Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191448
Published : 10/1/2018 17:14

صلہ رحم کا انداز

اپنے ہر عزیز کے لئے صلہ رحم کا انداز مختلف ہوسکتا ہے لہذا کبھی تو صرف اپنے کسی عزیز کو سلام کرکے یا بہتر انداز میں اس کے سلام کا جواب دیکر بھی اسے خوشی دی جاسکتی ہے چونکہ اسے آپ کے مال و منال کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ تو صرف اتنے پر ہی راضی ہے آپ صحیح طریقہ سے اس کے سلام کا جواب ہی دیدیں۔


ولایت پورٹل: قارئین کرام! اپنے اعزاء و اقارب اور خاص طور پر اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنا ایمان کے بعد ترقی اور سعادت نیز قرب خدائے سبحان کا سب سے بہترین عمل ہے کہ جس میں بہت سے مادی و معنوی فوائد پائے جاتے ہیں۔  
لہذا اپنے اعزاء اور اقارب سے تعلقات توڑنا،ایک طرح سے خدائے سبحان سے قطع رابطہ کے مترادف ہے چنانچہ یہ عمل اللہ کی نظر میں اس درجہ منفور ہے کہ وہ شخص کہ جو اپنے اعزاء سے رابطہ نہیں رکھتا اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھے کو بھی منع کیا گیا ہے اور خداوند عالم نے ایسے شخص پر قرآن مجید میں ۳ جگہ لعنت بھیجی ہے،نیز اسی طرح فقہ میں بھی قطع تعلق کو گناہ کبیرہ اور بشر کی فنا اور نابودی کے سبب کے طور پر بیان کیا گیا ہے،اور اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہشت کی خوشبو ہزار سال کے فاصلہ سے مؤمن کے مشام میں پہونچے گی لیکن اپنے اعزاء سے قطع تعلق کرنے والا اس سے ہمیشہ کے لئے محروم رہے گا۔
صلہ رحم کے طور طریقے
صلہ رحم صرف اپنے اعزاء و اقارب کے گھر جانا نہیں ہے بلکہ اس عمل کے بہت سے مصداق ہیں اور اس کا سب سے اتم اور اکمل مصداق یہ ہے کہ دوسروں سے پہلے اپنے اعزاء و اقارب کی ضرورت کو پورا کرکے انھیں خوش کردیا جائے۔(تسنیم،ج۲،ص۵۶۰)۔
پس اپنے ہر عزیز کے لئے صلہ رحم کا انداز مختلف ہوسکتا ہے لہذا کبھی تو صرف اپنے کسی عزیز کو سلام کرکے یا بہتر انداز میں اس کے سلام کا جواب دیکر بھی اسے خوشی دی جاسکتی ہے چونکہ اسے آپ کے مال و منال کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ تو صرف اتنے پر ہی راضی ہے آپ صحیح طریقہ سے اس کے سلام کا جواب ہی دیدیں۔
چنانچہ صلہ رحم کرنے کے کچھ طریقہ مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔اپنے عزیزوں کو اذیت نہ دینا
۲۔انھیں سلام کرنا اور ان کا احترام کرنا
۳۔ان کی ضیافت کرنا اگرچہ ایک پیالہ پانی ہی کیوں نہ ہو
۴۔بیماروں کی عیادت کرنا
۵۔ان کے غم میں شریک ہونا
۶۔ان کی زیارت اور ملاقات کو جانا
۷۔انھیں کوئی تحفہ اور کوئی ہدیہ دینا
۸۔دوسروں سے پہلے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا۔(. الفقیه،ج۲،ص۶۷)
لہذا رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: اے لوگوں ! تم اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرو  ان کی نسبت پڑوسیوں جیسا سلوک نہ کرو بلکہ ایک دوسرے کو تحفہ دو چونکہ ملاقات اور زیارت دوستی کو مستحکم کرتے ہیں اور پڑوسی ہونا ممکن ہے رابطہ میں ضعف کا باعث ہو لیکن تحفہ انسان کے مزاج کو ہدیہ دینے والے کے لئے نرم کردیتا ہے۔(۲۲. مستدر الوسائل،ج۱۳،ص۲۰۵)

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23