Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192544
Published : 11/3/2018 16:45

حضرت فاطمہ(س) بچپن ہی میں کیسے ام ابیھا کے مرتبہ پر فائز ہوئیں

جب آپ کی والدہ حضرت خدیجہ(س) کا انتقال ہوا اور رسول(ص) تنہا رہ گئے تو اپنے پدر بزرگوار کی ایک غمگسار رہیں، ایک مختصر مدت میں رسول(ص) کا دل دو حادثوں، وفات خدیجہ(س) اور رحلت ابوطالب(ع) کی وجہ سے ٹوٹ گیا، مختصر سے عرصہ میں رسول(ص) دونوں کی رفاقت و نصرت سے محروم ہوگئے اور خود کوتنہا محسوس کرنے لگے۔ اس زمانہ میں فاطمہ زہراء(س) اٹھیں اور اپنے پدر کے چہرہ سے رنج و محن کا غبار صاف کیا۔ «اُمُّ اَبِیْھَا» یعنی رسول(ص) کو تسلی دینے والی، یہ کنیت اسی زمانہ کی ہے۔

ولایت پورٹل: آپ حضرات ملاحظہ فرمائیں کہ فاطمہ زہراء(س) نے کس طرح زندگی گزاری ہے۔ شادی سے پہلے، عہد طفلی میں اپنے باعظمت پدر بزرگوار کی ایسے خدمت کی کہ آنحضرت(ص) نے آپ کی کنیت:« اُمّ اَبِیْہَا»۔ (اپنے باپ کی ماں) قرار دی۔ اس زمانہ میں آپ رسولِ رحمت و نور ، دنیائے نور کو وجود میں لانے والے اور (اس) عالمی انقلاب کے عظیم سربراہ تھے (جس کو ابد تک رہنا ہے) پرچم اسلام کو بلند کرنے میں مشغول تھے۔ اس رسول(ص) نے فاطمہ زہراء(س) کو اس کنیت«فاطمۃ اُمُّ اَبِیْھَا»سے بلاوجہ نہیں نوازا تھا بلکہ ان کے عمل اور خدمت و کوشش کی بنا پر نوازا تھا۔ فاطمہ زہراء(س) مکہ میں، شعب ابی طالب(ع) میں (وہاں کی تمام سختیوں میں) اس وقت بھی جب آپ کی والدہ حضرت خدیجہ(س) کا انتقال ہوا اور رسول(ص) تنہا رہ گئے تو اپنے پدر بزرگوار کی ایک غمگسار رہیں، ایک مختصر مدت میں رسول(ص) کا دل دو حادثوں، وفات خدیجہ(س) اور رحلت ابوطالب(ع) کی وجہ سے ٹوٹ گیا، مختصر سے عرصہ میں رسول(ص) دونوں کی رفاقت و نصرت سے محروم  ہوگئے اور خود کوتنہا محسوس کرنے لگے۔ اس زمانہ میں فاطمہ زہراء(س) اٹھیں اور اپنے پدر کے چہرہ سے رنج و محن کا غبار صاف کیا۔ «اُمُّ اَبِیْھَا» یعنی رسول(ص) کو تسلی دینے والی، یہ کنیت اسی زمانہ کی ہے۔


۲۱ دسمبر ۱۹۹۴ء کے ایک خطاب سے اقتباس۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14