Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191478
Published : 11/1/2018 17:22

بنام بدعت ہر نئی ایجاد کے مخالف ہیں وہابی

اگر کوئی فکری جمود کے سبب مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے اجتماعی آداب کا مخالف ہو تو پھر اس کیلئے آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے اور اسے تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے کر دینا چاہیئے مگر یہ کہ ان کے اعتدال پسند افراد ان بڑی غلطیوں کی اصلاح اور اس کاتدارک کریں۔


ولایت پورٹل: وہابی مسلک کے موجد نے ہر قسم کی بدعت(یعنی نئی ایجاد) سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ،ایسی  چیزیں جو اصولی اعتبار سے تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک قابل انکار نہیں تھیں کیونکہ سبھی لوگ دین میں بدعتوں کا انکار کرتے ہیں ۔(۱)اسی حوالے سے طرفین کی کتابوں میں بہت سی حدیثیں پائی جاتی ہیں۔
لیکن وہ خود بدعت کے معنی میں بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں ہر نئی چیز یا عمل سے مقابلہ کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔
آئیے دیکھیں کہ بدعت سے کیا مراد ہے ؟کیا ہر نئی بات یا نئی ایجاد اور عمل بدعت ہے ؟ کیاہر نئی انسانی ایجادات سے لڑنے کیلئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے؟ جیساکہ وہابیت کے ابتدائی دور کے پیرو کاروں نے نتیجہ اخذ کیا تھا جس کی وجہ سے سائیکل کو بھی شیطان کی سواری سمجھ بیٹھے تھے اور اس سے پرہیز کرتے تھے یہاں تک کہ اس ٹیلفون لائن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا !جو کہ سعودی بادشاہ کے محل کو فوجی مرکز سے ملاتی تھی۔
حال ہی کی بات ہے کہ کیمروں کو بھی حرام سمجھتے تھے اور مکہ و مدینہ کے بازاروں میں ان کی خرید و فروخت ممنوع تھی اور وہابی طالبان لیڈر ملا محمد عمر نے کبھی اپنا فوٹوکھینچنے کی اجازت نہیں دی اور عورتوں اور لڑکیوں کو خود ان کے لئے مخصوص مدرسوں میں پڑھنے سے روک دیا۔وہ ابھی بھی عورت کو اگرپورے شرعی حجاب کے ساتھ ڈرائیونگ کرے تو حرام مانتے ہیں ،جشن میلاد پیغمبر(ص) یا اس طرح کے اعمال کو بدعت اور حرام قراردیتے ہیں نہ صرف میلاد پیغمبر(ص) نہیں مناتے بلکہ وہ ایسے تمام شیعہ و سنی مسلمانوں کی سرزنش کرتے ہیں جو اس عاقلانہ اور انسانی کام کو انجام د یتے ہیں!
یقیناً بڑے فقہاء اور علمائے اصول کی نظر میں بدعت کی اصطلاح کا مفہوم و مقصود کچھ اور ہی ہے۔
بدعت۔ کا اپنا ایک خاص معنیٰ ہے اور وہ یہ کہ انسان کسی ایسی چیز یا عمل کو جو دین میں نہ ہو، جزء دین قرار دیکر اسے دینی کام کی حیثیت سے انجام دے،چنانچہ بدعت کی تعریف میں کہا گیا ہے:«اَلْبِدْعَةُ اِدْخَالُ مَا لَیْسَ مِنَ الدِّینِ فِی الدِّینِ»۔(۲) ابن نجیم مصری نے’’البحر الرائق‘‘میں بدعت کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے:«غَلَبَ اِسْتِعْمَالُھَا عَلٰی مَا ھُوَ(ایجاد)نَقْصٌ فِی الدِّیْنِ اَوْ زَیَادَۃٌ»،اور کتاب:«فیض القدیر» مؤلف مناوی میں ہے:«اَلْحَدَثُ فِی الدِّیْنِ بَعْدَ أِکْمَالِهٖ»۔ اور یہ سب تعریفیں اسی ایک معنی کی طرف پلٹتی ہیں۔
