Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192548
Published : 11/3/2018 17:41

سیاست کے گھماسان میں امام صادق(ع) کا موقف

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام جانتے تھے کہ بنی عباس ملک و اقتدار کے بھوکے ہیں۔ انھیں نہ آل محمد(ص) سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ قرآن و سنت سے کوئی لگاؤ،ان کا سارا ڈھونگ تخت و تاج کے لئے ہے جس کے بعد کا منظر بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے۔


ولایت پورٹل: امام صادق(ع) نے ۸۳ ہجری سے۱۳۳ہجری تک پچاس سال بنی امیہ کے دور حکومت میں  گذارے اور اس درمیان اس کے شدائد و مظالم،عوام کے ساتھ ان کا برتاؤ اور بلا خوف آخرت ہونے والے تمام اعمال کا بخوبی مشاہدہ کیا۔ ہرآن کسی چاہنے والے کے قتل اور کسی دوست کی شہر بدری کی خبریں کانوں سے ٹکرارہی تھیں۔ ۱۲۲ہجری میں یہ اطلاع بھی ملی کہ حضرت زید کو قتل کردیا گیا ہے اور ان کا جسم سولی پر لٹکا دیا گیا ہے پھر یہ بھی دیکھا کہ پانچ سال تک جسم اقدس تختۂ دار پر رہا اور اس کے بعد اتار کر نذر آتش کردیا گیا پھر جناب یحییٰ بن زید کے قتل کا منظر سامنے آیا پھر والد بزرگوار اور جد نامدار کی زہر دغا سے شہادت دیکھی اور آئے دن ایک نئی خبر، ایک نیا سانحہ کانوں میں آتا رہا۔
امام(ع) کے پیش نظر ماضی کے حوادث بھی تھے۔ کربلا کا المیہ مسلسل دل کو تڑپا رہا تھا جس سے سکون حاصل کرنے کے لئے مجالس عزا برپا کی جارہی تھیں ۔ شعراء مرثیے پڑھتے تھے اور امام سیل اشک بہاتے تھے۔ حرہ کا واقعہ الگ دل کو بے چین کئے ہوئے تھا۔ حکام کی بے دینی اور ان کا ظلم الگ سوہانِ روح بنا ہوا تھا۔
انھیں حالات میں امام زندگی بسر کررہے تھے۔ معاشرہ کی ہر خبر احساس کو مضطرب کردیتی تھی لیکن مجبوری یہ تھی کہ حکام کی طرف سے سخت نگرانی اور لوگوں کے روابط پر شدید پابندی تھی ۔ امام کرتے تو کیا کرتے؟ ایک مرتبہ ذمہ دار شریعت نے یہ طے کرلیا کہ سیاسی حالات کچھ بھی ہوں مجھے اصلاح حالات کے لئے قدم اٹھانا ہے اور لوگوں پر یہ واضح کردینا ہے کہ بنی امیہ کے ان احکام کو دین و مذہب سے دور کا بھی لگاؤ نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف تلوار کی زبان سے بولنا جانتے ہیں اور بس!
ادھر انقلابی مجاہدین نے بھی یہ پیش کش کردی کہ آپ اس انقلاب کی قیادت فرمائیں تاکہ ہم آپ کی قیادت میں اس ظالم حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ امام نے ان مجاہدین کے نفسیات پر ایک ہلکی سی نظر ڈال کر اس قیادت کو ٹھکرا دیا اور آپ نے دیکھ لیا کہ اس وقت انقلاب کا رخ حمایت اہلبیت(ع) کی طرف ضرور ہے لیکن استحکامِ حکومت کے بعد وہ جذبات منظر عام پر آجائیں گے جن کے لئے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔
امام(ع) کا طرز فکر یہ تھا کہ خود بھی انقلاب سے الگ رہیں اور اپنے خاندان والوں کو بھی نصیحت کرتے رہیں۔ انھیں اپنی مستقبل بین نگاہوں سے دیکھے ہوئے مناظر سے آگاہ کرتے رہیں اور یہ سمجھا دیں کہ کسی کام میں قبل از وقت ہاتھ ڈال دینا اس کام کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس لئے ایک بے مقصد کام کے لئے اپنے خون ناحق کی قربانی کسی طرح روا نہیں ہے۔ بنی عباس ملک و اقتدار کے بھوکے ہیں۔ انھیں نہ آل محمد(ص) سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ قرآن و سنت سے کوئی لگاؤ،ان کا سارا ڈھونگ تخت و تاج کے لئے ہے جس کے بعد کا منظر بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ چنانچہ ابوسلمہ خلال نے بھی جب عباسیوں کی نیت کا اندازہ کرلیا تو علویین کی طرف عدول کرنے کا ارادہ کرکے اپنے غلام کے ہاتھ ایک خط بھیجا اور اسے تاکید کردی کہ پہلے امام صادق(ع) سے ملنا۔ اگر وہ اقرار کرلیں تو خیر ورنہ عبداللہ المحض سے ملاقات کرنا اور اگر وہ بھی انکار کردیں تو عمرو الاشرف کے پاس خط لے جانا۔ قاصد امام صادق(ع) کی خدمت میں آیا۔ آپ نے خط کو دیکھتے ہی فرمایا۔ مجھے ابوسلمہ سے کیا تعلق ہے؟ وہ میرے غیر کا شیعہ ہے، قاصد نے عرض کی کہ حضور خط کو تو پڑھیں حضرت(ع) نے چراغ قریب منگا کر خط کو اس پر رکھ دیا۔ قاصد نے کہا کہ اس کا جواب؟ حضرت نے فرمایا تو نے تو دیکھ لیا۔
