Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191934
Published : 5/2/2018 19:33

نئی جنگجو نسل کی ٹریننگ کے لئے داعشی سرمایہ کاری

Lejdd.fr سائٹ نے ترکی میں پناہ گزین دو ایسے بچوں کا انٹریو لیا جنہوں نے داعشی ٹریننگ سینٹر میں تربیت پائی چنانچہ ۸ اور ۱۰ برس کے ان دو سگے بھائیوں نے بتایا کہ اس سینٹر میں ہمیں لوگوں کے قتل کرنے کی مشق کرائی جاتی تھی کہ کس طرح صرف چند سیکنڈ کے اندر کسی بھی انسان کا سر قلم کیا جاتا ہے،چنانچہ اس نے بتایا کہ پہلے ایک قوی ضرب سے اس کی گردن کو سیدھی کردیا جائے اور پھر چند لمحوں میں اس کی گردن کو پشت کی طرف سے اڑائی دی جائے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! داعش کی نئی نسل پر کام کرنے اور ان کی خاص انداز میں تربیت کرنے پر کثیر سرمایہ کاری کی داستان کسی پر پوشیدہ نہیں ہے چونکہ وہ اس طرح اپنے شدت آمیز افکار کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
اور ان کے اہتمام کا اندازہ ان اعداد و ارقام سے ہوتا ہے کہ جو پچھلے سال مارچ میں انگلینڈ کے تحقیقاتی سینٹر«کویلیم» نے شائع کئے تھے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقہ میں ۳۰۰۰۰ ہزار خواتین حاملہ ہیں کہ جن کے یہاں جلد ہی ولادت ہونے والی ہے اور جن کے بچے داعش کی فکر کو پروان چڑھانے کے لئے ان سے ملحق ہوجائیں گے۔
اور جیسا کہ نیکیٹا مالک،داعش کے معاملات پر تحقیق کرنے والے ایک محقق نے حال ہی میں تحقیق کی  ہے کہ داعشی ٹولہ خواتین کو بندی بناکر ان کا جنسی استحصال کرتے ہیں اور ان کو داعشی اولاد پیدا کرنے پر وادار کرتے ہیں۔
جس طرح انگلینڈ کے ۵۰ جوان کہ جو بچپن ہی سے شدت پسند تھے انھیں داعش کے قائم کردہ ٹریننگ سینٹرز میں رکھ کر پروان چڑھایا گیا،نیکیٹا مالک کہتے ہیں کہ :ان ۵۰ جوانوں میں شدت وحشت کی حد تک پروان چڑھ چکی ہے،مالک کہتے ہیں کہ:داعش کی طرف سے منظم ہونے والے سلیبس میں ابتدائی اسٹوڈینٹس کے لئے ریاضیات کی کتابوں میں بندوق اور ٹنیک وغیرہ کی تصاویر سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
داعش کیسے کرتی ہے بچوں کا استحصال؟
نیکیٹا مالک کی تحقیق کے مطابق داعشی ٹولہ بچوں کے افکار سے کھلواڑ کرنے کے لئے کچھ خاص اسلوب سے کام لیتے ہیں اور جہاں یہ بچے تعلیم پاتے ہیں وہ درحقیت اسکول نہیں بلکہ داعشیوں کی فوجی چھاؤنیاں ہوتی ہیں۔
انگلینڈ کے اس تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان سیٹرز میں بچوں کو بچپن ہی میں افراطی اور شدت آمیز اسباق سے روشناس کرایا جاتا ہے جس کے سبب یہ اپنی نادان عمر میں ہی انتحاری حملے کرنے کے لئے ٹرینڈ ہوجاتے ہیں۔
اس رپورٹ  کے مطابق داعشی ان بچوں کو اپنے مقاصد میں استعمال کو اپنے طرز فکر کے فروغ اور ترویج کی ضمانت سمجھتے ہیں،چونکہ مستقبل قریب میں ان بچوں سے جو نسلیں وجود میں آئیں گی وہ ان سے بھی کہیں زیادہ خونریز اور وحشی ہونگی۔
جبکہ بعض محققین کا  یہ ماننا ہے کہ داعش اپنے بچوں کو جرمن کے «نازيسم»  مکتب کی طرز پر پروان چڑھا رہے ہیں اور ان کی زیادہ تر تعلمیمات نازیوں ہی سے لی گئی ہیں۔
جنگ زدہ علاقوں میں بچوں پر داعش کے مظالم
