Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192055
Published : 13/2/2018 19:49

عمان کا سعودی سے اختلاف؛مصر کی طرف جھکاؤ

یاد رہے کہ عمان اور یمن کے درمیان ایک طویل زمینی سرحد ہے اور اسی صوبہ میں عمان کے سلطان کے کئی محل ہیں جنہیں سعودی حملات میں کافی نقصان پہونچا ہے۔جبکہ سعودی عرب کا دعویٰ یہ ہے کہ انصار اللہ کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کے لئے وہ صوبہ المھرہ میں موجود ہیں جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کا اصل مقصد اس صوبہ کی بے پناہ دولت اور ذخائر کو لوٹنا ہے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق مصری صدر عبد الفتاح السیسی کے عمان میں خصوصی ایلچی کی آمد نے ایک بار پھر عمان کی خارجہ پالیسی میں مصر کے مقام کو روشن کردیا ہے  اس طرح کہ مصری وزیر خارجہ  یوسف بن علوی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شئیر کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مصر ہی عربوں کا اصل مرکز ہے جس کے بغیر عرب کی کوئی پہچان نہیں ہے۔
نیز عمان کی وزارت خارجہ کی  طرف سے بھی اس خیال کا اظہار ہوا ہے کہ عربی امت کا واحد مرکز اور پناہ گاہ مصر ہے اور کوئی دوسرا ملک اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔
عمان کے وزیر خارجہ کی طرف سے ان الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار عربوں کے درمیان گرتی سعودی ساکھ کو ظاہر کرتا ہے چونکہ آج تک سعودی عرب پورے عالم میں یہ ڈھول بجاتا آیا ہے کہ ہم ہی عالم اسلام کے اصل رہبر ہیں۔
عمان کے وزیر خارجہ کا یہ پیغام در حقیقت اس ملک اور سعودی کے درمیان موجود اختلافات کی عمیق خلیج کے ہونے کا پتہ دیتا ہے جس کا سبب عمان کے المھرہ صوبہ میں سعودی اتحاد کے وہ حملات ہیں جو انہوں نے یمن اور عمان کی مشترک سرحد پر کئے ہیں۔
یاد رہے کہ عمان اور یمن کے درمیان ایک طویل زمینی سرحد ہے اور اسی صوبہ میں عمان کے سلطان کے کئی محل ہیں جنہیں سعودی حملات میں کافی نقصان پہونچا ہے۔جبکہ سعودی عرب کا دعویٰ یہ ہے کہ انصار اللہ  کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کے لئے وہ صوبہ المھرہ میں موجود ہیں جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کا اصل مقصد اس صوبہ کی بے پناہ دولت اور ذخائر کو لوٹنا ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14