Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192526
Published : 10/3/2018 19:21

شہادت سید جمال الدین(رح)

سید جمال الدین اسد آبادی(افغانی) تاریخ کے عظیم مصلح

سید جمال الدین اسد آبادی(رح) کی زندگی کا اصلی مقصد فرزندان توحید کے درمیان یکجہتی کا فروغ اور اسلام و مسلمانوں کی عزت رفتہ کا پرچم تمام دنیا میں دوبارہ لہرانا تھا۔

ولایت پورٹل: شیعہ علماء کے درمیان بہت سی ایسی بزرگ شخصیات بھی ظہور پذیر ہوئی ہیں کہ جنہوں نے اپنے روشن اور اصلاحی افکار و نظریات کے ذریعہ عالم اسلام میں اصلاح و انقلاب کے نئے دروازے کھولے ہیں اور معاشرہ کی ابتر صورتحال کو بدلنے کے لئے اپنی پوری با برکت زندگی اس راہ میں لگا دی اور اس راستہ پر چلنے والوں کے لئے اپنے نقوش قدم چھوڑے ہیں۔ چنانچہ سید جمال الدین اسد آبادی تاریخ کی ایک ایسی عظیم المرتبت اور باوقار شخصیت ہیں جو علماء شیعہ کے درمیان آج بھی ایک روشن مہتاب کی طرح چمک رہے ہیں ۔سید سیاسی اور دینی واقعات کو ایک خاص نظریہ سے دیکھتے تھے ۔سید جمال الدین(رح) کا ایک اہم کارنامہ شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا تھا لہذا آج ہم اس بزرگ عالم دین کی کامیاب زندگی کے کچھ عکس کا ھدیہ لیکر قارئین کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔
سید جمال الدین کی زندگی پر ایک سرسری نظر
سید جمال الدین شعبان سن ۱۲۵۴ ہجری کو اسد آباد میں پیدا ہوئے،آپ کے والد ماجد سید صفدر اور والدہ سیدہ سکینہ بیگم امام سجاد علیہ السلام کی نسل سے تھے۔بعض لوگ سید کو افغانی الاصل جبکہ کچھ لوگ آپ کو ایرانی الاصل کہنے پر مصر نظر آتے ہیں۔
شیخ محمد عبدہ مصری اسلامی تحریک کے بانی کہ جو خود سید جمال الدین کے شاگر تھے انہوں نے آپ کی کتاب«نیچریہ» کا عربی زبان میں ترجمہ کیا ہے چنانچہ وہ اس کتاب کے مقدمہ میں تحریر کرتے ہیں کہ سید جمال ایرانی الاصل تھےلیکن دو وجوہات کی بنا پر اپنے کو افغانی کے طور پر متعارف کرواتے تھے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے کو سنی ظاہر کرکے اپنے مقصد تک پہونچنا چاہتے تھے ۔جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایران سے باہر ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں کے لئے بہت سے سخت قانون بنا رکھے تھے لہذا سید ان مشکلات سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے کو افغانی کہتے تھے تاکہ کوئی چیز ان کے مقصد تک پہونچنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
سید جمال الدین نہایت ذہین اور ہوشیار تھے لہذا ۱۸ برس کی عمر ہی میں اس زمانے کے تمام رائج علوم میں مہارت حاصل کر ہندوستان،حجاز و مکہ کا سفر طئے کرکے آخر کار افغانستان لوٹ آئے تھے اور وہاں پر اپنے ہمراز، دوست محمد خان کے مہمان ہونے نیز ہرات کی جنگ میں بھی ان کے ہمراہ تھے پھر اس کے بعد مصر تشریف لے گئے اور وہاں کے علماء اور دانشوروں کے ہمنشین بنے۔
سید مصر میں اپنے علم و کمالات کی بنیاد پر بہت معروف ہوئے چنانچہ جامعۃ الازہر مصر میں منطق و فلسفہ پڑھانے میں مصروف ہوگئے لہذا مصر کی انقلابی نسل انھیں لوگوں کی تھی جو سید کے درس میں حاضر ہوتے تھے۔
سید جمال الدین،شیخ انصاری(رح) کے حکم سے ۱۲۵۴ ہجری میں ہندوستان تشریف لے گئے اور کچھ ضروری اور جدید علوم سیکھ کر اس کوشش میں لگ گئے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی برٹش سامراج کے خلاف آمادہ کرنے میں لگ گئے۔
