Monday - 2018 Dec 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192091
Published : 15/2/2018 17:22

کتاب اور سنت میں بدعت کا مفہوم؛اور وہابیوں کا موٹا دماغ

افسوس کی بات ہے کہ متعصب وہابی حضرات ،فقہ اسلامی اور علم اصول میں کم معلومات رکھنے کے باعث ان تین باتوں میں فرق نہیں کر سکتے اور سخت غلطی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو معمولی معمولی باتوں میں بدعت کا الزام لگادیتے ہیں جیسا کہ بڑی سادگی سے ان پر«شرک» کا الزام لگا دیاکرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! بدعت ایک ایسی اصطلاح جس کو سمجھنے میں وہابی حضرات بہت بڑی غلطی کا شکار ہوئےہیں۔ قرآن مجید مسئلہ رہبانیت کی مذمت اور سرزنش میں سورہ مبارکہ حدید کی آیت:۲۷ میں فرماتا ہے:«وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا»۔
ترجمہ: اور جس رہبانیت کی انہوں نے بدعت قائم کی تھی اس کو ہم نے ان پر واجب نہیں کیا تھا ۔۔۔ لیکن ان لوگوں نے اس کے حق کو بھی ملحوظ نہ رکھا۔
اگر ہم اس آیت میں استثناء کو متصل قرار دیں جیسا کہ آیت کے ظاہر سے لگتا ہے تو آیت کا معنی وہی ہے جو اوپر کی آیت ذکر ہوئی یعنی عیسائیوں نے ایک قسم کی رہبانیت اور ترک دنیا کو ایجاد کیا جسے خداوند عالم کی جانب سے واجب نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کی بھی ان لوگوں نے رعایت نہیں کی جس کی تفصیل آنے والی بحث میں پیش کریں گے اور اگر اس آیت میں استثناء کو منقطع مانیں تو آیت کے معنی اس طرح ہوں گے :«ہم نے» رہبانیت کا حکم انہیں نہیں دیا (بلکہ ایک بدعت تھی خود ان کی  طرف سے) بلکہ ہم نے انہیں:«اِبْتِغَاءَ مَرْضَاۃِ اللّٰهِ» خدا کی مرضی حاصل کرنے کی نصیحت کی تھی کہ جس کو انہوں نے ملحوظ نہیں رکھا۔
بہر حال! اس آیت میں جس بدعت کی مذمت کی جارہی ہے بقول مؤرخین وہ ایسی بدعت ہے جو حضرت عیسیٰ کے صدیوں گزرجانے کے بعد( کچھ تاریخی واقعات کی بنا پر جن میں عیسائیوں کو شکست ہوئی اور ایک گروہ جنگلوں اور بیابانوں میں چلا گیا اور گوشہ نشینی اختیار کرلی) وجود میں آیا اور پھر تدریجی طور پر اس نے ایک مذہبی پروگرام کے تحت رہبانیت کی شکل اختیار کرلی، پہلے تو تارک الدنیا افراد (راہب حضرات ) خانقاہوں میں جا بیٹھے پھر تارک الدنیا عورتیں بھی ان سے جا ملیں اورخانقاہوں میں بیٹھنے کا چلن عام ہو گیا۔
راہبوں کے ذریعہ رہبانیت اختیار کرنے کی غلط روش کی وجہ سے مطلق طور پر شادی نہ کرنے کی غلط روش کا رواج ہوگیا جو کہ بشری تقاضوں کے منافی عمل اور فساد و بدعنوانی کا سرچشمہ قرار پایا۔
مغرب کا مشہور مورخ «ویل ڈو رانٹ» اپنی مشہور تاریخی کتاب میں راہبوں کے متعلق بہت تفصیل سے بحث کرتا ہے جو قابل توجہ ہے ،وہ اس ذیل میں اعتراف کرتا ہے کہ تارک الدنیا عورتوں کا رہبانیت سے الحاق چوتھی صدی عیسوی سے شروع ہوا جس کی وجہ سے رہبانیت کا کاروبار دن بدن آگے بڑھتا گیا اوردسویں صدی عیسوی میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔(۱)
اگرچہ راہبوں نے ادوار تاریخ میں بہت سی سماجی خدمتیں بھی انجام دیں ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ ان کے ذریعہ سے سماجی اور اخلاقی برائیاں بھی وجود میں آئیں جو اس روش کا دین تھیں، اس وقت مناسب نہیں ہے کہ ہم ان تمام موارد کو شمار کریں جن کی جانب عیسائی تاریخوں میں اشارہ ہوا ہے،ہاں بدعتوں کا نتیجہ غالبًا ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔بہرحال مذکورہ آیت کے علاوہ اسلامی ذرائع میں بدعت کی سرزنش سے متعلق بہت زیادہ روایتیں وارد ہوئی ہیں منجملہ آنحضرت(ص) کی یہ مشہور حدیث:«کُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» ہے جو کہ مسند احمد اور مستدرک علی الصحیحین، سنن بیہقی،المعجم الاوسط طبرانی اور سنن ابن ماجہ میں نقل ہوئی ہے ۔(۲)
