Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192049
Published : 13/2/2018 17:19

ظہور کے بعد امام زمانہ(عج) کے دشمن؟

امام جعفرصادق(ع) نے اپنی فرمائشات میں جن افراد کا تذکرہ فر مایا ہے کہ:«ایسے لو گ بھی ہوں گے جو امام زمانہ(عج) پر ظلم کریں گے ، انہیں اذیت و آزار پہنچائیں گے»۔ایسے افراد کا وجود بعید نہیں ہے اس لئے کہ خود ہمارے زمانہ اور عصر حاضر میں بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جب ہم امام جعفر صادق(ع) کی یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ ظہور کے بعد علم خدا کے معدن و مظہر امام معصوم کی موجودگی میں بھی بعض احمق اور شیطانی تقدس کے مالک افراد آنحضرت (عج)کے مقابلہ میں قیام کریں گے ،آپ(ع) پر اعتراضات کریں گے اور آپ کے اقدامات کو غلط ٹھہرائیں گے تو ہمیں شاید تعجب ہو کہ اس زمانہ میں آخر ایسے افراد کیسے پائے جاسکتے ہیں؟
کیا کوئی امام معصوم پر بھی اعتراض کر سکتا ہے؟ کیا ان حضرات کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آنحضرت(عج)معصوم ہیں اور معصوم سے خطا اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا؟ کیا آپ کی عصمت کے بارے میں متعدد آیات و روایات نہیں پائی جاتی ہیں ؟ کیا آنحضرت(ع) کی اطاعت واجب نہیں؟ کیا آپ کے سامنے چوں و چرا حرام نہیں ہے؟ کم ازکم اتنا تو تسلیم کرنا ہی چاہئے کہ جیسے ایک ماہر اور متخصص کے سامنے جا ہل کا چوں و چرا ممنو ع ہے ایسے ہی امام معصوم کے سامنے عام آدمی کیلئے اعتراض بھی ممنو ع ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
لیکن امام جعفرصادق(ع) نے اپنی فرمائشات میں جن افراد کا تذکرہ فر مایا ہے کہ:«ایسے لو گ بھی ہوں گے جو امام زمانہ(عج) پر ظلم کریں گے ، انہیں اذیت و آزار پہنچائیں گے»۔ایسے افراد کا وجود بعید نہیں ہے اس لئے کہ خود ہمارے زمانہ اور عصر حاضر میں بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں۔
ہمیں یاد ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں سیاسی وثقافتی توسیع کے نام پر بعض ذمہ دار افراد کی تساہلی یا در گذر کی پالیسی کے باعث دین، اسلامی مقدسات حتی کہ ائمہ معصومین(ع) کی شان میں بے شمار گستاخیاں ہوئی ہیں۔ آزادی فکر اور آزادیٔ عقیدہ کے نام پر معنویات کی تضحیک و توہین اور خداوند عالم، پیغمبر اکرم(ص) اہل بیت اطہار(ع)، قرآن کریم، اسلامی اقدار کے تئیں کس جرأت و جسارت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔ یہ تمام بے ہودگیاں اس صورت میں ہورہیں تھیں کہ جب ایسے مقررین اور صاحبان قلم خود کو مسلمان اور شیعہ بتا رہے تھے۔ان تمام جسارتوں کے باوجود یہ لوگ ایک جانب خود کو شیعہ کہتے ہیں دوسری جانب اسلام اور تشیع کے مسلمہ اصولوں اور الٰہی قوانین کو قابل تنقید سمجھتے ہیں۔ اور پیغمبر اکرم(ص)، اہل بیت اطہار (ع)کو جائز الخطاء اور غیرمعصوم سمجھتے ہیں۔ امیر المؤمین حضرت علی(ع) کو شدت پسند اور غیر منطقی روش کا مالک بتاتے ہیں۔ واقعہ کربلا میں سیدالشہداء (ع)کے قیام کو غلط ٹھراتے ہیں اور قرآن کو غیرمقدس اور غیر معتبر قرار دیتے ہیں!!!
کیا اسلام وتشیع کے مسلمہ اصولوں کے ذریعہ یہ لو گ یہاں تک پہنچے ہیں؟ ان باتوں کے بعد اسلام و تشیع اور کفر یا دیگر تحریف شدہ ادیان کے درمیان حد فاصل کیا ہے؟ کیا ان عقائد کے با وجود کوئی انسان دیندار ہوسکتا ہے؟ دینداری اور بے دینی میں پھر فرق ہی کیا ہے؟
ایسے لوگوں کی نظر میں خدا، معرفت خدا، قرب خدا، خلقت کا ہدف، انسان کا ابدی وجود، تکالیف شرعیہ، قیامت، ضرورت بعثت، ضرورت امام، معرفت امام کا واجب ہونا، رہبر معصوم اور کتاب مقدس کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کا کیا مطلب ہے ؟ اور ایسے نظریات کے مالک افراد کی نگاہ میں انسانیت و حیوانیت میں کیا فرق ہے؟
ایسے افراد آخر کن اصولوں کو ایک خوش نصیب انسانی معاشرے کی بنیا د قرار دیتے ہیں؟
کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ دشمنان دین اور دشمنان امام زمانہ(عج) کے وظیفہ خوار نہیں ہیں؟ کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ دشمن ان کی مالی و معنوی پشت پناہی نہیں کر رہا ہے ؟ کیا انہیں میں سے بعض حضرات نے خود یہ اعتراف نہیں کیا ہے کہ ایسی تحریروں اور تقریروں کے بدلے انہیں دشمنان دین کی جانب سے بھاری مقدار میں رقم ملی ہے؟ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امام زمانہ(عج) کے دوست، شیعہ چاہنے والے اور حقیقی منتظر جو کہ شیطانی طاقتوں کے ظلم و وجور کا شکار ہیں ایسے افراد کو اپنا دوست ،محرم راز اور خیرخواہ تسلیم کرلیں۔
ھیھات ،ھیھات یہ نا ممکن ہے کہ مؤمنین الٰہی نمائندوں اور معصومین(ع) کا دامن چھوڑ کر ایسے عالم نما جاہلوں اور نام نہاد روشن خیال اندھی فکر والوں کے پیچھے دوڑنے لگیں اور اپنی دنیا و آخرت کی سعادت ایسے واہیات نظریات پر قربان کردیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22