Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191924
Published : 5/2/2018 16:30

فکر قرآنی:

کیوں قرآن مجید میں سب سے زیادہ حضرت موسٰی(ع) کا تذکرہ ہوا؟

اصول تو یہی ہے کہ اگر آپ شفاف پانی پینے کے خواہاں ہیں تو پہلے اس منبع اور ظرف یا چشمہ کو صاف کیجئے جس سے پانی آرہا ہے ،اور جب تک فاسد حکومتیں برسر اقتدار ہیں معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی سعادت و کمال کے مراحل طئے کرسکتا ہے لہذا اس قانون سے الہی رہبر بھی مستثنٰی نہیں ہیں لہذا ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کرنے سے پہلے وہاں پر حاکم اصول اور نظام کی اصلاح کریں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! قرآن مجید میں بہت سے انبیاء(ع) کے واقعات اور تذکرے موجود ہیں چنانچہ حضرت شعیب (ع) اور اصحاب مدین کے تذکرہ کے بعد حضرت موسیٰ بن عمران(ع) اور فرعون کے درمیان جنگ کا تذکرہ ملتا ہے اور یہ قرآن مجید میں انبیاء(ع) سے ساتویں نبی کا تذکرہ ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن مجید میں ہر نبی سے زیادہ ہوا ہے چنانچہ تقریباً ۳۰ سوروں میں ۱۰۰ سے زیادہ مرتبہ آپ کے حیات کے مختلف گوشوں کو بیان کیا گیا ہے۔نیز فرعون اور بنی اسرائیل کے ساتھ آپ کے رابطہ اور واسطہ کو تفصیل کے ساتھ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اکثر انبیاء کی بنسبت خصوصیت یہ ہے کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کا واسطہ صرف اپنی اپنی گمراہ اقوام کے ساتھ تھا اور ان سب کی تعلیمات کا سارا زور اپنی اقوام کو سدھارنے اور ان کی اصلاح پر صرف ہوا جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  کا واسطہ اپنی قوم کے علاوہ اپنے زمانہ بلکہ تاریخ کے  سب سے ظالم و جابر اور منفور حاکم ،فرعون سے تھا جس کے خلاف آپ نے قیام کیا۔
اصول تو یہی ہے کہ اگر آپ شفاف پانی پینے کے خواہاں ہیں تو پہلے اس منبع اور ظرف یا چشمہ کو صاف کیجئے جس سے پانی آرہا ہے ،اور جب تک فاسد حکومتیں برسر اقتدار ہیں معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی سعادت و کمال کے مراحل طئے کرسکتا ہے لہذا اس قانون سے الہی رہبر بھی مستثنٰی نہیں ہیں لہذا ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کرنے سے پہلے وہاں پر حاکم اصول اور نظام کی اصلاح کریں۔
اگرچہ قرآن مجید میں حضرت موسٰی علیہ السلام کا فرعون کے ساتھ کئی جگہ پر تذکرہ موجود ہے لیکن ہم صرف ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں اور اس داستان سے عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے بڑے پیغامات موجود ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا مُوسى بِآیاتِنا وَ سُلْطان مُبین۔(سورہ ھود:۹۶)
ترجمہ: اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا۔
اس آئیہ مبارکہ میں «سلطان» کے معنی مکمل مہارت و طاقت کے ہیں کہ یہ لفظ کبھی ظاہری طاقت میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس سے مراد منطقی مہارت اور طاقت لی جاتی ہے،ایسی طاقت کہ جو مخالف کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے اس طرح کہ اس کے سامنے فرار کی تمام راہیں مسدود ہوجائیں۔
اور ایسا لگتا ہے کہ آئیہ مبارکہ میں «سلطان» اسی دوسرے معنٰی میں استعمال ہوا ہے اور لفظ «آیات» سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات مراد ہیں۔
لیکن سوال یہ کہ موسیٰ کو کس کی ہدایت کے لئے بھیجا جارہا ہے تو اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ ۔(سورہ ھود:۹۷)
ترجمہ: فرعون اور اس کی قوم کی طرف۔
چنانچہ «مَلَأ» ان لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ جو ظاہری آنکھوں سے دکھائی دیں اگرچہ وہ اندر سے بلکل خالی ہی کیوں نہ ہوں لیکن قرآنی تعبیر کے مطابق ان اشراف اور شخصیتوں کو کہا جاتا ہے کہ کسی ستمگر کے اطراف اور حلقہ احباب میں شمار ہوتے ہوں۔
جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا پیغام فرعونیوں کو سنایا  تو وہ لوگ اپنے مفاد کو خطرے میں پڑا دیکھ حضرت کے معجزات اور قوی منطق کے سامنے تسلیم ہونے کے بجائے فرعون کی پیروی کو ترجیح دینے لگے فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ۔(سورہ ھود:۹۷)
ترجمہ:تو ان لوگوں نے فرعون کی پیروی کرلی۔
پھر اس کے بعد قرآن سعادت کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ موسٰی حامل سعادت اور صاحب سعادت تھے لیکن یہ قوم آپ کے پاس آنے کے بجائے فرعون کی طرف چلی گئی کہ جس کے پاس سعادت تھی ہی نہیں: وَ ما أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشید۔(سورہ ھود:۹۷)
ترجمہ: لیکن فرعون ان کی سعادت کا ضامن اور ان کی نجات کا سبب نہیں تھا۔
البتہ فرعون نے لوگوں  کو اپنی طرف بلانے اور لبھانے کے لئے کوئی بھی حربہ نہیں چھوڑا تھا بلکہ اس نے اپنے مقاصد و مفاد کے حصول کے لئے نفسیاتی حربوں اور چالوں سے بھی استفادہ کیا تھا تاکہ لوگ موسٰی کے خلاف ہوجائیں جیسا کہ خود قرآن مجید میں اشارے موجود ہے،کبھی کہتا تھا: یُریدُ أَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ أَرْضِکُم۔(سورہ اعراف:۱۱۰)
ترجمہ: موسیٰ تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکالنا چاہتاہے ۔
اور کبھی لوگوں کے مذہبی جوش اور ولولے سے کھلواڑ کرتا تھا: إِنِّی أَخافُ أَنْ یُبَدِّلَ دینَکُمْ۔(سورہ غافر:۲۶)
ترجمہ: مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ تمہارے دین کو تبدیل نہ کردے۔
اور کبھی جناب موسٰی علیہ السلام کو زمین پر فساد پھیلانے کا الزام  لگایا: أَوْ أَنْ یُظْهِرَ فِی الأَرْضِ الْفَسادَ۔(سورہ اعراف:۲۶)
ترجمہ: اور زمین میں کوئی فساد نہ برپا کردیں۔
پس فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تحریک کو کچلنے کی بے حد کوششیں کیں اور بنی اسرائیل کو گمراہ کرنے کے کسی بھی موقع سے دستبردار نہ ہوا تو ظاہر ہے ایسی قوم اسی وقت ہدایت یافتہ بن سکتی تھی جب ان کے سروں سے فرعونیت کا غرور ٹوٹ جائے ورنہ ان کی نجات مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام جانتے تھے جب تک فرعونی نظام قائم ہے لوگوں کے دلوں کے اندر موجود سیاہ نکتوں کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔
قارئین ہمیں اس داستان سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی معاشرہ میں حکومت  لوگوں کی ذہنی و فکری پرورش اور تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے لہذا جب تک کسی بھی معاشرے میں فرعون صفت لوگ موجود ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی  اس کی اصلاح کا کم با آسانی کیا جاسکتا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15