Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192054
Published : 13/2/2018 19:40

مولانا سید سبط الحسن ہنسوی

مولانا سید سبط الحسن بن سید فیض الحسن رضوی(الہ آباد کے قریب) فتح پور ہنسوہ میں پیدا ہوئے۔ موصوف اپنے زمانہ کے فاضل محقق ،کتاب شناس اور رجالی و مؤرخ بزرگ تھے، چھان بین اور تحقیق ان کا مشغلہ تھا،مولانا سبط الحسن صاحب خاموش گوشہ نشین اور متقی آدمی تھے۔

ولایت پورٹل: مولانا سید سبط الحسن بن سید فیض الحسن رضوی(الہ آباد کے قریب) فتح پور ہنسوہ میں پیدا ہوئے۔ موصوف اپنے زمانہ کے فاضل محقق ،کتاب شناس اور رجالی و مؤرخ بزرگ تھے، چھان بین اور تحقیق ان کا مشغلہ تھا،کتب خانہ راجہ صاحب محمودآباد اور کتب خانہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مخطوطات کے عمید تھے،حج و زیارات کے سفر اور تبلیغی دوروں میں ان کا محبوب مشغلہ کتب خانے دیکھتا تھا وہ فقط فہرست نگار ہی نہیں تھے بلکہ اہم اور نادر موضوعات پر کام کرنے کی لگن بھی رکھتے تھے منتدی النشر نجف ،انجمن تبلیغات اسلامی تہران ،اسلامک ریسرچ ایسوسی ایشن بمبئی اور دوسرے علمی اداروں کے رکن تھے۔
مولانا سبط الحسن صاحب خاموش گوشہ نشین اور متقی آدمی تھے موصوف نے تقریباً ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر میں علی گڑھ میں وفات پائی ۔۸ اپریل ۱۹۷۸ء آپ کی تاریخ رحلت ہے۔
قلمی آثار
۱۔تذکرہ مجید احوال شہید نور اللہ ۔
۲۔اثبات عزاداری۔
۳۔عزاداری کی تاریخ۔
۴۔فلسفہ نماز۔
۵۔اظہار حقیقت۔
۶۔کشف الداھیہ۔
۷۔ازاحۃ الوسوسہ۔
۸۔امام جعفر صادق(ع) و اشاعت علوم۔
۹۔عربی مراثی کی تاریخ۔
۱۰۔منہاج نہج البلاغہ۔
۱۱۔اس کے علاوہ مختلف مقالات اور رسائل بھی زیور طبع سے آراستہ ہوئے۔
مخطوطات
۱۔الکتب و المکتبات قبل الاسلام
۲۔الکتب والمکتبات فی ادوار التشیع۔
۳۔شہاب ثاقب شرح دیوان حضرت ابوطالب۔
۴۔الدر المنظوم من کلام المعصوم۔
۵۔لسان الصدق در تحقیق فار قلیط و ایلیا۔
۶۔قول سدید۔
۷۔رد اہل سنت۔
۸۔ابوذر غفاری۔
۹۔رسالۃ الحقوق الامام علی ابن الحسین(ع) با ترجمہ و حواشی۔
۱۰۔مسالک المشاہد و تقویم المقابر۔
۱۱۔مجموعہ مضامین علمیہ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14