Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192034
Published : 12/2/2018 19:47

اسلامی انقلاب کی ۳۹ویں سالگرہ پر خصوصی پیشکش:

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ترقی کی ایک جھلک ؛اینفوگرافی

بس! اختصار کے ساتھ اتنا جان لینا ہی کافی ہے کہ اسلامی انقلاب سے پہلے ایران کے چھوٹے چھوٹے کاموں کو کرنے کے لئے بیرون ممالک سے ماہرین کو بلوا کر ان کی خدمات لی جاتی تھیں جس کے معاوضہ کے طور پر یہاں کے باشندوں کو بھاری قیمتیں ادا کرنی پڑتی تھیں لیکن انقلاب نے انہیں جینے کا شعور دیا اور اس سرزمین کے جوانوں نے اللہ پر توکل کے سہارے یہ ہی نہیں کہ بیرونی ممالک سے آنے والی اشیاء پر روک سی لگا دی ہے بلکہ یہ خود خطہ کے دوسرے ممالک کو اپنے یہاں کی بنی ٹکنالوجکل چیزیں فراہم کرنے لگے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی عظیم و وسیع تحول کا نقطہ آغاز تھی ایسا انقلاب جس نے عالمی محاسبات و آنکڑوں کو ہی تبدیل کردیا عالمی استعمار تو شاید یہ سوچ رہا تھا کہ یہ انقلاب بس کچھ دن ہی کے بعد خود بخود ہماری آغوش میں آبیٹھے گا اور پھر ہم وہی کریں گے جو پہلے کرتے آئیں ہیں لیکن یہ الہی انقلاب تاریخ میں ایک ایسا منظر پیش کرنے لگا کہ جیسے سامراجیت کے پیروں میں کسی نے بیڑیاں ہی ڈال دی ہوں،اس انقلاب نے ایرانی قوم کو زندگی کے ہر شعبہ میں بہترین کارکردگی کرنے کا جذبہ اور حوصلہ عنایت کیا لہذا مختلف میدانوں،سیاسی،اجتماعی،تمدنی،سائنسی،تکنیکی جیسے شعبوں میں قابل قدر اور نمایاں کام انجام پائے۔
در واقع  ایران کا اسلامی انقلاب خود کفائی،استقلال و آزادی اور ایران میں مداخلت کرنے والے ہر شرقی و غربی ہاتھ کو کاٹنے کے لئے نہایت حساس موڑ تھا چنانچہ ایرانی ماہرین نے کمر ہمت باندھی تاکہ ایران کے سرمائے کو بیرونی طاقتوں کے پنجوں سے بچایا جاسکے۔
اگر ہم غور و فکر کریں کہ گذشتہ ۳۹ برس میں ایران نے سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں کیا ترقی کی ہے تو ہمیں پہلے یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ طلوع انقلاب سے پہلے یہاں کی کیا حالت تھی؟
اگر ماضی کی ابتر حالت اور پسماندگی کی تفصیل تحریر کی جائے تو شاید ایک مکمل تحقیق در آئے۔ بس! اختصار کے ساتھ اتنا جان لینا ہی کافی ہے کہ اسلامی انقلاب سے پہلے ایران کے چھوٹے چھوٹے کاموں کو کرنے کے لئے بیرون ممالک سے ماہرین کو بلوا کر ان کی خدمات لی جاتی تھیں جس کے معاوضہ کے طور پر یہاں کے باشندوں کو بھاری قیمتیں ادا کرنی پڑتی تھیں لیکن انقلاب نے انہیں جینے کا شعور دیا اور اس سرزمین کے جوانوں نے اللہ پر توکل کے سہارے یہ ہی نہیں کہ بیرونی ممالک سے آنے والی اشیاء پر روک سی لگا دی ہے بلکہ یہ خود خطہ کے دوسرے ممالک کو اپنے یہاں کی بنی ٹکنالوجکل چیزیں فراہم کرنے لگے۔
انقلاب سے پہلے یہ ملک ٹیکنالوجی کے میدان میں بیرونی ممالک کا محتاج تھا یہاں تک کہ اسے مریضوں کی دوا کی فراہمی کے لئے بھی بیرون ملک کی سرحدوں پر آس لگانا پڑتی تھی لیکن انقلاب اسلامی کی برکتوں نے اسے ان ٹکنالوجی تک بھی پہونچایا جو دنیا میں صرف چند ہی بڑے اور ثروت مند ممالک کے پاس ہے چنانچہ نانو ٹیکنالوجی،بنیادی سیل ٹکنالوجی Stem Cells ،جوہری ٹکنالوجی ، ایئر اسپیس فیلڈ،میڈیسن  وغیرہ وہ میدان ہیں جن میں ایران اس وقت ایک خود کفیل ملک ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے پڑوسی ممالک کو بھی اپنے تجربات سے استفادہ کا موقع فراہم کررہا ہے۔
اگرچہ یہ میدان بہت وسیع ہے ہم نے صرف چند معروف تکنیکوں کا تذکرہ کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایران اس وقت کہاں کھڑا ہے۔
دنیا میں ایران کا علمی مقام  
اسلامی جمہوریہ ایران آج اسلامی دنیا میں ترقی کا سنبل سمجھا جاتا ہے،چنانچہ  ٹیکنالوجی اور تحقیقی میدان یعنی  Stem Cells کے میدان میں ایران اس وقت دنیا کے ۱۰ ان ممالک کی فہرست میں آتا ہے جن کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہے غرض ایرانی جوانوں نے اس میدان میں بہت ترقی کی ہے۔
