Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191483
Published : 11/1/2018 18:5

راہ ایمان پر قدم ڈگمگانے کے اسباب

امام رضا(ع) نے عبدالعظیم حسنی(رح) کے ذریعہ اپنے چاہنے والوں تک یہ پیغام پہونچایا کہ اللہ کبھی ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گا جو ہمارے چاہنے والوں سے بغض رکھتے ہوں اور اگر کسی نے اس عمل سے روگردانی نہیں کی تو اخلاقی برائیاں اس کا پیچھا کریں گی اور وہ لوگوں کو آزار و اذیت پہنچانے، غیبت کرنے، تہمت لگانے اور بغض وکینہ جیسے کاموں میں پڑجائے گا جس کے سبب وہ ہماری ولایت سے خارج کردیا کردیا جائے گا اورپھر اسے ہماری ولایت اور محبت نصیب نہیں ہوگی اور جو شخص ایسا ہوگا میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔


ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے سید عبد العظیم حسنی(رض) کا نام سنا ہوگا آپ عبدالعظیم بن عبداللہ بن علی بن حسن بن زید بن حسن بن علی بن ابی طالب ہیں۔ آپ کی ولادت سن ۱۷۳ھ  اور وفات سن ۲۵۲ھ میں ہوئی،آپ کو شاہ عبد العظیم بھی کہا جاتا ہے ،آپ حسنی سادات کے علماء اور علم حدیث کے راویوں میں سے تھے۔ عبدالعظیم حسنی کا نسب چار پشتوں میں امام حسن مجتبی(ع) سے ملتا ہے،تاریخ میں انہیں با تقوا، امین، صادق، دین شناس عالم دین، شیعہ اصول دین کا قائل اور محدث کے عناوین سے یاد کیا ہے۔ شیخ صدوق نے ان سے منقول احادیث کو جامع اخبار عبد العظیم کے نام سے جمع کیا ہے۔
عبدالعظیم حسنی نے امام رضا (ع)اور امام جواد(ع) کو درک کیا ہے،چنانچہ آپ نے امام رضا علیہ السلام سے  ایک روایت نقل کی ہے جس میں امام علیہ السلام نے اپنے شیعوں کو آپ کے ذریعہ پیغام دیتے ہوئے فرمایا ہے: میرے دوستوں کو میرا سلام پہنچا دینا کہ وہ اپنے دلوں پر شیطان کے تسلط کے راستےکو نہ کھولیں اور اپنے دلوں کو شیطان کی چراہ گاہ نہ بنائیں اور اسے غیر خدا کی جگہ قرار نہ دو کیونکہ دل اللہ کے تجلی کرنے کا مقام ہے۔
امام رضا علیہ السلام پھرفرماتے ہیں کہ میرے دوستوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ اپنی گفتگو میں صادق ہوں اور امانتداری اختیارکریں،پھرفرمایا کہ میرے چاہنے والوں سےکہہ دینا کہ وہ خاموشی اختیار کریں اور بیہودہ اور بے فائدہ باتوں میں مشغول نہ رہیں،پھرفرمایا کہ میرے دوستوں سے  یہ بھی کہہ دینا وہ ایک دوسرے کے یہاں آمد و رفت کیا کریں اور صلہ رحم کریں ،اس کے بعد فرمایا کہ اپنے آپ کو دوسروں کے کمزور پوائنٹ تلاش کرنے اور ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کرنے میں مشغول نہ کریں ۔
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے دوستوں سے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اچھے افراد کو معاف کردے گا اورتمہارے برے افراد سے درگزر کرے گا لیکن کچھ لوگوں کو  کبھی معاف نہیں کرے گا اوروہ درج ذیل ہیں:
1۔ جو اللہ کا شریک قرار دے اورشرک کرے۔
2۔ ہمارے کسی دوست کو آزار و اذیت پہنچائے۔
3۔ وہ افراد کہ جن کے دل میں ہمارے چاہنے والوں کا بغض وکینہ ہو تو اللہ تعالٰی انھیں بھی معاف نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ اپنے کاموں پرپشیمان ہوں اوراپنی اصلاح کرلیں، لیکن اگرکسی نے ان اعمال سے اجتناب نہ کیا تو اخلاقی برائیاں اس کا پیچھا کریں گی اور وہ لوگوں کو آزار و اذیت پہنچانے، غیبت کرنے، تہمت لگانے اور بغض وکینہ جیسے کاموں میں پڑجائے گا جس کے سبب وہ ہماری ولایت سے خارج کردیا کردیا جائے گا اورپھر اسے ہماری ولایت اور محبت نصیب نہیں ہوگی اور جو شخص ایسا ہوگا میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24