یقینی طور پر کوئی بھی شخص سائیکل ،موٹر سائیکل ،کیمرہ،ٹیلیفون و ریڈیو وغیرہ جیسی نئی ایجادات کا استعمال واجب ہو یا مستحب،دینی امور کے عنوان سے نہیں کرتا بلکہ یہ ایک عام بات ہے، جیسے کہ بہت سی غذائیں، لباس اور عمارتیں جو امتداد زمانہ سے بدل جاتی ہیں اور ایک نئی شکل میں آجاتی ہیں۔
دوسرے لفظوں میں ہم بہت سے ایسے اعمال انجام دیتے ہیں جو عرفی کہلاتے ہیں اور شریعت سے کوئی خاص ربط نہیں رکھتے جیسے اوپر کی مثالوں میں بیان کیا گیا جیسا کہ لباس اور سواریوں کی قسمیں، غذاؤں اور آداب و رسوم نیز زندگی کے دوسرے اسباب وسائل وغیرہ۔
مفید کاموں کیلئے ایجادات میں بدعت اچھی اور بہتر ہے اور انسانی معاشرہ کی ترقی کی علامت ہے اس بنا پر نہ تو سائیکل شیطان کی سواری ہے اور نہ ہی کیمرہ شیطان کی آنکھ اور نہ ہی ٹیلیفون کے تمام اقسام فساد اور بربادی کا سبب ہیں اور نہ ہی بزرگان دین کی ولادت کے موقع پر جشن اور خوشی کے مراسم جو کہ عرف عام میں معمول کے مطابق اہم کام ہے، گناہ شمار ہوتا ہے یا دوسرے ایسے ہی کام جنہیں انسان کبھی اپنے اہل خانہ میں سے کسی ایک کی ولادت کے موقع پر انجام دیتا ہے یاکبھی اجتماعی صورت میں کسی بزرگ عالم دین کے لئے یا اس سے بالاتر بزرگان دین کا پیغمبر اسلام(ص) کے لئے شاندار جشن برپا کرنا وغیرہ۔
اس قسم کے امور انجام دینے کے سلسلے میں حرمت کی کوئی دلیل نہیں ملتی سوائے یہ کہ بدعت کے مفہوم کی تعبیر میں انسان غلط فہمی کا شکار ہوجائے اور اس کے فقہی معنی سے نابلد ہو یا عرفی باتوں اور شرعی فرائض میں فرق کو نہ جانتا ہو ۔
دینی رہبروں کے مزارات پر بنی بارگاہوں اور گنبدوں سے ہمیں کوئی سرو کار نہیں ہے اس لئے کہ یہ ایک الگ موضوع ہے بلکہ ان معمولی قبرستانوں کی بات کر رہا ہوں۔ اگر آپ سعودی عرب کے قبرستانوں میں جائیں تو بدترین اورگھنونے مناظر سے رو برو ہونگے، بالکل بے آب و گیاہ اور ناہموار، بے نظم چٹیل میدان کی طرح ہے اور ایک صاف پتھر بھی کسی قبر پر نہیں دکھائی دے گا۔جبکہ تمام قوموں اور دنیا کے عقلمندوں کے درمیان قبروں پر عمارت بنانا ایک عام بات ہے۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ مرحومین کی قبروں کا احترام محفوظ رہے ،ان کی تحقیر و توہین نہ ہو، ان کے اطراف میں سبزے اور پھولوں کے درخت لگا دئیے جاتے ہیں تاکہ ان کے پسماندگان کے لئے سکون کا باعث ہو۔اسی طرح بڑے بڑے شعراء علماء اور دانشوروں کی قبروں پر بھی مناسب عمارت تعمیر کی جاتی ہے،جو ان کی شان کے مطابق ہو ۔یہ ایک انسانی اور عرفی کام ہے جو نہ تو بدعت ہے اور نہ ہی شرک اور بت پرستی بلکہ انسانیت کا ادب و احترام ہے جبکہ بدعت ،دین کے احکام میں کسی حرام چیز کا اضافہ کرنے سے انجام پاتی ہے۔
آج پوری دنیا میں معمول ہے کہ لوگ فلاں شاعر یا موجد کی یاد میں سو سالہ برسی یا جشن مناتے ہیں اور یہ کام جوانوں کو علم و دانش میں فروغ اور ان کی حوصلہ افزائی کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ کیا کوئی عقلمند یہ کہے گا کہ یہ کام بدعت یا شرک ہے یا دین میں کسی چیز کا اضافہ کر دیا گیا ہے؟
