Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191468
Published : 11/1/2018 15:51

مسلمانوں کو اقتصادی ذلت سے بچانے کے لئے علی(ع) کا لائحہ عمل

کسی بھی اسلامی بازار میں دوسروں کی بنی چیزیں ایک خاص انداز میں پیش کی جاتی ہیں اور بازار میں موجود چیزیں اور ان کا استعمال بہر حال انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان چیزوں کے ساتھ ساتھ اجنبی تہذیب بھی سماج میں رسوخ پیدا کرتی ہے کہ یہ خود ایک طرح کی ذلت ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے کسی غیر کی تہذیب کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔


ولایت پورٹل: اس موجودہ زمانہ اور ان کے حالات کے پیش نظر کہ جب امریکہ اور عالمی استعمار نے مسلمانوں پر حصار  حیات تنگ کردیا ہے لہذا آج مسلمانوں کو ہر دور سے زیادہ متحد و منسجم ہونے کی ضرورت ہے۔اور یہ اتحاد صرف متعدد مکاتب فکر کے درمیان ہی نہیں بلکہ ہر میدان اور خاص طور پر اقتصادی میدان میں زیادہ ضروی نظر آتا ہے۔
امیرالمؤمنین(ع) ہمیشہ مسلمانوں کو خطاب کرکے فرماتے تھے:جب تک یہ امت غیر مسلموں کے ہاتھ کا بنا لباس نہ پہنے اور ان کی غذاؤں کا استعمال نہ کریں تو خیر و بھلائی اس کے شامل حال رہے گی لیکن جیسے ہی اس نے اس قانون کے برخلاف عمل کیا(یعنی غیر مسلموں کے ہاتھوں کے بنے لباس اور ان کی غذائیں استعمال کرنے لگیں) تو خداوند عالم ان کی ذلیل و خوار کردے گا۔
اگرچہ اس روایت میں حضرت نے «لباس العجم»  اور«اطعمة العجم»  کی تعبیر استعمال کی ہے لیکن «هذه الامة»  کا قرینہ بتاتا ہے کہ آپ کی مراد عربوں کے مقابل عجم مراد نہیں  ہیں بلکہ امت کے مقابل اجنبی اور غیر مسلمان مراد ہیں۔
اور حضرت کی یہ تاکید اس وجہ سے ہے کہ کسی بھی مسلم معاشرہ کے لئے غیر مسلمان کی بنی اشیاء پر انحصار ایک مذموم امر ہے لہذا امت اسلامی کو اپنے کھانے پینے کی اشیاء نیز لباس اور دیگر روز مرہ کی ضروریات کے سلسلہ میں غیر مسلمانوں پر منحصر نہیں رہنا چاہیئے بلکہ انھیں خود اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے لیکن اگر اسلامی معاشرہ نے ان روز مرہ کی ضروریات کو فراہم نہ کیا اور غیروں کے قوت بازوں اور تدبیر پر بھروسہ کرتے رہے تو انھیں ایک دن ضرور ذلت و خواری کا منھ دیکھنا پڑے گا۔
پس جب غیر مسلمانوں کی اشیاء مسلمانوں کے لئے استعمال کرنا مذموم ہے تو پھر مسلمان بازار میں کافروں کے ہاتھوں کی بنی ہوئی چیزوں کو لاکر خرید و فروش کرنا کیسا ہوگا؟
ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ پہلے مرحلہ میں تو ان اشیاء کو مسلمان مارکیٹ اور بازار میں لانے والے افراد ہی زیادہ ذمہ دار ہیں چونکہ اگر یہ دوکاندار ان چیزوں کو اپنی مارکیٹ میں نہ لاتے تو شاید یہ عام مسلمان انھیں استعمال ہی نہ کرتے۔
پس حضرت کے مندرجہ بالا کلام کی روشنی میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں:
۱۔ لباس اور غذا پر حضرت امیر علیہ السلام کی تاکید اس وجہ سے ہے کہ انسان ان دونوں کے بغیر اپنی ظاہری حیات کو باقی نہیں رکھ سکتا،درواقع کسی بھی معاشرہ کا انحصار ان دونوں چیزوں پر ہے اور حضرت کے کلام کا لب و لباب یہ ہے کہ مسلم معاشرہ کی تمام ضرورتیں، خود اسی معاشرہ کے افراد کے ہاتھوں پوری ہونا چاہیئے،اور دوسری وجہ ہے کہ اس زمانہ میں کسی معاشرہ کے لئے یہی صرف دو چیزیں کافی تھیں لیکن اب جبکہ ان دو کے علاوہ بہت سی دیگر چیزیں آگئیں ہیں تو ہمیں انھیں بھی خود ہی فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
۲۔غیر مسلم کے بنے لباس اور غذا نیز دوسری بنیادی ضرورتوں کے وسائل کا اسلامی معاشرہ میں مسلسل خرید و فروش کیا جانا معاشرہ کے لوگوں میں حقارت اور احساس کمتری کی روح کو فروغ دیتا ہے لہذا یہ امر خود ایک طرح کی پستی اور استعدادات کے دبنے کا سبب بنتا ہے چونکہ اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم ابھی اس قابل بھی نہیں ہوسکے ہیں کہ اپنی بنیادی ضرورتوں کو ہی پورا کرسکیں ۔
چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اس طرح اس موضوع کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:جو شخص اناج خریدے اس کا مال بڑھے گا اور جو شخص آٹا خریدے گا اس کا نصف مال چلا جائے گا اور جو بنی بنائی روٹی خریدے گا گویا اس نے اپنا سب مال دوسرے کے حوالہ کردیا ہے۔
۳۔کسی بھی اسلامی بازار میں دوسروں کی بنی چیزیں ایک خاص انداز میں پیش کی جاتی ہیں اور بازار میں موجود چیزیں اور ان کا استعمال بہر حال انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان چیزوں کے ساتھ ساتھ اجنبی تہذیب بھی سماج میں رسوخ پیدا کرتی ہے کہ یہ خود ایک طرح کی ذلت ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے کسی غیر کی تہذیب کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔
نتیجہ: پس ہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی بنیادی ضرورتوں کو خود اپنے آپ ہی مہیا کریں اور بازار میں مسلمان کمپنیوں کی بنی چیزیں ہی خرید و فروخت کی جائیں اور یہ امر اس وقت زیادہ ہی لازم اور ضروری ہوجاتا ہے کہ اسلام کے کھلے دشمن خود مسلمانوں کے پیسہ کو خود مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کررہے ہیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16