Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192068
Published : 14/2/2018 17:10

فکر قرآنی:

قلب کی تدریجی موت

اگر انسان موعظہ اور نصیحت پر کان نہ دھرے اور اپنے دل کو نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار نہ کرے تو آہستہ آہستہ اس کا دل مرجاتا ہے لہذا ہم اپنے دل کو تدریجی موت سے بچائیں چونکہ قلب ایک دن میں نہیں مرتا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! قلب زندہ بھی ہوتا ہے اور مر بھی جاتا ہے چنانچہ امام معصوم کا فرمان ہے: خدایا! توبہ کے سبب میرے دل کو زندہ فرما۔ اس حدیث کے معنیٰ یہ ہیں کہ قلب کی حیات توبہ جبکہ اس کی موت گناہوں کے سبب واقع ہوجاتی ہے۔
قارئین کرام! یقیناً آپ نے بھی یہ جملے سنے ہونگے کہ جب کچھ افراد دوسروں کو نصیحت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں: میں آپ کو نصیحت نہیں کررہا ہوں لیکن چونکہ آپ کا فلاں کام صحیح نہیں ہے لہذا میں نے کہہ دیا) اور سامنے والا بھی جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک شخص اسے نصیحت کئے جارہا ہے تو وہ اسے کہہ اٹھتا ہے: بھائی اپنی نصیحت اپنے پاس رکھئے مجھے آپ کی نصیحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کے جملوں کا زبان دین اور انسانی تربیت میں کیا مقام ہے ؟ کیا کسی کو نصیحت کرنا یا کسی کی نصیحت سننا ضروری ہے یا نہیں ؟ چنانچہ ہم اپنے اس مختصر سے مقالہ میں اسی موضوع پر کچھ معروضات پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
یاد رکھئے کہ موعظہ اور نصیحت کجروی اور انحراف کے مقابل ایک سنجیدہ رد عمل کا نام ہے اب یہ رد عمل  کبھی نرمی اور محبت کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی شدت اور سختی کے ہمراہ، امربالمعروف اور نہی  عن المنکر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر قرآن کریم  نے جناب لقمان کی اپنے بیٹے کے ساتھ نرمی اور محبت آمیز گفتگو کو وعظ کا نام دیا ہے: «وَ إِذْ قَالَ لُقْمَانُ لاِبْنِهِ وَ هُوَ یَعِظُهُ یَا بُنَیَّ لاَ تُشْرِکْ بِاللَّهِ »۔(1)
ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خبردار کسی کو خدا کا شریک نہ بنانا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
اور اسی طرح ایک نافرمان عورت کے لئے قرآن کہتا ہے: «وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ»۔(2)
ترجمہ: اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو۔
ظاہر ہے ان دونوں آیات میں نرم خوئی اور عطوفت کے ساتھ نصیحت کرنے کو وعظ کہا گیا ہے۔
اور اسی طرح موعظہ اور نصیحت کو اچھائیوں کی طرف بلانے  اور حقائق سے روشنانس کرانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے:«ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ... »۔ (3)  
ترجمہ: اے پیغمبر! آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیجئے ۔
اس بناء پر حق و حقیقت کی طرف بلانے کا ایک اہم ذریعہ موعظہ و نصیحت بھی ہے۔
ہر کسی کے موعظہ حسنہ کو قبول کرنا
ایک دن کچھ شیعہ امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں شرفیاب ہوئے اور امام علیہ السلام نے انہیں نصیحت فرمائی اور گناہوں سے دور رہنے کی تلقین فرمائی لیکن وہ لوگ اپنے آپ میں ہی کھوئے ہوئے تھے چنانچہ حضرت کے لئے یہ امر باعث اذیت تھا حضرت نے اپنے سر مبارک کو جھکایا اور پھر فرمایا: اگر میری کسی نصیحت کا تم پر اثر ہوگیا ہوتا تو تم لوگ اسی وقت دم توڑ جاتے۔
پھر آپ نے فرمایا: اے بے روح سائے والوں،اے خاموش چراغ کی لو، گویا تم لوگ ٹیک لگانے والی لکڑیاں اور خود ساختہ بت بن چکے ہو، کیا تمہیں سونے اور پتھر میں بھی فرق نظر نہیں آتا؟ کیا تمہیں نور تاباں بھی دکھائی نہیں آتا؟ کیا لؤلؤ کو دریا سے نہیں نکالو گے؟یاد رکھو! اچھی بات تمہیں کہیں سے بھی ملے اس سے لے لو اگرچہ وہ خود اس پر عمل نہ کرتا ہو چونکہ خداوند عالم سورہ زمر کی ۱۸ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے: جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں۔(4)
دل کی زندگی اور موت
حضرت امام سجاد علیہ السلام صحیفہ سجادیہ کی دعائے تائبین میں ارشاد فرماتے ہیں: «إلهی ألبَسَتنی الخَطَایا لِباسَ مَسکنَتی وَأماتَ قَلبی عَظیمَ جَنایتی؛ خدایا! میری خطاؤں نے مجھے ذلت کا لباس پہنا دیا اور میرے عظیم گناہوں نے میرے دل کو مار دیا ہے۔
چنانچہ بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ ان کے آس پاس ہزاروں عبرتوں کی داستان دہرادی جاتی ہے اور ہزاروں آیات و روایات اور دل ہلادینے والی نصیحت ان کے کانوں میں پڑھی جاتی ہیں لیکن ان پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا چونکہ ان کا دل مردہ ہوچکا ہے۔
قلب کی موت کے اسباب
رسول اکرم(ص) اپنی ایک حدیث میں دل کی موت کے ایک سبب کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پست فطرت اور گناہوں میں آلود لوگوں کی ہمنشینی انسان کے دل کو مار دیتی ہے اور انسان اس ہمنشینی کے سبب ایسے گڑھے اور کھائی میں جا گرتا ہے کہ کبھی کبھی وہ دوسروں کے لئے باعث عبرت بن جاتا ہے۔(5)
اپنے دل کو زندہ کیجئے!
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ایک روایت میں اپنے فرزند ارجمند امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کو دل زندہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «احی قلبک بالموعظه»۔ اے میرے لخت جگر! موعظہ سن کر اپنے قلب کو زندہ کرو! (6)
اگر انسان موعظہ اور نصیحت پر کان نہ دھرے اور اپنے دل کو نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار نہ کرے تو آہستہ آہستہ اس کا دل مرجاتا ہے لہذا ہم اپنے دل کو تدریجی موت سے بچائیں چونکہ قلب ایک دن میں نہیں مرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1-سورہ لقمان: 13۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خبردار کسی کو خدا کا شریک نہ بنانا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔
2-سورہ نساء کی آیت 34 کا ایک جزء۔
3-سورہ نحل: 125۔
4-تحف العقول، ترجمه حسن زاده، ص: 515۔
5- بحارالانوار، ج 74، ص 45۔
6-نہج البلاغہ، نامہ 31۔  



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23