) کا سبق

نہ علی نے کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی میرے سامنے کسی کا جھوٹ چل سکا ہے ،اور نہ میں کبھی گمراہ ہوا اور نہ ہی کوئی میرے ذریعہ گمراہ ہوا ہے۔


ولایت پورٹل:یوں تو معصومین(ع) کے ذریعہ دی جانے والی بہت سی خبریں اب زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہیں لیکن نہج البلاغہ میں امیر کائنات(ع) نے دنیا اور اس کے عجائب نیز بہت سی دیگر عقائدی،سیاسی ،جنگی اور معاشرتی خبریں بیان فرمائی ہیں۔چنانچہ انھیں میں سے ایک قول جو نہج البلاغہ میں آپ کا نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے:«مَا کَذَبْتُ وَلاَ کُذِّبْتُ، وَلاَ ضَلَلْتُ وَلاَ ضُلَّ بِی»۔(حکمت:۱۸۵)
ترجمہ:نہ علی نے کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی میرے سامنے کسی کا جھوٹ چل سکا ہے ،اور نہ  میں کبھی گمراہ ہوا اور نہ ہی  کوئی میرے ذریعہ گمراہ ہوا ہے۔
حضرت کا یہ کلام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت کی زندگی میں قطعی طور پر کوئی ایسا حادثہ پیش آیا جس میں لوگوں نے حضرت پر جھوٹ کی تہمت لگائی اور نعوذ باللہ آپ کو گمراہی کا سبب جانا،لہذا حضرت اس تہمت سے برأت کے لئے قسم کھانے پر مجبور ہوئے اور اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا مرحلہ نہ آتا تو آپ ہرگز یہ کلام ارشاد نہ فرماتے۔
در اصل اس حکمت کا شان بیان وہ واقعہ ہے جس میں رسول خدا (ص) نے خوارج کے سربراہ «ذوالثدیة مخدج»  کو اس کی عاقبت بد کی طرف متوجہ کیا تھا چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ ایک جنگ میں پیغمبر اکرم(ص) مسلمانوں کے درمیان مال غنیمت تقسیم کررہے تھے چنانچہ یہ«ذوالثدیة مخدج» حضرت کے پاس غصہ سے تمتماتا ہوا آیا اور کہا: آپ عدالت کے ساتھ مال کی تقسیم نہیں کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا: وائے ہو تجھ پر!اگر میں نے عدل سے کام نہ لیا تو کون لے گا۔ پھر ارشاد فرمایا: یہ شخص مستقبل میں ایک ٹولہ تشکیل دیگا اور دین سے خارج ہوجائے گا اگرچہ یہ ٹولہ کثرت نماز اور کثرت روزہ کے سبب دوسروں پر مباہات بھی کرے گا لیکن ان کے نماز اور روزے بے اثر ہونگے ،یہ قرآن مجید کی تلاوت بھی بہت زیادہ کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
لہذا جب حضرت علی(ع) کو ظاہری طور پر خلیفہ تسلیم کرلیا گیا ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تمام لوگ متحد ہوکر آپ(ع) کا ساتھ دیتے چونکہ اب تو خود ان کی منشأ و اصول کے مطابق آپ تک خلافت پہونچی تھی، لیکن شیطان کی کارستنیاں کیا رنگ لائیں کہ سب سے پہلے بیعت حق کرنے والے ہی لشکر کشی پر آمادہ ہوگئے چنانچہ حضرت امیر (ع) کو مسلسل ۳ جنگیں لڑنا پڑیں جن میں آخری جنگ خود اپنے لشکر سے نکلے ہوئے کچھ خوارج سے کی کہ جن کی پیشنین گوئی خود سرکار رسالتمآب(ص) نے فرمائی تھی لہذا اس جنگ میں حضرت امیر نے«ذوالثدیة مخدج» کی موت کی خبر دی تھی اور فرمایا تھا کہ اب اس کے بعد خوارج سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے چنانچہ جب جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوگئی اور آپ کے لشکر والے «ذوالثدیة مخدج» کے نجس جسد کو تلاش نہ کرسکے تو حضرت کے پاس آئے کہ «ذوالثدیة مخدج» تو کہیں ہے ہی نہیں تو حضرت نے یہ عظیم جملہ ارشاد فرمایا: « مَا کَذَبْتُ وَلاَ کُذِّبْتُ، وَلاَ ضَلَلْتُ وَلاَ ضُلَّ بِی»۔
ترجمہ:نہ علی نے کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی میرے سامنے کسی کا جھوٹ چل سکا ہے ،اور نہ  میں کبھی گمراہ ہوا اور نہ ہی  کوئی میرے ذریعہ گمراہ ہوا ہے۔
اسی اثناء میں ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا امیر المؤمنین(ع) ہم نے اس کے جنازے کو ڈھونڈ لیا ہے،چنانچہ حضرت امیر(ع) نے یہ جملہ ارشاد فرمایا:«الله اکبر صدق الله و رسوله»؛ بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ مجھے اللہ کے رسول(ص) نے یہ خبر دی تھی۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17