Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192579
Published : 13/3/2018 5:47

جرمنی میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسجد کو آگ لگانے کی ہولناک واردات

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تین انتہا پسندوں نے مسجد پر حملہ کر کے آگ لگا دی جس کے باعث مسجد کا اندرونی حصہ مکمل طور پر خاکستر ہو گیا۔

27.jpg
ولایت پورٹل:فرانسیسی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تین انتہا پسندوں نے مسجد پر حملہ کر کے آگ لگا دی جس کے باعث مسجد کا اندرونی حصہ مکمل طور پر خاکستر ہو گیا،اطلاعات کے مطابق برلن میں تین نامعلوم افراد ترک مسلمانوں کے زیر انتظام مسجد پر آتش گیر مادہ پھینک کر فرار ہوگئے، جس کے باعث مسجد کے بیرونی حصہ کو معمولی نقصان پہنچا تاہم اندرونی حصہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا،مسجد کے منتظم بیرم ترک نے برلن پولیس کو بتایا کہ3 نقاب پوش افراد نے مسجد پر آتش گیر مادہ پھینکا اور فرار ہو گئے،آتش گیر مادہ دھماکے سے پھٹا جس کی وجہ سے مسجد کے اندر آگ بھڑک اُٹھی ،اس سے قبل کہ امدادی ادارے کارروائی کے لیے پہنچتے آگ نے مسجد کے اندورنی حصے کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ مسجد پر آتش گیر مادہ پھینکنے والوں کا تعلق کس گروپ سے ہے تاہم  ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں تین کم عمر لڑکے ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ جرمنی میں گزشتہ چند ماہ سے مساجد اور مسلمانوں پر حملوں کے سلسلے میں تیزی آگئی ہے۔ جرمن حکومت کے مطابق جرمنی میں گزشتہ برس مسلمانوں اور مساجد پر 950 حملے کیے گئے ہیں جن میں زیادہ تر حملے ترک مسلمانوں کی مذہبی املاک پر کیے گئے جو کہ کُرد انتہا پسندوں کی جماعت ’پی کے کے‘ کی ترک صدر طیب اردوغان کی پالیسی سے ناراضگی کا اظہار ہے اور ان حملوں کے محرک مذہبی سے زیادہ سیاسی ہیں۔
مہر





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14