Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192593
Published : 13/3/2018 18:14

آج کی خاتون اور مثالی خاتون،ایک موازنہ

دینی تعلیمات میں گھر کو مرد کے لئے سکون کا محاذ بتایا گیا ہے کہ جب وہ دنیا کی مشکلات سے خستہ حال ہوکر اس میں پناہ لے تو اسے نئی تازگی اور قوت کا احساس ہو اور اس مرکز سکون اور محاذ آرام کی سربراہ عورت ہوتی ہے اسی وجہ سے اسلام نے شوہر کی خدمت کو جہاد کے مساوی قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج کل گھریلو معاملات اور مشترکہ زندگی میں  بے نظمی اور انحطاط زندگی کے اصل معنٰی میں تبدیلی کا نتیجہ ہیں، ہمارے سماج میں ہر روز طلاق کا بڑھتا ہوا گراف اور زندگی کی منہدم ہوتی بنیادیں اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان مذہب سے بہت دور ہوچکا ہے ،قرآن مجید اور روایات معصومین(ع) کے مطالعہ سے ہم اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ آج گھریلو معاملات اور مشترکہ زندگی میں بہت سی مشکلات الہی قوانین سے ناوقفیت اور ان پر عمل نہ کرنے کے سبب وجود میں آئی ہیں۔چونکہ دین اسلام نے اس مرکز محبت و سکون(گھر) کی حفاظت کے لئے چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا ہے۔
گھر کے اقتصادی نظام کی باگ ڈور مرد کے ہاتھ میں ہے جبکہ خانہ داری اور بچوں کی تربیت کی مہم عورت کے سپرد کی گئی ہے اور یہ تقسیم کار کا یہ طریقہ اللہ نے انسان کی فطرت میں ودیعت کررکھا ہے اور اگر اس فطری قانون کو مد نظر رکھا جائے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر مرد اور عورت دونوں میں سے ہر ایک اپنے فطری تقاضوں کو پورا کرے تو انھیں وہی نتیجہ حاصل ہوگا جو دونوں کی خواہش ہے اور جس کا دین نے ہم سے مطالبہ کیا ہے۔ مرد اپنے مردانہ کمال کے ذریعہ اور عورت اپنی زنانہ خصوصیات کے ساتھ ایک دوسرے کی زندگی کو نظم بخشیں  تو اس کام کے سبب خانوادگی نظام ہمیشہ گرم رہے گا ۔اور ان کی مشترکہ زندگی نہایت آرام سکون اور خوشیوں سے گذرے گی۔
لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا آج کے مرد اور عورتیں اپنی اپنی ذمہ داریوں پر صحیح طور پر عمل کررہے ہیں یا نہیں؟
جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر میاں بیوی شادی سے پہلے مشترک زندگی کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتے اور ہماری، تیاری و آمادگی سے مراد: ازدواجی زندگی کے خد و خال سمجھنا اور اسے چلانے کے لئے مناسب تعلیم اور مہارت کا حصول۔ اور ظاہر سی بات ہے یہ مہارتیں بہت چھوٹی عمر سے شروع ہونا چاہیئے۔
چونکہ جب کسی انسان میں مذہب کے تئیں وفاداری کا جذبہ پروان چڑھے گا تو قطعی طور پر بڑے ہونے پر اس کے اثرات اس کے کردار اور اس کی رفتار سے عیاں ہونگے
اور یہ مہارتیں اور تعلیمات صرف مذہبی امور سے متعلق نہیں ہیں بلکہ اپنے گھر والوں ماں باپ، بہن ،بھائی پڑوسیوں،رشتہ داروں  وغیرہ وغیرہ سے برتاؤ اور روابط کے ساتھ ساتھ اور بہت سے دیگر آداب پر مشتمل ہیں چونکہ جب  یہ ساری چیزیں انسان کے ذہن میں ایک آئیڈیل طریقہ سے ثبت و نقش  ہونگے تو وہ ہرجگہ ان کا خیال رکھیں گے اور کبھی انھیں زندگی میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
چونکہ آج ہم جب اپنے معاشرہ میں نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں تو جوان لڑکے اور لڑکیاں شادی کے بعد بہت سی مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔اور آج کے شادی شدہ جوانوں کی سب سے بڑی مشکل جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں وہ مشترکہ زندگی میں ایثار کی کمی،عدم تحمل، دنیاوی مشکلات کے مقابلہ بے صبری ہر آن نظر آتی ہیں ،یہ سب چیزیں دوسرے عوامل و اسباب کے ساتھ ساتھ  طلاق کے اعداد و ارقام میں اضافہ کا سبب بنے ہیں جبکہ قرآن مجید نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے:« لاتَنْسَوُا الفَضلَ بَیْنَکُم»۔( اور مشترکہ زندگی میں بزرگی و فضل کو فراموش نہ کرو)۔ (سورہ بقره: 237)۔
