Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192051
Published : 13/2/2018 18:17

بچہ کی تربیت میں جمسانی تنبیہ کا منفی اثر

جسمانی تنبیہ کا دوسرا نقص یہ ہے کہ ہم بچہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیئے لیکن ہم یہ نہیں بتاتے کہ اسے اس کے بدلہ کون سا دوسرا کام انجام دینا چاہیئے۔ ہم جب بچہ کو بہت سے کام کرنے سے روکتے ہیں ہمیں چاہیئے کہ ہم ان کے نعم البدل کے طور پر انہیں کچھ دیگر کام یا عادتوں کے متعلق بتلائیں۔

ولایت پورٹل: تنبیہ ایسے عمل کو کہا جاتا ہے جس کے سبب بچہ وقتی طور پر اپنی نامناسب حرکت اور کام سے باز آجاتا ہے پس اگر ہم نے بچے کو تنبیہ کی اور اگر اس کے بعد بھی اس کی عادت نہ بدلی تو جان لینا چاہیئے کہ آپ کو اپنی عادت اور طریقہ بدلنا ہوگا چونکہ اگر تنبیہ کو اثر کرنا ہوتا تو کرچکی ہوتی۔
پس اگر ہم اپنے بچہ کو یہ تنبیہ کریں یا اس کو دھمکائیں کہ میں تمہارا باپ یا ماں نہیں ہوں اگرچہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اسے روتے ہوئے خاموش کریں لیکن اس کے برخلاف جب ہم یہ کہتے ہیں تو وہ مزید بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرنے لگتا ہے پس کبھی کبھی تنبیہ کرنا اور دھمکانا بچہ کی مشکل کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یاد رہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو کسی کام سے روکنے کے لئے تنبیہ یا مار پٹائی کا سہارا لیتے ہیں تو وہ ہم سے سیکھ لیتے ہوئے کسی نہ کسی مقام پر اسی طریقہ پر عمل کرتے ہیں اور یہ بھی ایک فطری امر ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو تنبیہ کرتے ہیں تو کچھ دیر کے بعد ہمیں اپنے کئے پر پشیمانی ہوتی ہے اور ہم اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں اب ہم اسے رشوت دیکر یا اس کی خطاؤں سے چشم پوشی کرکے مزید تربیت میں کھوٹ ایجاد کردیتے ہیں۔
قارئین کرام! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ تنبیہ کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں:
۱۔اپنے بچہ کا دوسرے بچوں کے ساتھ تقابل کرنا۔
۲۔بچے کو اس طرح سرزنش کرنا کہ میں تمہاری وجہ سے بیمار ہوچکا ہوں اور جب مرجاؤں گا تو تمہیں حقیقت معلوم ہوگی وغیرہ۔
۳۔بچہ کے کاموں کو احمقانہ کام کہنا: تم پاگل ہو ،الٹے سیدھے کام کرتے رہتے ہو۔
۴۔ بچہ کو اپنی محبت اور عطوفت سے دور کردینا(میں اب سے تمہاری ماں نہیں ہوں،تم مجھے اب اچھے نہیں لگتے وغیرہ)۔
۵۔اسے چھوڑ کر چلے جانے کی دھمکی دینا۔
۶۔بچہ کو خائف کرنا اور ڈرانا(اگر تم نے اب سے میری بات نہ سنی تو میں تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ چرند و پرند بھی تمہارے حال پر  گریہ کریں گے) اور اس کے علاوہ نہ جانے تنبیہ کے بہت سے طریقہ ہیں جو ہم ہر روز کسی نہ کسی انداز میں اپنے بچوں پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔
فیزیکی تبینہ(مار پیٹ) ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر بچہ کو کسی کام سے دست بردار کردے لیکن یہ طریقہ ہمیشہ کارگر نہیں ہوسکتا چونکہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی تنبیہ اور اذیت لڑکیوں کو افسردہ اور مضطرب جبکہ لڑکوں کو اڈیل مزاج اور غصہ دار بنا دیتا ہے۔ والدین عام طور پر یہ طریقہ اس وقت استعمال کرتے ہیں کہ جب وہ خود حد درجہ غصہ میں ہوں اور بچہ کی پٹائی کرکے وہ غصہ سے بھرے دماغ کو خالی کرلیتے ہیں کہ جس کے بعد پشیمان ہونا بھی ایک قطعی امر ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے کہ جب والدین اپنے کو بے بس پاتے ہیں چونکہ ایک بچہ کو کتنی بدنی اذیت دی جاسکتی ہے؟ اور یہ کوئی مشکل کا حل بھی نہیں ہے بلکہ اس طرح تنبیہ کرنے سے تو اس کی بری عادتیں مزید بدتر ہو جائیں گی۔
جسمانی تنبیہ کا دوسرا نقص یہ ہے کہ ہم بچہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیئے لیکن ہم یہ نہیں بتاتے کہ اسے اس کے بدلہ کون سا دوسرا کام انجام دینا چاہیئے۔
یہاں پر جو چیز سب سے اہم ہے اور تربیت میں مؤثر ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں ہم بچہ کو بہت سے کام کرنے سے روکتے ہیں ہمیں چاہیئے کہ ہم ان کے نعم البدل کے طور پر انہیں کچھ دیگر کام یا عادتوں کے متعلق بتلائیں مثلاً جب بچہ زور زور سے چیخ رہا ہو اگر ہم یہ کہنے کے بجائے کہ شور نہ مچاؤ! یہ کہیں کہ بیٹا آہستہ بات کریں تو کتنا بہتر ہوسکتا ہے؟
اگر وہ اپنے اسکول کا کام نہیں کرتا تو اسے یہ کہنے کے بجائے کہ فضول کاموں کو چھوڑ دیں ۔ یہ کہا جائے کہ بیٹا زیادہ محنت کرنے والے لوگ ہی جلد کامیاب ہوتے ہیں تو اس پر اس مثبت کا کہیں زیادہ اثر ہوگا۔
پس ہمیں اپنے بارے میں سوچنا ہوگا، کچھ فکر کرنی ہوگی کہ اپنے بچہ کو تربیت کرنے کے لئے تنبیہ کی کون سی قسم کو اپنائیں؟
اور جس طریقہ تنبیہ سے ہم استفادہ کررہے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟تاکہ ہم اپنے دلبند کی بہتر طور پر تربیت کرسکیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15