Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191964
Published : 7/2/2018 18:2

امام صادق(ع) کی نظر میں کمال ایمان کے 4 معیار

ہمارے اور آپ کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ: صرف وہ انسان کامل الایمان ہے جس میں یہ 4 صفات بھی پائے جائیں: اس کا اخلاق کریمانہ ہو، اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھے،اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے واجب حقوق(مالی حقوق) کو ادا کرے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! ایمان بڑی دولت ہے جس کے پاس یہ دولت ہے اسے دوسری دولت کی فکر بوڑھا نہیں کرسکتی،لیکن جس کے پاس ظاہری دولت تو بہت ہو لیکن اس کا دامن ثروت ایمان سے خالی ہو وہ دنیا کا سب سے تنگدست اور فقیر انسان ہے لہذا ہمیں یہ فکر کرنی چاہیئے کہ آخر ایمان کیا ہے اور اس کا حصول کس طرح ممکن ہوگا؟
اگرچہ توحید،عدل، نبوت،امامت اور قیامت کا عقیدہ بھی ایمان کہلاتا ہے تو کیا ہمارے لئے صرف انہیں پانچ پر دل کو جمانا واجب ہے یا ان کے ساتھ کچھ دیگر امور کی بھی ضرورت پڑتی ہے؟
ہمارے اور آپ کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ: صرف وہ انسان کامل الایمان ہے جس میں یہ 4 صفات بھی پائے جائیں: اس کا اخلاق کریمانہ ہو، اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھے،اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے واجب حقوق(مالی حقوق) کو ادا کرے۔(الأمالي،طوسي، ص125)۔
چنانچہ اس حدیث نے ہمارے لئے ان 4 چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے:
1۔نیک اخلاق: البتہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی اسلام نے تاکید کی ہے اور جو ہمارے لئے باعث زینت بنیں چونکہ معصوم علیہ السلام کا ارشاد ہے: لوگوں کے درمیان حسن خلق کا مظاہرہ اسلام کے لئے باعث زینت ہے۔(مشکاةالانوار،ص 240)۔
2۔نفس امارہ کو قابو میں رکھنا:اس حدیث شریف میں کمال ایمان کا دوسرا معیار اپنے نفس پر قابو پانا ہے چنانچہ مولائے متقیان علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: نفس ڈھیلی لگام  کی طرح ہے لیکن عقل و خرد کے ہاتھوں نے انہیں تھام رکھا ہے تاکہ یہ ہلاکت میں نہ پڑجائے۔ (غررالحکم و دررالکلم، ص115)۔
3۔زبان کی حفاظت: کمال ایمان کا تیسرا معیار زبان کی حفاظت اور فضول گوئی سے پرہیز کو بتایا گیا ہے۔ رسول خدا(ص) کا فرمان ہے: جو شخص بھی توحید اور قیامت پر عقیدہ رکھتا ہے اس چاہیئے کہ وہ صرف خیر ہی اپنی زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔(الكافي، ج2، ص667)۔
4۔واجب مال کی ادائیگی: کمال ایمان کا چھوتھا معیار انسان کے ذمہ واجب اموال کی ادائیگی کو بتلایا گیا ہے جیسا کہ پیغمبر خدا(ص) کا ارشاد مبارک ہے: مجھے اس لئے مامور کیا گیا ہے کہ میں صدقات(خمس و زکات وغیرہ) کو تمہارے مالداروں سے لیکر تم میں جو فقیر ہیں ان کے حوالے کروں۔(مستدرک الوسائل، ج7، ص105)۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15