اسی طرح جوہری توانائی(Nuclear technology) کے شعبہ میں بھی ایران نے عجیب و حیرت انگیز حد تک ترقی کی ہے اور اس کی مسلسل کامیابیاں سبب بنیں کہ سن ۲۰۱۳ میں برطانیہ کے معروف ادارے British Petroleum نے جوہری توانائی میں اسے دنیا کے ۲۹ بڑے اور فعال ممالک میں شمار کیا ہے۔
نیز (Aerospace)  بھی ایک ایسا شعبہ ہے کہ انقلاب اسلامی سے پہلے تو ایران میں یہ تکنیک بالکل بھی نہیں تھی،اگرچہ اس میدان میں بہت تاخیر سے کام شروع ہوا لیکن کام اتنی سرعت اور خلوص کے ساتھ انجام پایا کہ ایران دنیا کے ۹ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جس شعبہ کو خاص اہمیت دی گئی اور جس کی اشد ضرورت بھی تھی کہ ایران شعبہ صحت میں خود کفیل بن جائے،انقلاب سے پہلے ایران میں ڈاکٹروں کی تعداد صرف ۱۵ ہزار تھی لیکن اس وقت یہاں ماہر ڈاکٹرز کی تعداد ۵ لاکھ سے زیادہ ہے  چنانچہ ایران میں آج ایسی دوائیں عام طور پر دستیاب ہیں جو دیگر ممالک میں بہت مہنگی اور سختی سے ہاتھ آتی ہیں چنانچہ ایڈس،ذیابت،کم خونی اور کینسر وغیرہ موذی امراض کی دوائیں آج ایران کی اپنی محصول ہے اور با آسانی فراہم بھی۔(۱)
مغرب کو ایران کی ترقی سے خطرہ
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے  علمی اور تکنیکی پس ماندگی بہت خطرناک حد تک پہونچ چکی تھی  لہذا ان پس ماندگیوں سے نجات اور علمی میدان میں ترقی کرنا ایرانیوں کے لئے دشوار ترین آرزو بن چکی تھی لہذا اسلامی انقلاب کے خورشید پُر طمازت نے اس قوم کی زندگی سے سائے کے وجود کو  ختم کر انھیں ترقی کے بام عروج پر لاکھڑا کیا۔
اور ابھی حال ہی میں ایران نے علمی اور ٹیکنالوجی کے بہت سے ایسے نادر شعبوں میں ترقی کی ہے کہ جنہوں نے غرب والوں کو حیرت میں ڈال دیا لہذا اس کی ترقی کا راستہ روکنے کے لئے ہی وہ ہر روز ایران پر کوئی نہ کوئی پابندی لگاتے رہتے ہیں چونکہ ان کی نظر میں ایران کی ترقی کو روکنے کے لئے شاید ان کے پاس سب سے بڑا یہی ہتھیار ہے اور چونکہ وہ ایران کے استقلال،خود کفائی اور طاقتور ہونے کو برداشت نہیں کرپارہے  لہذا ہر روز نئی نئی اور سخت پابندیاں عائد کرنا ان کا روز ہی کا معمول بن گیا ہے۔
دنیا کے علمی اور تحقیقی حلقوں کی جانب سے شائع ہونے والے اعداد و ارقام کے مطابق ایران میں علمی ترقی کو گراف متوسط سے ۱۱ گنا زیادہ ہے جو خود اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ایران ترقی کرکے اپنے کو کہاں پہونچانا چاہتا ہے  چنانچہ علمی میدان میں ایران دنیا کے ۱۲ ویں نمبر پر کھڑا ہے۔
قارئین! ہم ذیل میں ایران کے ٹیکنالوجی شعبوں کی کچھ اہم محصولات کا تذکرہ کررہے ہیں:
۱۔ایران اس وقت علمی ایٹمی کلب کا رکن ہے۔
۲۔ایران مغربی ایشاء میں شعبہ صحت کا ایک اہم مرکز بننے کے نزدیک ہے۔
۳۔ورلڈ اسپیس کلب  میں ایران کا داخلہ بھی اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ثمرات میں سے ایک ہے۔
۴۔ایران میں میڈیکل شعبہ نے حیرت ناک حد تک ترقی کی ہے کہ تنسیل حیوانات(cloning) میں اس وقت ایران دنیا کے تقریباً پہلے نمبر پر آتا ہے۔(۲)
نتجہ:
اسلامی انقلاب کو جتنا زمانہ گذر رہا ہے اس کی علمی، صنعتی اور ٹکنالوجی ترقی اور کامیابی کی فہرست ہر روز طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے  اور دشمن کی نرم جنگ کا ایک اصلی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو آج جدید دنیا کی نت نئی ٹیکنالوجی کے حصول میں کمزور اور بے بس بنانا ہے لہذا ان علمی اور ٹیکنالوجی شعبوں میں ترقی اور دیگر شعبوں میں کامیابی در حقیقت اسلامی انقلاب کی ہی دین ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مروری بر مهم ترین دستاوردهای ۳۵ساله انقلاب اسلامی، خبرگزاری تسنیم، بهمن ماه 1392۔
۲۔دستاوردهای علمی بعد از انقلاب، پایگاه خبری تابناک، 1395۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11