Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192533
Published : 11/3/2018 4:55

نائب امام کعبہ کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت

حکمران اور عہدیداران ملک کے امین ہوتے ہیں ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا اور بہتان تراشیاں کرنا قرآنی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور ریاست میں انتشار اور تفرقہ پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔


3.jpg
ولایت پورٹل
:نائب امام کعبہ شیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب نے کہا ہے کہ حکمرانوں پر غلط اور بے بنیاد الزامات لگانا انتشار اور تفرقے کا باعث ہوسکتا ہے، پختہ ایمان رکھنے والا مسلمان ہرگز کسی اور کی تعلیمات کو اللہ اور رسول کے احکامات پر فوقیت دینے کی جسارت نہیں کرسکتا،لاہور میں نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے شیخ صالح آل طالب نے کہا کہ علماء، دانشور،محققین سمیت سیاستدان اور میڈیا سے وابستہ افراد احکامات الٰہی اور شریعت مطہرہ پر گفتگو کرنے کے دوران احتیاط سے کام لیں،انہوں نے کہا کہ سورۃ حجرات میں افواہوں کو پھیلانے سے سختی سے روکا گیا ہے اور زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی خبر یا معلومات پر بغیر تحقیق وتصدیق کے یقین کرنا اور پھیلانا گمراہی اور ندامت کا باعث بن سکتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اہل ایمان میں سے کسی میں اگر کوئی برائی ہو بھی تو اسکی پردہ پوشی کرنی چاہیے،پاکستان اور سعودی عرب سب سے زیادہ دہشت گردی کاشکار ہیں، امام کعبہ،شیخ صالح آل طالب نے کہا کہ سورۃ حجرات میں آداب و معاملات کا سلیقہ سیکھایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ اور نبی کریمﷺ کو پکارنے اور ذکر کا طریقہ بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی علماء دین کو فتوے جاری کرنے سے قبل قرآن کریم اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکامات کو پڑھنے پر زوردیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ پختہ ایمان رکھنے والا مسلمان ہرگز کسی اور کے اقوال اور تعلیمات کو اللہ اور رسول کے احکامات پر فوقیت رکھنے کی جسارت نہیں کرسکتا،نائب امام کعبہ نے مزید کہا کہ مختلف مسالک اور عقائد میں احادیث کے اسناد اور روایتوں کی تحریروں میں ردوبدل اور اختلافات ضرور پائے جاتے ہیں مگر تشریح اور اہداف میں یکسانیت اور مطابقت ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ اہل ایمان سے بدگمانی رکھنا اور نیت پر شک کرنا درست نہیں اور ان کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی تصدیق کیے بغیر یقین کرنا یا آگے پھیلانا نہیں چاہیے،شیخ صالح نے کہا کہ اگر کسی میں برائی ہو بھی تو اس کی پردہ پوشی کرنی چاہیے، حکمران اور عہدیداران ملک کے امین ہوتے ہیں ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا اور بہتان تراشیاں کرنا قرآنی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور ریاست میں انتشار اور تفرقہ پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے،یہ ایسی حالت میں ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نااہل ہونے کے بعد وزارت عظمی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور جن کی پارٹی کی بھی انتخابات میں ماضی کی طرح اچھی پوزیشن میں نہیں ہے۔
تسنیم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18