Sunday - 2018 June 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192047
Published : 13/2/2018 17:1

نہج البلاغہ میں شب بیدار لوگوں کی خصوصیت

امام علی علیہ السلام راتوں کو عبادت کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں: رات ہوتی ہے تو (عبادت کے لئے )اپنے پیر جوڑکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کو آرام کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ،آیات کی زمزمہ خوانی اور اس کے مفاہیم پر توجہ کی وجہ سے اپنے دلوں میں عارفانہ غم و اندوہ کی لہریں پیدا کرتے ہیں اور اس طرح اپنے درد کی دوائیں ڈھونڈتے ہیں۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! نہج البلاغہ علوی تعلیمات کا وہ بحر بیکراں ہے جس کی گہرائی اور عمق کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا،حضرت نے اپنے ان خطبات،خطوط اور کلمات میں معارف کے دریا بہائے ہیں اور دنیا کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے لیکر کائنات کی بڑی بڑی حقیقتوں سے پردے اٹھائے ہیں۔
نہج البلاغہ میں یوں تو بہت سے موضوعات پر حضرت کے فرامین موجود ہیں لیکن میری نظر میں آپ نے انسان کے عبادی پہلو کو خاص طور پر اہمیت دی ہے اور ایسا ہوتا بھی کیوں نہ چونکہ اگر علی علیہ السلام ہی بشریت کو اس کے مقصد تخلیق سے آشنا نہ کرتے تو اس بھٹکے ہوئے انسان کو کون اپنے مالک و خالق سے متصل کرسکتا تھا چنانچہ آج ہم جس پہلو پر آپ کی توجہات کو مبذول کرنا چاہتے ہیں وہ شب بیداری اور رات کے سناٹے میں اپنے رب سے لو لگانا ہے جیسا کہ آپ ارشاد فرماتے ہیں:
اَمَّااللَّیْلُ فَصَافُّونَ اَقْدَامُھُمْ تَالِیْنَ لِاَجْزَائِ الْقُرْآنِ یُرَتِّلُونَھَا تَرْتِیْلاً یَحْزَنُوْنَ بِهٖ اَنْفُسَھُمْ وَیَسْتَشِیْرُوْنَ بِهٖ دَوَائَ دَائِھِمْ فَاِذَا مَرُّوابِآیَةٍ فِیْھَا تَشْوِیْقٌ رَکَنُوْا الیها طمعا و تطلعت نفوسهم الیها شوقا و ظنّوا انّها نصب اعینهم و اذا مرّوا بآیة فیها تخویف اصغوا الیها مسامع قلوبهم و ظنّوا انّ زفیرجهنّم و شهیقها فی اصول اٰذانهم فهم حانون علیٰ اوساطهم، مفترشون لجباہهم و اکفّهم و رکبهم و اطراف اقدامهم یطلبون الیٰ اللہ تعالیٰ فی فکاک رقابهم و اماالنهار فحلماء علماء ابرار اتقیاء۔(نہج البلاغہ: خطبہ ۱۹۱) ۔
ترجمہ: رات ہوتی ہے تو (عبادت کے لئے )اپنے پیر جوڑکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کو آرام کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ،آیات کی زمزمہ خوانی اور اس کے مفاہیم پر توجہ کی وجہ سے اپنے دلوں میں عارفانہ غم و اندوہ کی لہریں پیدا کرتے ہیں اور اس طرح اپنے درد کی دوائیں ڈھونڈتے ہیں ،قرآن کی زبان سے جو کچھ سنتے ہیں گویا وہ ان کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرتے ہیں ،جب کسی ایسی رحمت کی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی ہو تو اس کی طمع میں پڑجاتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچنے لگتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ پرکیف منظر بالکل ان کی نظروں کے سامنے یا «ان کا نصب العین» ہے اور جب کسی آیت قہر وغضب پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں دوزخ سے ڈرایا گیا ہو تو اس کی جانب دل کے کانوں کو لگا دیتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ گویا جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کی آواز اور وہاں کی چیخ و پکار ان کے کانوں تک پہنچ رہی ہے۔ وہ (رکوع میں)اپنی کمریں جھکا دیتے ہیں اور (سجدہ میں ) اپنی پیشانیاں وہ تھیلیاں گھٹنے اور قدموں کے سرے (انگوٹھے) زمین پر بچھادیتے ہیں اور اللہ سے اپنی گلو خلاصی کے لئے التجائیں کرتے ہیں (یہی لوگ جن کی راتیں اس طرح بیداری میں بسر ہوتی ہیں)دن ہوتا ہے تو اپنی اجتماعی زندگی میں ایک نیکو کار اور پرہیز گار مرد نظر آتے ہیں۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 June 24