اگرچہ بہت سے شادی شدہ لوگوں میں بہت سی اچھی عادتیں اور فضیلتیں پائی جاتی ہیں ہم انکو نظر انداز نہیں کرسکتے لیکن بہر حال ہمیں ہر دور سے زیادہ آج ایک ایسے آئیڈیل اور نمونہ لوگوں کی تلاش ہے جن کی راہ پر چل کر ہمارے جوان سعادت مند بن سکیں اور خود یورپی ممالک میں بہت سی خواتین کا اسلام کی طرف بڑھتا رجحان اس امر کا عکاس ہے کہ مغرب کے ناقص آئیڈیل ان کی روح کی تسکین کے سامان فراہم نہیں کرسکتے اور  بہت سی مغربی عورت اس چیز کی تلاش میں ہے جسے اللہ نے ان کی فطرت میں رکھا ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرہ کی کئی خواتین مغربی عورت کو اپنا آئیڈیل بنانے پر مُصر ہے جبکہ ان کا دامن خود فضیلتونں سے خالی ہے وہ دوسروں کو کیا دے سکتی ہیں۔
اگر آج کی خواتین تاریخ اسلام کی عظیم المرتبت خواتین اور خصوصاً حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو مشترکہ زندگی کو اپنے لئے سرمشق بنائیں تو گھریلو اور مشترکہ زندگی میں عروج اور خوشخالی آسکتی ہے شہزادی کونین(س) کی پوری زندگی فضائل اور کمالات سے بھری تھی،آپ کی سادگی ،علی(ع) کے ساتھ آپ کا تعاون ،ہر جگہ حق کا دفاع ،خود پر علی(ع) کی اطاعت اور احترام کو واجب جاننا یہ وہ چیزیں ہیں جو ایک عورت کا اصلی زیور اور فضیلت ہیں نیز  علی(ع) بھی آپ کا شایان شان احترام و اکرام کیا کرتے تھے گویا ایک،دوطرفہ رابطہ ان حضرات کی زندگی پر حکمفرما تھا۔
حضرت فاطمہ(س) بیوی کی شوہر کے احساسات پر تاثیر سے کامل طور پر آگاہ تھیں اور اس نکتہ کی طرف  بھی متوجہ تھیں کہ کسی بھی مرد کی سعادت،شقاوت،خوشی اور حزن کا دار و مدار  گھر میں اس کے ساتھ عورت کے برتاؤ اور رویہ پر موقوف ہوتا ہے ۔
اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ دینی تعلیمات میں گھر کو مرد کے لئے سکون کا محاذ بتایا گیا ہے کہ جب وہ دنیا کی مشکلات سے خستہ حال ہوکر اس میں پناہ لے تو اسے نئی تازگی اور قوت کا احساس ہو اور اس مرکز سکون اور محاذ آرام کی سربراہ عورت ہوتی ہے اسی وجہ سے اسلام نے شوہر کی خدمت کو جہاد کے مساوی قرار دیا ہے۔
حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیہما السلام کوئی معمولی لوگ نہیں تھے بلکہ علی اسلام کے سب سے شجاع،بہادر دلیر کمانڈر اور رسول اللہ(ص) کے وزیر و مشیر تھے اور وہ زمانہ نہایت جنگ و جدال کا زمانہ تھا جس میں ہر سال کئی جنگیں مسلمانوں کو لڑنا پڑتی تھیں کہ جن میں سے اکثر جنگوں میں امیر کائنات کو حاضر پڑتا تھا۔
حضرت فاطمہ(س) جانتی تھیں کہ علی اسی وقت میدان قتال اور دشمن کے مقابل فتحمند ہوسکتے ہیں جب گھر کی جانب سے ان کی فکر آزاد ہو ،اپنی بیوی کی محبت سے دلگرم ہوں،اور یہی وجہ تھی کہ جب علی(ع) میدان سے پلٹتے تھے تو فاطمہ(س) آپ کے زخموں کو دھو کر مرحم پٹی کرتیں ،آپ کے خون آلود کپڑے دھوتیں،اور جنگ کی خبریں آپ سے بغور سنتیں۔ چنانچہ اس احساس کو خود علی(ع) اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ جب میں جنگ اور جہاد کے زخموں اور تھکاوٹوں سے چور گھر لوٹتا تھا تو فاطمہ کے چہرے کو دیکھ کر میرے تمام غم اور حزن ختم ہوجاتے تھے۔
لہذا آج کے جوانوں کو ان حضرات کی زندگی کے ان پہلوؤں کو بغور پڑھ کر ان پر عمل کرنا چاہیئے چونکہ ان حضرات کی زندگی میں تمام ظاہری اور مادی مشکلات کے باوجود اتنا حُسن اور اطمئنان نظر آتا ہے جس کی مثال آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔
آج کی خواتین کو شہزادی کونین (س) اور اسلام کی دیگر عظیم المرتبت خواتین سے اپنا موازنہ کرنا چاہیئے کہ ہم کتنا ان کے  نقش قدم پر چلتے ہیں اور ان کے کردار و رفتار کا کتنا فی صدی حصہ ہم میں جلوہ نما ہوا اور ہماری زندگی کے کتنے طور طریقے ان سے مختلف ہیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14