Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191486
Published : 12/1/2018 11:31

فوجی اہلکار مسلمانوں کے اجتماعی قتل کے ذمہ دار:میانمارفوج کا اعتراف

میانمار کے فوجی سربراہ نے راخین میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا اعتراف کیا ہے۔


ولایت پورٹل:عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق میانمار کے فوجی سربراہ نے راخین میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا اعتراف کیا ہے،اطلاعات کے مطابق میانمار فوج کے آرمی چیف نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں روہنگیامسلمانوں کے قتل  کی ذمہ داری قبول کرلی۔اعترافی بیان میں انہوں نے کہا کہ راخین کی اجتماعی قبر سے ملنے والی 10لاشیں مسلمانوں کی تھیں جنہیں بنگالی دہشت گرد قرار دے کر فوج نے ابدی نیند سلا دیا،میانمار کےفوجی سربراہ نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کے 4فوجی اہلکاروں نے گزشتہ سال 2ستمبر کو راخین کے علاقے انِ ڈن میں 10مسلمانوں کو دہشت گردوں کے حملے کا انتقام لینے کی غرض سے قتل کردیا تھا۔ قبر سے انسانی ڈھانچے برآمد ہونے پر فوج نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا  اور تفتیش کے بعد فوج نے اقرار کیا  کہ مقامی بدھ مت کے پیروکار اور فوجی اہلکار مسلمانوں کے اجتماعی قتل کے ذمہ دار ہیں،بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی  جب کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے  والوں پر بھی گرفت کی جائے گی۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق  فوج اور بدھ پرستوں نے انِ ڈنِ اور اطراف کے علاقوں سے 10مسلمانوں کو پکڑا اور انہیں  مارنے کے بعد لاشوں کواجتماعی طور پر دفن کردیا۔واضح رہے کہ میانمار فوج اور حکومت روہنگیائی افراد کی لسانی و مذہبی بنیادوں پر نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ فوج نے مسلمانوں کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔
مہر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20