Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192489
Published : 8/3/2018 17:46

جناب کمیل کو حضرت امیر(ع) کی نصیحتیں(2)

اے کمیل! ہمیشہ حق بات کہو،صرف پرہیزگار لوگوں کے ساتھ ہی دوستانہ تعلقات استوار کرو،فاسقوں سے دور اور منافقوں کے علیحدہ ہوجاؤ،خیانت کاروں سے رفاقت نہ کرو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا اور یہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے کہ جناب کمیل(رض) حضرت علی علیہ السلام کے مخلص اور با وفا صحابی تھے جن کی وساطت سے آج بہت سی تعلیمات اور معارف علوی ہمارے پاس ہیں چنانچہ حضرت نے کمیل کو جو نصیحتیں فرمائی ان میں سے کچھ ہم اس کالم میں بیان کر رہے ہیں۔ نیز اسی سریز کے گذشہ مضمون کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیا جاسکتا ہے!
جناب کمیل کو حضرت امیر(ع) کی نصیحتیں(1)
اے کمیل! برکت اس شخص کے مال میں ہوتی ہے جو زکات ادا کرتا ہے، اور جو اپنے مؤمن بھائی سے برادری اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ قربت بڑھاتا ہے۔(یعنی اپنے مال کا کچھ حصہ اپنے مؤمن بھائیوں اور رشتہ داروں کو بھی دیتا ہے)۔
اے کمیل! اپنے با ایمان اقارب کو دوسروں سے زیادہ عطا کرو،ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ اور بے آسرا لوگوں کا آسرا بنو۔
اے کمیل! اپنے دروازے سے کسی سائل کو محروم نہ پلٹاؤ چاہے اسے آدھا دانہ انگور یا کھجور کا ہی کیوں نہ دو چونکہ صدقہ اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑھتا ہے۔
اے کمیل! مؤمن کا سب سے خوبصورت زیوراس کی  تواضع ،اس کا جمال عفت اور شرف دین کا فہم اور سب سے بڑی عزت کسی کی بات کو ادھر اُدھر(چغلی) کرنے سے پرہیز  میں ہے۔
اے کمیل! ہر گروہ میں کچھ شریف اور برتر لوگ  بھی ہوتے ہیں لہذا کبھی کسی بخیل اور تنگ نظر سے مت الجھو، اور اگر انھوں نے تمہیں کوئی نازیبا بات بھی کہہ دی تو صبر کرو اور ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جن کے لئے خداوند عالم فرماتا ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔(سورہ الفرقان:۶۳)۔
ترجمہ: اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں توسلامتی کا پیغام دے دیتے ہیں۔
اے کمیل! ہمیشہ حق بات کہو،صرف پرہیزگار لوگوں کے ساتھ ہی دوستانہ تعلقات استوار کرو،فاسقوں سے دور اور منافقوں کے علیحدہ ہوجاؤ،خیانت کاروں  سے رفاقت نہ کرو۔
اے کمیل! ستمگروں کے ساتھ کام،معاملہ یا ملاقات کی غرض سے ان کے گھروں کے دروازوں کو  مت کھٹکھٹاؤ ،اور نہ ہی تم ان کی تعظیم اور احترام کرو ،اور نہ ہی ان کی تقاریب و محافل میں شرکت کرو چونکہ تمہارے اس کام سے اللہ کا غضب بھڑک اٹھے گا اور اگر بہ جبر و اکراہ تمہیں ستمگروں کی محفلوں میں لے جایا بھی گیا تو مسلسل ذکر خدا کرتے رہو، اسی پر توکل کرو،ان کے شر سے خدا کی پناہ مانگو،اپنے چہرے کو جھکا لو( یعنی ایک ظالم و ستمگر ہی کی طرح ان کی طرف دیکھو)اپنے دل میں ان کے کردار کے مخالف رہو، اور آشکارا طور پر خدا کی عظمت کا اقرار کرو تاکہ وہ سن سکیں تاکہ خدا تمہاری تائید کرے اور تمہیں ان کے شر سے نجات عطا کردے۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14