Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191992
Published : 10/2/2018 16:1

بہشت کی ضمانت

ابو بصیر کہتے ہیں کہ اس کے انتقال کے کچھ دن بعد جب میرا مدینہ جانا ہوا اور میں امام صادق علیہ السلام کے بیت الشرف میں داخل ہورہا تھا اس حال میں کہ میرا ایک پاؤں گھر کے اندر اور ابھی ایک پیر باہر ہی تھا کہ حضرت اپنے کمرے سے باہر تشریف لائے اور اس سے پہلے میں کچھ کہتا فرمایا: اے ابو بصیر! ہم نے تیرے رفیق سے کیا وعدہ پورا کردیا۔

ولایت پورٹل: جناب ابو بصیر بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک پڑوسی تھا کہ جو خلیفہ کا مرید اور پیرو تھا کہ جس نے رشوت غصب اور حرام طریقہ سے بہت سا مال جمع کررکھا تھا اور وہ کبھی کبھی اپنے گھر گانے بجانے والی عورتوں کو بلاتا اور پوری رات گانے بجانے اور شراب پینے میں مصروف رہتا تھا۔
میں اس کی اس عادت سے سخت نالاں تھا اور کئی بار میں نے خود اس سے کہا کہ تم یہ سب کام مت کیا کرو ہم لوگوں کو اذیت ہوتی ہے لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور چونکہ میں نے بے حد اصرار کیا تو اس نے کہا: میں بہت سی ایسی مشکلات میں گرفتار ہوں تم جیسا عافیت طلب انسان انہیں درک نہیں کرسکتا اور اگر ہوسکے تو میرے بارے میں اپنے صاحب (امام جعفر صادق علیہ السلام) سے اگر کہو تو شاید خدا مجھے تمہارے وسیلہ سے نجات عنایت کردے۔
چنانچہ اس کی باتوں نے میرے دل میں بے حد اثر کیا اور جیسے ہی میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا میں نے اس کا حال حضرت کے سامنے کہہ سنایا۔
حضرت نے مجھ سے فرمایا: جب تم کوفہ لوٹ کر جاؤ تو وہ تمہارے پاس آئے گا تو تم اس سے کہنا کہ جعفر بن محمد نے کہا ہے کہ: تم وہ سب کام چھوڑ دو جنہیں کرتے ہو میں تمہاری جنت کی ضمانت لیتا ہوں۔
ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں جیسے ہی کوفہ لوٹ کر آیا تو بہت سے کوفہ والے مجھ سے ملنے کے لئے آئے ان میں ایک وہ بھی تھا،میں نے اسے اپنے پاس بلایا اور گھر تک اس کے ساتھ ہولیا پس میں نے اس سے کہا: اے بندہ خدا! میں نے تیری روداد امام صادق علیہ السلام کے خدمت میں بیان کی اور حضرت نے تجھے یہ پیغام بھیجا ہے،وہ شخص رونے لگا اور کہا: تمہیں خدا کا واسطہ! کیا تم نے واقعاً میری داستان امام کے سامنے بیان کی اور امام نے مجھے یہ کہلایا ہے۔
لہذا میں نے اسے جب یقین دلایا تو وہ شخص میرے پاس سے چلا گیا اور چند دن بعد اس نے مجھے پیغام بھجوایا اور مجھے طلب کیا جب میں اس سے ملاقات کے لئے گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے دروازے کے پیچھے بغیر لباس کے بیٹھا ہوا ہے چنانچہ اس نے مجھے کہا: ابو بصیر! میرے گھر میں جو کچھ تھا میں نے وہ سب مال ان کے حقیقی مالکوں تک پہونچا دیا یہاں تک کہ جو  لباس میرے  جسم پر  تھا وہ بھی! اور اب تمہارے سامنے اس حال میں بیٹھا ہوا ہوں۔
ابو بصیر کہتے ہیں کہ: میں اپنے کچھ دوستوں کے پاس گیا اور اس کے لئے کپڑوں کا انتظام کیا ابھی چند دن بھی نہ گذرے تھے کہ وہ سخت بیمار ہوا اور اس نے مجھے پیغام بھجوایا میں نے اس کے معالجہ کے لئے لاکھ جتن کئے لیکن وہ صحتیاب نہ ہوسکا جب اس پر احتضار کی حالت طاری تھی میں اس کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا،وہ اس عالم میں کبھی بے ہوش ہوجاتا اور کبھی اسے افاقہ ہوجاتا تھا تو اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ابو بصیر! تمہارے صاحب(امام صادق علیہ السلام ) نے اپنے وعدہ پر عمل کیا اور یہ کہہ کر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
اس کے انتقال کے کچھ دن بعد جب میرا مدینہ جانا ہوا اور میں امام صادق علیہ السلام کے بیت الشرف میں داخل ہورہا تھا اس حال میں کہ میرا ایک پاؤں گھر کے اندر اور ابھی ایک پیر باہر ہی تھا کہ حضرت اپنے کمرے سے باہر تشریف لائے اور اس سے پہلے میں کچھ کہتا فرمایا: اے ابو بصیر! ہم نے تیرے رفیق سے کیا وعدہ پورا کردیا۔

ماخد: منتهی الامال، ج 2، ص 247  ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18