Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192600
Published : 14/3/2018 5:15

حزب اللہ کے گراڈ میزائل سے صیہونی لرزہ براندام

صیہونی جنرل کے مطابق حزب للہ کے پاس 500 ٹن وزنی میزائل بھی موجود ہیں جو کئی کلومیٹر تک مار کرنے کے علاوہ دھماکہ خیز مواد بھی لے جاسکتے ہیں.

32.jpg
ولایت پورٹل:روزنامہ الیوم کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی حلقوں نے حزب اللہ اور حماس کے پاس موجود میزائلوں کو اسرائیل کی سالمیت کے لئے نہایت خطرناک قرار دیا ہے،اگرچہ بعض اسرائیلی ذرائع ابلاغ اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف جنگ کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اسرائیلی حکام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر اس بار بھی لبنان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی گئی تو حزب اللہ کا رد عمل پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہوسکتا ہے، کیوںکہ حزب اللہ عسکری طور پر پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوچکی ہے،ایک صہیونی اخبار کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل اسرائیل کے کسی بھی جگہ پہنچ سکتے ہیں اور نہایت مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اس اخبار کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی صورت میں شام کی سرزمین تک حزب اللہ کی رسائی ہوگی جس سے اسرائیلی فوج کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا،اخبار نے مزید لکھا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ ممکنہ جنگ میں اسرائیل کے کم از کم 2000 فوجی زخمی یا ہلاک ہونگے،اسرائیلی روزنامہ یدیعوت کا کہنا ہے کہ اب حزب اللہ جنگ کے پہلے ہی دن میں 4 ہزار سے زائد خطرناک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،حزب اللہ کے میزائلوں  کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی جنرل کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اسرائیلی سرحدوں کے اندر40کلومیٹر تک میزائل فائر کرسکتی ہے، خاص کر گراڈ میزائل اسرائیل کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،اسرائیل جنرل نے عبری زبان کے ایک خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اورحماس کے پاس بڑی مقدار میں اسرائیل کے مختلف شہروں تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں،اسرائیل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل دھماکہ خیز مواد بھی حمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،صیہونی جنرل کے مطابق حزب للہ کے پاس 500 ٹن وزنی میزائل بھی موجود ہیں جو کئی کلومیٹر تک مار کرنے کے علاوہ دھماکہ خیز مواد بھی لے جاسکتے ہیں تاہم ایسے میزائلوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے،واضح رہے کہ حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت سے اسرائیل سمیت خطے کے بعض امریکہ نواز ممالک بھی سخت خوفزدہ ہیں،یاد رہے کہ حزب اللہ لبنان نے 2006 کی جنگ میں اسرائیل کو شکست سے دوچارکردیا تھا یہ جنگ 33 روزہ جنگ کے نام سے بھی مشہور ہے۔
تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16