اسد آبادی کے کارنامے اور آرزوئیں
سید جمال الدین اسد آبادی کہ جن کی زندگی کا سب سے اصلی اور بڑا مقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاد تھا  لہذا سید کی عمر بھر کی اگر کمائی کا حساب لگایا جائے تو دنیا کے کئی بڑے انقلابوں کے پیچھے سید کی کاوشیں نظر آتی ہیں۔آئیے سرسری طور پر سید کی بعض کارناموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
۱۔سید نے سنی اور شعوں کےدرمیان اختلاف کا رخ استعمار و سامراج  کی طرف موڑ کر اسلام اور مسلمانوں کی عزت رفتہ کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
۲۔تشیع کے کچھ اہم نظریات سے اہل سنت علماء کو متعارف کروایا اور خاص کر ان نظریات کو جامعۃ الازہر مصر تک پہونچایا۔
۳۔ سید نے مثبت قومیت کے نظریہ کو فروغ دیا کہ جو مسلمانوں کے اتحاد کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی خود مختاری اور استعمار کے مقابل اسلامی سرزمینوں کی سالمیت کی پاسداری کی ضامن تھا۔
۴۔چنانچہ اگر ہم اس بزرگ مُصلح کی چھوڑی ہوئی گرانقدر فکری میراث پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ نکات سمجھ میں آسکتےہیں:
۱۔خود مسلمانوں کی کفالت اور رہبری کا پورا نقشہ خود اسلام کے پاس موجود ہے۔
۲۔استعماری طاقتوں کے سامنے سرتسلیم خم کرلینے اور گوشہ نشینی اور جمود سے مقابلہ ضروی ہے۔
۳۔دینی فکر کو رائج کرنے کے لئے خود دینی منابع و ماخذ کے بارے میں جاننا بہت   ضروری ہے۔
۴۔اسلامی تعلیمات کو رائج زبان میں پیش کرنے اور مسلمانوں کو جدید علوم سے آراستہ ہونے کی ضرورت ہے۔
۵۔استعماری اور سامراجی طاقتوں سے مقابلہ مسلمانوں کے جدید، اجتماعی و فکری انقلاب کی نوید بن سکتا ہے۔
۶۔علماء کو مدرسوں اور مسجدوں سے نکال کر میدان میں لانا اور سیاست و دیانت کے درمیان موہوم جدائی کی کھائی کو پاٹنا۔
شہادت
سن ۱۳۱۳ ہجری میں ایران کا بادشاہ ناصر الدین ،سید جمال الدین کے ایک شاگرد میرزا رضا کرمانی  کے ہاتھوں گولی کھا کر فوت ہوگیا چنانچہ حکومت نے بجبر و اکراہ اس سے یہ اقرار لیا کہ اس نے یہ کام سید جمال الدین کے کہنے پر کیا ہے۔اگرچہ  اس وقت سید ترکی میں عثمانی حکومت کے مہمان تھے چنانچہ اس وقت کی ایرانی حکومت نے ترکی حکومت سے سید کو سونپنے کا مطالبہ کیا لیکن عثمانی حکومت کے لئے سید کو ایران کے سپرد کرنا بہت گراں تھا چونکہ ایک طرف تو سید اپنے کو افغانی کہا کرتے تھے اور دوسری طرف خود حکومت کی دعوت پر ترکی گئے تھے نیز یہ بھی کہ سید تمام اسلامی دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
آخر کار اس وقت کی ایرانی حکومت کا دباؤ ترکی حکومت پر زیادہ بڑھا تو اس نے سید کو ایران کے حوالہ کرنے بجائے۔ بعض منابع اور شواہد کے مطابق ۔خود ہی زہر دیدیا اور آپ ۹ مارچ ۱۸۹۷ء کو استانبول میں دنیا سے چلے گئے۔
قارئین کرام! شیعہ علماء کے درمیان سید جمال الدین جیسے بہت سے لوگ گذرے ہیں لہذا ان مصلحین اور انقلابیوں کی یاد ہمیشہ زندہ رہنا چاہیئے تاکہ جوان علماء اپنی ذمہ داری کو فراموش نہ کریں چونکہ شیعہ علماء نے ہمیشہ حق و حقیقت اور باطل اور ظالم کے خلاف قیام کیا ہے لہذا یہ روایت ہمیشہ قائم رہنی چاہیئے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14