Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192571
Published : 12/3/2018 20:37

جعلی آیت اللہ جیکاک، وہ جاسوس جس نے تیل کے نجس ہونے کا فتوی دیا!

سید جیکاک برطانوی جاسوس تھا جس نے ایران میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے وقت اس کے نجس ہونے کا فتوی دیا تھا۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق آج سے تقریباً ۱۵۰ برس پہلے ایران پر قابض برطانیہ کی ایک تنباکو کمپنی کے خلاف ایک شیعہ مجتہد اور مرجع تقلید کے آدھی سطر میں تحریر کردہ ایک فتویٰ کے سبب پورا برطانیہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا تھا   کہ جس کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے بانی انقلاب حضرت امام خمینی(رح) نے کہا کہ آیت اللہ العظمٰی میرزای شیرازی کے اس آدھی سطر کے فتویٰ نے پورے ملک کو دشمن کے حلق سے باہر کھینچ لیا تھا۔۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس واقعہ کے بعد سے ہی دشمن نے مرجعیت کی طاقت کا اندازہ لگا کر شیعت کے اس مستحکم قلعہ میں رخنہ ڈالنے کی کوششوں میں مشغول ہوگیا کہ جس میں انھیں کسی حد تک کامیابی بھی ملی۔ جس کی ایک مثال سید جیکاک ہے کہ جو ایران میں برطانیہ کا جاسوس تھا کہ جس نے تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد ایران میں تیل کے استعمال کو ہی حرام قرار دیدیا تھا۔
مسٹر جیکاک المعروف آیۃ اللہ سید جیکاک ویلیم نیکس ڈارسی کا مامور کیا گیا جاسوس تھا {جس نے قاچاریہ دور میں مسجد سلیمان میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد 99 سال کی لیز کا معاہدہ کیا تھا} اور مسجد سلیمان میں رہتا تھا۔
وہ ابتداء میں ایک گونگے، بہرے چرواہے کی طرح بختیاری قوم کے درمیان رہتا تھا تاکہ ان کی ثقافت اور تہذیب سے آشنا ہو سکے۔ یہاں کی ثقافت و تہذیب سے آشنائی کے بعد اس نے تیل کی دولت سے مالامال مسجد سلیمان میں ایک بختیاری کی حیثیت سے اقامت اختیار کر لی۔
مسجد سلیمان میں قیام کے دوران اس نے شعبدہ بازی اور دیگر حربوں اور فن کے دم پر عوام کے درمیان اپنی ایک خاص اہمیت پیدا کر لی اور اپنے آپ کو برجستہ شیعہ عالم دین کی حیثیت سے پیش کیا اور اس بہانے سے فقہ کی تعلیم حاصل کرنے میں لگ گیا۔
وہ اپنے عصا کے ایک اشارے سے اپنے دونوں جوتوں کو جمع کر ایک کر دیتا تھا اور اس نے یہ افواہ پھیلائی تھی کہ یہ اس کا معجزہ ہے۔
اپنی ڈائری میں اس نے اس کی وضاحت کی ہے  ہے کہ اس نے اپنے جوتوں میں ایک مقناطیس چھپا رکھا تھا جو عصا کا اشارہ کرنے کے بعد جوڑی کی شکل میں ہو جاتے تھے۔
جیکاک کا دوسرا قصہ اس کا مشہور عصا ہے وہ جسے مارتا تھا اسے کرنٹ لگتا تھا۔
جیکاک کا دعوی تھا کہ اس کا عصا بہترین وسیلہ ہے جس سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون حلال زادہ ہے اور کون نہیں۔ وہ اسی شعبدہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان بہت سی ایسی شخصیات کی تحقیر کیا کرتا تھا جن کی معاشرہ میں کچھ عزت ہوتی تھی۔
بعد میں اس راز سے پردہ اٹھا کہ جیکاک کے جادوئی عصا میں الیکٹریک ڈرائی سیل موجود تھے اور مسٹر جیکاک معصوم عوام کے بدن سے عصا لگتے ہی بٹن دبا دیتا تھا جس کے نتیجے میں بجلی کا ہلکا سا جھٹکا لگتا تھا۔
وہ اپنی محفل میں حاضر لوگوں کو جھوٹا کہتا تھا اور اپنی بات ثابت کرنے کے لئے ماچس روشن کر لیتا تھا اور کہتا تھا کہ جو بھی سچ بولے گا یہ ماچس اس کی داڑھی نہیں جلا سکے گا، پہلے دیا سلائی جلا کر اپنی داڑھی پر لگائی نہیں جلی تو پھر لوگوں کو ابھارا اور غریب عوام کی داڑھیاں جل کر خاکستر ہو گئیں بعد میں راز فاش ہوا کہ جناب جیکاک کی داڑھی مصنوعی تھی اور فائرپروف۔
جیکاک نے اس کے بعد روحانیت کا لباس پہن کر سر پر عمامہ لگایا وہ وعظ و نصیحت کی مجلسیں منعقد کرتا تھا اور آخر میں ذکر مصائب اہل بیت علیہم السلام بھی کرتا تھا۔ دوران مصائب جب گریہ ہوتا تو وہ موقع دیکھ کر اپنا عمامہ مجلس کے درمیان جلنے والی آگ میں پھینک دیتا تھا، عمامہ نہیں جلتا تھا اور جیکاک اسے بھی اپنا معجزہ بتاتا تھا اور اپنے سید ہونے کا دعوی کرتا تھا۔ وہ اپنے علاوہ کسی اور کو سید ماننے پر بھی آمادہ نہیں تھا کیوںکہ باقی لوگوں کا عمامہ جل جاتا تھا یہاں سے اسے سید جیکاک کے نام سے شہرت ملی۔
یہ جاسوس ایک دن مسجد میں آیا اور کہا کہ میں نے امام علی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھ کر فرمایا کہ لوگوں سے کہو کہ اس سیاہ مادہ {تیل} سے دوری اختیار کریں اس نے اپنی بات کو سچا ثابت کرنے کا ناٹک کرتے ہوئے اپنی عبا قبا اتاری اور اپنے کاندھے پر ایک سفید نشان دکھاتے ہوئے کہا کہ میری سچائی کا گواہ یہ ہاتھ کا نشان ہے۔
اس سلسلہ میں اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے ایک دن کاغذ کے ٹکڑوں کو ہاتھ کی شکل میں تراشا اور جنوب کی دھوپ میں اتنی دیر تک بیٹھا رہا کہ اس کاغذ کے کنارے جل کر راکھ ہو گئے اور وہ ہاتھ کا نشان میرے شانے پر ابھر آیا۔
ایران میں تیل کو قومی صنعت کی حیثیت دینے کے وقت سید جیکاک نے بختیاری قوم کے درمیان گھوم پھر کر یہ نعرے لگائے کہ جب تمہارے دل پر علی علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی ہے تو تمہیں تیل کی دولت کو قومی کرنے کی فکر کیوں پڑی ہے ؟
بعض بختیاری قبائل نے زندگی اور آرام و سکون سے منہ موڑتے ہوئے دستے تشکیل دئے اور مختلف قسم کے علائم اور پرچم بناتے ہوئے "علی علی" کی صدائیں دیتے ہوئے امام زادوں کی قبروں پر جاتے اور معافی مانگتے ہوئے اپنے لئے طلب مغفرت کا وطیرہ اپنا لیا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16