انتہاپسند وہابیوں نے اس طرح کی حدیثوں کو دیکھنے کے بعد«بدعت» کے معنی میں غور و فکر کئے بغیر پہلے تو ہر نئی چیز کی مخالفت شروع کردی یہاں تک کہ دو پہیہ سواریوں کو شیطان کی سواری کہنے لگے اور ٹیلیفون کی مخالفت کرنے لگے اور جب دیکھا کہ دنیا بہت تیزی سے صنعتی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے تو مغرب کی صنعتی ترقی کے سامنے تسلیم ہو گئے اور نہ صرف تسلیم ہوئے بلکہ خود بھی اس میں غرق ہوگئے ۔آج ہم اور آپ جب سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں تو نئی نئی ٹیکنک اور ماڈرن وسائل سے آراستہ گاڑیاں ،پر کشش وسائل زندگی یہاں تک کہ بڑی بڑی سوپر مارکیٹ مغربی غذاؤں اور مصنوعات سے بھری پڑی دیکھتے ہیں اور ہر چھوٹا بڑا عالم اور جاہل ان سے استفادہ کر رہا ہے۔
اس وقت ان تمام بدعتوں کی مخالفت کو چھوڑ کر صرف ان بدعتوں کی مخالفت پر کمر باندھ لیتے ہیں جن میں مذہبی رنگ و بو نظر آرہی ہوتی ہے مثلاً قبروں پر عمارت بنانا، آنحضرت(ص) اور دینی شخصیتوں کی ولادت کا جشن منانا ،شہیدوں کی عزاداری کے مراسم یا اس کے مثل جو بھی امور کوئی انجام دے اس کو بدعتی اوراسے ہر قسم کی ملامت و سرزنش کا مستحق سمجھتے ہیں۔البتہ حقیقت میں بدعت کیا ہے اور کن مواقع پر حرام ہے ؟ ذیل میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
لغت میں بدعت کا مطلب ،ہر قسم کی نئی ایجاد ہے چاہے وہ اچھی ہو یا بری! اور فقہاء کی اصطلاح میں«اِدْخَالُ مَا لَیْسَ مِنَ الدِّیْنِ فِی الدِّیْنِ»ہے(یعنی جو دین میں نہ ہو اس کو دین میں داخل کرنا)۔
جی ہاں! جب بھی کوئی ایسی شئے جو دین میں نہیں ہے وہ خدا کا حکم بنا کر پیش کی جائے اور اس کو بعنوان دستور الٰہی سمجھنے لگیں تو وہ بدعت کہی جائے گی۔
یہ دو طرح سے انجام دی جاتی ہے۔ واجب کو حرام اور حرام کو واجب قرار دینے سے اور ممنوع کو مباح اور مباح کو ممنوع قرار دینے سے!مثال کے طور پر ہم کہیں کہ آج سے بینکنگ سسٹم میں سود سے پرہیز ناممکن ہے اس لئے جائز ہے ،یا کہیں کہ حجاب اس وقت کے لوگوں کے لئے تھا جب لوگ ترقی یافتہ نہیں تھے لیکن آج پردہ ہٹا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے یا اس قسم کے تمام حیلے حوالے اور بہانے جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے ہوں یہ سب کے سب بدعت کے مصادیق میں شامل ہیں اور کبھی ایسے امور جو کتاب وسنت میں احکام دین میں شامل نہ ہوں اور ہم انھیں دین کا جزء شمار کرنے لگیں مثال کے طور پر مرحومین کے لئے سوم ،ہفتم و چہلم جوعرف عام میں رائج ہے، اسلام کے احکام سمجھنے لگیں یا اسلامی عیدوں کے موقع پر جشن منانے کو واجب شرعی بتانے لگیں وغیرہ وغیرہ۔
واضح الفاظ میں نئی ایجادات تین قسم کی ہیں۔
(۱)عوام میں سو فیصد رائج معاملات میں نئی باتیں جن کا شرعی مسائل سے کوئی تعلق نہ ہو جیسے نئی مصنوعات اور ایجادات اور علوم طبیعی جیسی چیزیں جو کہ پیغمبر اسلام(ص) اور تمام ائمہ(ع)کی زندگی اور زمانے میں بھی تھیں ،کیونکہ علوم اور ایجادات کا قافلہ ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے اور وہ کبھی رکا نہیں کرتا ،اس طرح کی بدعتیں مفید اور تعمیری ہوا کرتی ہیں۔کیونکہ دنیا کے تمام عقلمند انسان بغیر کسی تعصب کے ہر مفید شئے کا استقبال کرتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم و ملت سے ہو۔
(۲)شریعت سے منسوب کئے بغیر شرعی موضوعات کے سلسلے میں عرف عام کی نئی ایجادات مثال کے طور پر مخصوص کیفیت کے ساتھ مسجدوں کی تعمیر، گلدستۂ اذان اور محرابوں کا وجود ان کو نئے انداز میں وجود میں لانا،کاشی کاری ،مساجد کی سجاوٹ،لاؤڈ اسپیکر سے اذان کہنا یا اس طرح کی اور دوسری باتیں۔
