Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191484
Published : 12/1/2018 0:12

بلومبرگ کا بن سلمان پر طنزیہ تبصرہ:

صدام بھی مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدلنا چاہتا تھا لیکن سب نے اس کا انجام دیکھ لیا

بلومبرگ ویبسائٹ پر یک تبصرہ میں کہا گیا ہے کہ ریاض کئی مرتبہ ایران کے خلاف سازشیں کرچکا ہے لیکن اب تک اسے کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

 
ولایت پورٹل: تجزیاتی اور خبری ویبسائٹ بلومبرگ نے اپنے ایک تبصرہ میں لکھا ہے کہ پچھلے ہفتہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی جس میں وہ وعدہ کر رہا ہے کہ سعودی عرب کے سب سے بڑے رقیب (ایران) کے خلاف حملے جاری رکھیں گے اور جنگ کو ایران کے اندر تک کھینچ کے لے جائیں گے۔ بلومبرگ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ بن سلمان کی یہ ویڈیو آٹھ مہینہ پہلے کی ہے لیکن موجودہ حالات میں اس کی اہمیت بہت بڑھ زیادہ جاتی ہے، لکھا ہے: ایران میں اعتراضات کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے فتنہ اور بلوے کی شکل اختیار کرنے لگا تھا اور یہ واضح نہیں ہے کہ ان فتنوں کو بھڑکانے میں سعودی عرب کا کتنا ہاتھ تھا، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ سعودی کا موجودہ حاکم علاقہ میں ایران کے خلاف کئی مرتبہ کوششیں کرچکا ہے اور اسے اب تک کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق محمدبن سلمان کو یمن، قطر، لبنان اور علاقہ کے دوسرے ممالک میں اپنے دائرہ قدرت کو بڑھانے کے لئے کی گئی کوششوں میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے بھی کہا کہ: سعودی عرب کو اپنے اقدامات کے نتائج پر غور کرنا چاہئے اور ان سے سبق لینا چاہئے۔
ترکی جیسے سنّی ملک نے بھی سعودی عرب اور قطر معاملہ میں قطر کی جانبداری کرکے ترکی اور قطر کے درمیان فوجی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے فائدہ اٹھایا ہے۔
Alef Advisory  انسٹی ٹیوٹ کے بانی ھانی صبرا بھی کہتے ہیں: محمد بن سلمان کو یا تو علاقہ کے دیگر ممالک میں اندرونی حالات کی تفصیلات کا صحیح علم نہیں ہے یا پھر وہ ان کو اہمیت ہی نہیں دیتا ہے، اور یہی ان کی اکثر مشکلات کی جڑ ہے۔
بلومبرگ نے لکھا : مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے یمن پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ہار گیا تھا، عراق میں کئی دہائیوں تک حکومت کرنے والے صدام نے ۱۹۸۰ میں ایران پر اور ۱۹۹۰ میں کویت پر حملہ کرکے قبضہ کرنا چاہا لیکن اسے بھی ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔ لہذا سعودی حکام کو بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے۔ سی آئی اے کی سابق آفیسر پِل پیلر جو اس وقت ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے، کہتی ہے کہ محمد بن سلمان کی کوشش یہ ہے کہ اپنے آپ کو سابقہ سعودی بادشاہوں اور اپنے ۸۱ سالہ باپ سے ممتاز ثابت کرسکے، پیلر نے وضاحت کی کہ محمد بن سلمان کو ضرورت سے زیادہ ہی ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ ذمہ داری کو سمجھنے والا اور مشکلات کے سامنے بآسانی نہ جھکنے والا انسان ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ سابقہ حکام کے بالمقابل زیادہ رسک لیتا ہے اور زیادہ بڑے رسک لینے کا مطلب ہار کے لئے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العالم


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17