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق ۱۵ مارچ ۲۰۱۱  سے ابھی تک  شام میں تقریباً ۳۷ لاکھ بچے متولد ہوئے ہیں کہ جنہوں نے خون کی بہتے دریاؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے  جبکہ ان میں سے ۱۵۱۰۰۰ بچے ترکی،لبنان اور اردن کے پناہ گزیں کیمپوں میں پیدا ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقریباً ۸۰ فیصد بچے جنگ سے متاثر ہوئے ہیں جن  کو پیدا ہوتے ہی شدت اور غصہ کی چادر نے جنھیں ڈھانپ لیا ہے۔ چنانچہ مغرب ایشاء میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کے تبصرہ کے مطابق: آج ملک شام میں شدت ایک عام عادت کی صورت میں تبدیل ہوچکی ہے،اور شدت پسندی گھروں،اسکولوں،ہسپتالوں،پارکوں اور عبادتگاہوں تک میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
نیز اس رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ۷ لاکھ بچے فقر اور بھوک سے دوچار ہیں چونکہ فقر و فاقہ کے سبب ان بچوں کو محرومیت کا منھ دیکھنا پڑا ہے نیز اس رپورٹ میں ۱۵۰۰ ایسے موارد کی طرف  بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ جن میں شام کے بچوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا تھا کہ جن میں ۶۰ فیصد حملات انتحاری تھے کہ جو بازار ،بس اسٹاپ یا دوسری عمومی جگہوں پر کئے گئے تھے،نیز ان میں کچھ بچے تو خود اسکول ہی میں قتل کردیئے گئے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق شام کے پناہ گزینوں کی تعداد پڑوسی ممالک میں ۲۰۱۲ کی نسبت ۱۰ گنا اضافہ ہوئی ہے کہ جن میں آدھی تعداد بچوں کی ہے کہ جن میں ۱۵۰۰۰ بچوں نے اپنے والدین کے بغیر ہی شامی سرحد کو عبور کیا ہے ۔
یونیسف کے نمائندہ  کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے سبب دسیوں لاکھ شامی بچے اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ اس طرح وضاحت کرتے ہیں:جب تک یہ صورتحال چلتی رہے گی بچے اسکولوں کو خیرباد کہہ کر تلاش معاش کے لئے اور لڑکیاں جلد ہی شادی کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔
Lejdd.fr سائٹ نے ترکی میں پناہ گزین دو  ایسے  بچوں کا انٹریو لیا جنہوں نے داعشی ٹریننگ سینٹر میں تربیت پائی چنانچہ ۸ اور ۱۰ برس کے ان دو سگے بھائیوں نے بتایا کہ اس سینٹر میں ہمیں لوگوں کے قتل کرنے کی مشق کرائی جاتی تھی کہ کس طرح صرف چند سیکنڈ کے اندر کسی بھی انسان کا سر قلم کیا جاتا ہے،چنانچہ اس نے بتایا کہ پہلے ایک قوی ضرب سے  اس کی گردن کو سیدھی کردیا جائے اور پھر چند لمحوں میں اس کی گردن کو پشت کی طرف سے اڑائی دی جائے۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب انٹریو لینے والا اس بچے کی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا تو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کسی شاباش کہنے والے کا منتظر ہو!!!!!!!!!!
یقیناً یہ مشقیں ان بچوں کے لئے فی الحال ایک کھیل ہے چونکہ وہ پلاسٹک سے بنے خنجر سے مشق کرتے ہیں اور مقتول بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود ان کا اپنا ہی بھائی یا کوئی رشتہ دار ہوتا ہے۔ پھر ان دونوں بھائیوں نے بتلایا کہ وہ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد خودکش حملوں کی مشقیں کیا کرتے تھے۔
اب اگرچہ ۴ مہینہ ہوگئے یہ دونوں بھائی آدم کشی کی مشقوں سے دور ہوچکے ہیں لیکن ان کی حالت ابھی بھی پہلے جیسی ہے یہ صرف دو بچے نہیں بلکہ ہزاروں ایسے بچے ہیں جنہوں نے داعشی مراکز میں دہشتگردی کی ٹریننگ حاصل کی ہے۔ اور خود ان دو بھائیوں کے بقول انھوں نے دو داعشی مراکز میں ٹریننگ لی ہے ،ان مراکز میں  ۷ سے ۱۵ سال کے ۱۵۰ بچے ان کے ساتھ تھے جو بالکل دنیا اور ما فیہا سے دور، جن کی مشقیں دقیق وقت پر شروع ہوجاتی تھی۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14