Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191450
Published : 10/1/2018 18:12

روزی میں اضافہ

کوشش و محنت اور کاروبار کے نتیجہ میں درآمد آتی ہے توکل، دعا اور توسّل کے نتیجہ میں برکت! درآمد الگ چیز ہے اور برکت الگ! بعض لوگوں کی درآمد تو بہت ہے لیکن زندگی میں رونق اور سکون نہیں ہے، بعض کی درآمد کم ہے لیکن زندگی میں سکون اور اطمینان ہے۔

ولایت پورٹل: گدائی اور تساہلی سے دور معزز اور آبرومند زندگی گزارنا دین اسلام میں مورد توجہ اور اہم قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیات و روایات میں رزق حلال کے لئے محنت کرنے پر زور نیز سستی سے کام لینے اور گدائی کی  بشدت مذمت کی گئی ہے۔ سب کو یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی روزی میں اضافہ ہوجائے۔ البتہ اسلام کی نظر میں رزق کا دائرہ وسیع ہے جیسا کہ رزق لغت میں دائمی روزی اور عطا کے معنی میں ہے؛ چاہے اس عطا کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے، جسم سے ہو یا روح سے اسے رزق کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں نبوت و معرفت کو بھی رزق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دین اسلام میں روزی میں اضافہ کے لئے چند باتوں کی تاکید کی گئی ہے
سعی و کوشش قرآن حکیم کی نظر میں:
سعی یعنی تیز حرکت اور پوری کوشش کرنا؛ اچھا برا، نفع نقصان، تنگدستی اور روزی میں وسعت سب انسان کی سعی و کوشش سے وابستہ ہے اور جس کام کے لئے بھی انسان قدم اٹھاتا ہے اس کا نتیجہ بھی انسان کو ملتا ہے۔ (المیزان،ج۱۹، ص۴۶، طبع بیروت)
روایات میں کاروبار کی ترغیب:
کتاب وسائل الشیعہ کی ایک فصل کا عنوان یہ ہے: مستحب ہے کہ انسان ذریعہ معاش کی تلاش کے لئے نکلے، اسی طرح کاروبار کا ترک کرنا بھی مکروہ اور ناپسندیدہ شمار کیا گیا ہے۔ کلام معصومین میں تجارت اور کاروبار کی اہمیت کو یہیں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ  وسائل الشیعہ کی جلد۱۷ کی تمام احادیث کا تعلق تجارت اور اس کی طرف ترغیب دلانے سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: ۔۔۔۔فانّ الرّزقَ ینزِلُ معَ الشِّرا روزی خرید و فروخت سے نازل ہوتی ہے۔ (وسائل الشیعہ، ج۱۷، ح۲۱۸۷۰) ذیل میں نمونہ کے طور پر چند روایات کو بیان کیا جا رہا ہے:
علی بن عبدالعزیز کہتے ہیں امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے دریافت کیا: عمرو بن مسلم آج کل کیا کر رہا ہے؟ میں نے عرض کی: وہ تو اپنی تجارت اور کاروبار چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا: وائے ہو اُس پر! کیا اسے نہیں پتہ کہ جو طلب معاش اور کاروبار کو چھوڑ دے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی، جب یہ آیت «وَ مَن یَتّقِ اللهَ یجعَل له مخرجاً و یزرُقهُ مِنْ حَیثُ لایَحتَسِب» اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے (سورہ طلاق، آیت۲و۳) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعض اصحاب اپنے گھروں کے دروازے بند کرکے فقط عبادت میں مشغول ہو گئے، وہ کہا کرتے تھے کہ ہم تو محنت مزدوری اور کاروبار سے بے نیاز ہوگئے اللہ ہماری روزی کا ضامن بن گیا۔ جب اس بات کی خبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلاکر پوچھا: کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے؟! انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! (اُس آیت میں) اللہ نے ہماری روزی کی ضمانت لے لی ہم بھی عبادت میں مشغول ہوگئے۔ آپ (ص) نے فرمایا: جو بھی ایسا کرے (یعنی اپنے کاروبار کو چھوڑ دے) اس کی دعا قبول نہیں ہوتی، یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تلاش معاش میں رہو! اپنی محنت مزدوری اور کاروبار میں مشغول رہو! (وسائل الشیعہ، ج۱۷، ص۱۵)
وسائل الشیعہ میں ہی ایک باب کا عنوان ہے ہاتھ سے کام کرنا  (یعنی محنت کا کام کرنا) مستحب اور پسندیدہ ہے، اس باب کی ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں: مجھے پسند ہے کہ مرد اپنے ذریعہ معاش اور روزی کی تلاش میں پسینہ بہائے۔ (وسائل الشیعہ، ح۲۱۹۴۲)
روزی کے زیادہ ہونے کے  لئے دن رات پوری کوشش کرنے کی ضرورت ہے، بغیر محنت کے زیادہ روزی کی توقع رکھنا ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ محنت کے نتیجہ میں پیداوار اور روزی میں اضافہ کبھی تجارت کے ذریعہ ہوتا ہے، کبھی صنعت میں، کبھی کھیتی باڑی میں تو کبھی ہنر میں اور کبھی علم و تحقیق کی راہ میں۔ ان تمام امور میں افراد کے سلیقہ نیز گھریلو اور سماجی حیثیت کا اہم نقش ہوتا ہے۔
توکل، توسل اور دعا:
یہ کلمات کہ جو مذہبی اور دینی معنیٰ کے حامل ہیں، انکے صحیح اور دقیق معنی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ توکل کو سستی اور تساہلی کے معنی میں سمجھتے ہیں، جبکہ توکل یعنی اللہ کی ذات پر بھروسہ اور اس تدبیر پر ایمان رکھتے ہوئے کوشش اور عمل کی راہ میں نکل پڑنا، یعنی حرکت آپ کی طرف سے برکت خدا کی جانب سے، نہ یہ کہ مفت خوری اور گدائی کو توکل کا نام دیدیا جائے۔ اسی طرح توسل اور دعا کے معنی پر بھی توجہ کرنی چاہئے، دعا یعنی پکارنا آواز دینا اور اللہ سے رابطہ بنائے رکھنا نہ یہ کہ اللہ سے پُر عیش و آرام زندگی مانگ کر بیٹھ جائیں اور آسمان سے ضروریات زندگی کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہیں۔
درآمد اور برکت
کوشش و محنت اور کاروبار کے نتیجہ میں درآمد آتی ہے توکل، دعا اور توسّل کے نتیجہ میں برکت! درآمد الگ چیز ہے اور برکت الگ! بعض لوگوں کی درآمد تو بہت ہے لیکن زندگی میں رونق اور سکون نہیں ہے، بعض کی درآمد کم ہے لیکن زندگی میں سکون اور اطمینان ہے۔ لہذا دین اسلام نے ایک بہترین راہ پیش کی ہے جس کا نام ہے قناعت۔ قناعت یعنی میانہ روی؛ نہ تو انسان اتنی کنجوسی اور حرص و طمع سے کام لے کہ لگے اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں، یعنی ہاتھ جیب کی طرف جائے ہی نہ اور نہ ہی اتنا ہاتھ کھول دے کہ خود اور اپنی فیملی کو پریشانی میں مبتلا کردے، بلکہ زندگی میں میانہ روی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں القِناعةُ مالٌ لایَنْفدُ : قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ (نہج الفصاحہ، ح۲۱۱۱)



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23