اگر ہم یہ کام دینی شخصیتوں کے لئے انجام دیں جن سے عام لوگوں کے ذہن ان کی فکروں اور تعلیمات نیز ان کے پروگرام کی طرف متوجہ ہوں ،ان کے اور دینی پیشواؤں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ برقرار ہو جائے تو یہ کام کہاں سے بدعت اور شرک ہے؟ یہ توعرف عام میں ایک رائج اورپسندیدہ بات ہے۔
قابل توجہ یہ ہے کہ کبھی تو عرفی اختراعات اور ایجادات دین میں دخالت و بدعت اور حرام کا عنوان پیدا کئے بغیر شرعی مسائل کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں،مثال کے طور پرآج ہم مسجد الحرام اور مسجد النبی میں بہت سی میناریں دیکھتے ہیں جو کہ یقیناً آنحضرت(ص) کے دور میں نہیں تھیں محراب پیغمبر(ص) سادہ نقش و نگار سے آراستہ بہت سی قرآنی آیات (بعض کہتے ہیں کہ پورا قرآن مجید) مسجد النبی کی دیواروں اور طاقوں پر خوبصورت انداز میں لکھی ہوئی ہیں یہاں تک کہ آنحضرت اور ائمۂ اہلبیت(ع) اور بعض بزرگان اسلام کے نام مسجد کے ایک صحن کے داخلی دروازے پر تحریر ہیں۔ جبکہ ان میں سے کوئی بھی چیز پیغمبر اسلام (ص) کے دور میں نہیں تھی توکیا یہ بدعت اور حرام ہے ؟ اگر ہے تو پھر وہابی حضرات جن کی وہاں حکومت ہے کیوں نہیں مٹا ڈالتے ؟ اور اگرایسا نہیں ہے تو ان کو اس سے ملتے جلتے موارد کو بھی قبول کرنا چاہیئے!
یقیناً ان تمام امور کو کسی نے اس قصد سے ایجاد نہیں کیا ہے کہ یہ دین کا حصہ ہیں بلکہ عام بات کے تحت لوگوں کے ذوق سلیم کی بنا پر انجام دئیے گئے ہیں۔اب اگر کوئی فکری جمود کے سبب مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے اجتماعی آداب کا مخالف ہو تو پھر اس کیلئے آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے اور اسے تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے کر دینا چاہیئے مگر یہ کہ ان کے اعتدال پسند افراد ان بڑی غلطیوں کی اصلاح اور اس کاتدارک کریں۔
پھر یاد دلا رہا ہوں کہ حرام یا بدعت کا مطلب یہ ہے کہ میں کسی کام کو دینی حکم اور دستور سمجھ کر انجام دوں گرچہ اس کے بارے میں نہ تو کوئی عام دلیل ہو اور نہ ہی خاص، مثلا نماز یا روزہ یا مناسک حج میں کسی بات کا اضافہ کر دوں یا یہ کہوں کہ شریعت نے ہم کو حکم دیا ہے کہ فلاں شب میلاد پیغمبر اسلام(ص)کے عنوان سے جشن مناؤ ۔
افسوس کی بات ہے کہ اس گروہ کی ناکافی معلومات اور فکری جمود وتعطل نے ان دو باتوں عرفی ایجادات اور شرعی بدعات کو ایک دوسرے سے ملا دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ پیغمبر اسلام (ص) کی ایک حدیث میں آیا ہے:«أھْلُ الْبِدَعِ شَرُّ الخَلْقِ وَالْخَلِیْقَةِ»۔بدعت کرنے والے بدترین مخلوق خدا ہیں۔(کنزالعمال،حدیث:۱۰۹۵۱)۔ اور ایک دوسری حدیث میں امام علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:«مَا أُحْدِثَتْ بِدْعَةٌ اِلَّا تُرِکَ بِھَا سُنَّةٌ»۔کوئی بدعت نہیں انجام دی گئی مگر یہ کہ اس سے ایک سنت چھوٹ گئی ہو۔(شرح نہج البلاغہ،ابن ابی الحدید،ج۹،ص۹۳)۔
۲۔غنائم الایام،ج۱،ص۲۷۷۔

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23