یقیناً ان میں سے کوئی ایک چیز بھی پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں نہیں تھیں لیکن کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب بدعت اور حرام ہے جبکہ مسلمانوں کی تمام مسجدیں حتیٰ کہ وہابیت کے مرکز سعودی عرب میں مسجد نبوی(ص) اس طرح کی چیزوں سے بھری پڑی ہیں اس طرح کی بہت سی تبدیلیاں مسجدالحرام میں بھی کی گئیں ہیں جو کہ آنحضرت (ص) کے زمانہ سے بالکل مشابہت نہیں رکھتیں ،اس سے بڑی بات یہ کہ صفا و مروہ کی سعی کے لئے دوسری منزل کا بنانا علاوہ ازایں ایک عجیب و غریب تبدیلی جو حال ہی میں جمرات میں کی گئی اور قربانگاہ کو منیٰ کے باہر قرار دینا وغیرہ ۔ یہ تمام نئی چیزیں عرف عام میں معمول اور رائج شمار ہوتی ہیں اور شرعی مسائل کے شانہ بشانہ  انسانوں کی سہولت یا خطرات اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے کی گئیں ہیں۔کوئی بھی شخص خاص شرعی حکم کے عنوان سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی ان کو بدعت کہتا ہے۔
اسی طرح جلسات قرائت قرآن کی تشکیل اور پھر بہترین قاریان قرآن اور حافظوں و مفسروں کا انتخاب ،ان میں سے کوئی بھی عمل یقیناً حضور(ص)کے زمانہ میں نہیں تھا ،یہ نئے کام ایسے ہیں جنھیں دینی اہداف و مقاصد کی ترقی کے لئے عملی جامہ پہنایاگیا،نہ یہ کہیں کہ دین کا جزء ہیں۔
اسی طرح مرحومین کے احترام میں خاص اوقات اور تاریخوں میں مجالس ترحیم کا انعقاد بزرگان دین کی یاد میں مذہبی سمینار اور کانفرنسوں کا قائم کرنا اور دینی رہبروں کی ولادت پر جشن کا اہتمام کرنا یا ان کی شہادت پر مجالس عزاداری برپا کرنا اور اسی طرح دیگر اعمال جو کہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمت کے ظہور یا غفلت اور جہالت کے پردوں کو ہٹانے یا معرفت و شناخت کی خاطر انجام دئیے جاتے ہیں۔
ہم خود اپنے ماحول میں دسیوں بار اس طرح کے تجربات سے گذرے ہیں کہ اس طرح کے عوامی پروگرام جو مذہبی مسائل کے تحت انجام دئیے جاتے ہیں ،خصوصًا نوجوان نسل کی آگاہی اور بیداری کا موجب ہوتے ہیں۔ قرآنی اور اسلامی معارف کے حصول کی طرف ان کی حرکت نیز دینی امور کے اہتمام کا باعث ہوتے ہیں ،یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کے پروگراموں کو انجام نہ دینے کی صورت میں مسلمانوں کیلئے عظیم خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
بہر حال یہ سب امور عرفی اور عوام میں رائج امور کہلاتے ہیں اور کوئی بھی شخص ان کی انجام دہی کے وقت یہ نہیں کہتا کہ اس کا حکم خدا یا رسول(ص) نے دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو چیز جزو دین نہیں ہے اس کو دین کا جزء نہیں سمجھتے۔ پس کسی بھی حال میں ان باتوں کو بدعت کا نام نہیں دیا جا سکتا اور «کُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» کہہ کر ان پر گمراہی کا لیبل نہیں لگایا جاسکتا۔
(۳)ایک اور قسم حرام بدعت کی ہے جس کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور وہ دینی حدوں کو توڑنا ، دینی قوانین کے خلاف یا کسی شرعی دلیل کے بغیر نیا قانون بنانا،حکم شرعی پر زیادہ کرنا یا کم کر دینا ،یہ یقینًا بدعت ،حرام اور گمراہی ہے ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ متعصب وہابی حضرات ،فقہ اسلامی اور علم اصول میں کم معلومات رکھنے کے باعث ان تین باتوں میں فرق نہیں کر سکتے اور سخت غلطی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو معمولی معمولی باتوں میں بدعت کا الزام لگادیتے ہیں جیسا کہ بڑی سادگی سے ان پر«شرک» کا الزام لگا دیاکرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔تاریخ ویل ڈورنیٹ،جلد۱۳،ص۴۴۳۔
۲۔مسند احمد، جلد ۴،ص۱۲۶،مستدرک،جلد۱،ص۹۷،سنن بیہقی،جلد ۱۰،ص۱۱۴،سنن ابن ماجہ، جلد ۱،ص۱۶، معجم طبرانی جلد ۱ ، ص۲۸۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 17