قاصد دوسرا خط لے کر عبداللہ المحض کے پاس گیا۔انھوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا اور فوراً امام صادق(ع) کے پاس آگئے، کہنے لگے کہ ابوسلمہ نے ایک خط بھیجا ہے۔ جسے میرا خراسان کا ایک شیعہ لے کر آیا ہے اور مجھے اس میں خلافت کی دعوت دی گئی ہے۔
امام صادق(ع) نے یہ سنا تو آپ(ع) کے تیور بدل گئے۔ فرمایا یہ اہل خراسان تمہارے شیعہ کیسے ہوگئے؟ کیا تم نے ابوسلمہ کو بھیجا ہے؟ کیا تم خراسانیوں کے نام سے واقف ہو؟ آخر تم نے انھیں شیعہ کیسے فرض کرلیا۔
عبداللہ نے کہا مجھے تو آپ کے اس کلام میں کوئی غرض معلوم ہوتی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ پروردگار عالم نے مرد مسلم پر نصیحت واجب کی ہے اس لئے تم کو آگاہ کررہا ہوں۔ یاد رکھو یہ حکومت بنی عباس ہی کے حق میں تمام ہوگی۔(۱)
ادھر سدیر صیرفی امام(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ حضور! اب آپ(ع) کے بیٹھنے کا جواز کیا ہے؟ حضرت(ع) نے فرمایا کیوں؟ عرض کی کہ اب آپ(ع) کے انصار و اعوان بہت ہوگئے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ تقریباً کتنے ہوں گے۔سدیر نے عرض کی ایک لاکھ! حضرت نے تعجب سے پوچھا ایک لاکھ؟ سدیر نے عرض کی:حضور دو لاکھ کے قریب! حضر ت نے مسکرا کر فرمایا: تم کثرت دیکھتے ہو اور میں عاقبت پر نظر رکھتا ہوں۔(۲)
بنی ہاشم نے محمد بن عبداللہ بن الحسن کی بیعت کرنا چاہی تو امام صادق(ع) نے فرمایا کہ دیکھو ایسا نہ کرنا۔ اس کام سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کے بعد آپ نے سفاح کی پشت پر ہاتھ رکھ کر عبداللہ کو سمجھایا کہ خلافت ان لوگوں کو ملے گی۔ اس میں نہ تمہارا کوئی حصہ ہے اور نہ تمہارے بچوں کا اور یاد رکھو کہ تمہارے دونوں بچے قتل کئے جائیں گے۔ یہ کہہ کر آپ اٹھے اور عبدالعزیز بن عمران زہری کو اشارہ سے سمجھایا کہ یہ زرد چادر والا منصور ہی محمد کا قاتل ہوگا۔
عبدالعزیز کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ شبہہ پیدا ہوا کہ حضرت بر بنائے حسد یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن میں نے اپنی زندگی ہی میں محمد اور ان کے بھائی کا قتل دیکھ لیا۔(۳)
علی بن عمرو نے ابن داحہ سے روایت کی ہے کہ امام صادق(ع) نے عبداللہ بن الحسن کوسفاح و منصور کی طرف اشارہ کرکے سمجھایا کہ یہ حکومت ان دونوں کو ملے گی تمہیں اور تمہاری اولاد کو نہ ملے گی۔ ان کے بچے تک حکومت کریں گے اور تمہارا ایک بیٹا مقام«احجار الزیت» میں قتل ہوگا اور دوسرا بھی اس کے بعد تہہ تیغ ہوگا۔ یہ کہہ کر آپ غصہ سے اٹھے اور چل دیئے۔ منصور بھی ساتھ چلا۔ کچھ دور چل کر اس نے کہا۔ آپ(ع) نے کچھ سوچا بھی کہ کیا کہہ دیا؟ آپ (ع) نے فرمایا کہ میں نے خوب سمجھ کر کہا ہے اور خدا کی قسم یہ ہوکر رہے گا...!
مصائب و خطرات امام صادق(ع) کی زندگی کا محاصرہ کئے رہے اور آپ(ع) ایک مؤمن و مخلص دل کے ساتھ ان تمام حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔ ظالم کا ظلم آپ(ع) کو فریضۂ تبلیغ اور اعلاء کلمۂ حق سے باز نہ رکھ سکا۔ آپ(ع) نے اپنے لئے ایک نیا راستہ معین کیا۔ خود بھی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اپنے اصحاب کو بھی خاموش تبلیغ پر آمادہ کرتے رہے۔ آپ(ع)نے دیکھا کہ ظالم حکومت سے ٹکر لینے کے لئے باہمی اخوت اور مواسات کی شدید ضرورت ہے اس لئے آپ(ع) نے تمام تر قوت ایسی اخوت کی ایجاد پر صرف کردی اور چاہا کہ ایک ایسا معاشرہ ہمہ وقت تیار رہے جو موقع آجانے پر اپنی آواز کو ظالموں کے کانوں تک پہنچا سکے۔
امام صادق(ع) کے دور کے سیاسی حالات یہ تھے جن کا آپ ثبات قدم سے مقابلہ کررہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ الاداب السلطانیہ ابن المصطفٰی،ص۱۱۱۔
۲۔اصول کافی،ج۲،ص ۲۴۳۔
۳۔مقاتل الطالبین،ص۱۱۷،طبری ج۹،ص۲۳۳۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15