Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192614
Published : 14/3/2018 17:51

فکر قرآنی:

قرآن مجید کی نظر میں حاکم و ولی کے شرائط

اگر قرآنی آیات میں غور کیا جائے تو ایک حاکم اور ولی کی کلی تصویر ہمیں مل جاتی ہے یعنی قرآن مجید کے نزدیک حکومت اور زمامداری صرف ان لوگوں کے لئے ہی مناسب ہے جو علمی اور اخلاقی صلاحیتوں سے مالا مال ہو اور ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ غیبت امام علیہ السلام میں صرف یہ تصویر ولی فقیہ پر ہی صادق آتی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! کبھی کبھی بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ اسی وقت اسلامی ہوسکتا ہے جب اس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح بیان ہو کہ اس کے تئیں کسی اجتہاد، استنباط اور تائید کی ضرورت پیش نہ آئے جبکہ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ سنت اور عقل بھی شریعت کے اخذ کے معتبر منابع اور سورسز ہیں۔
دوسرے یہ کہ قرآن مجید ہر مسئلہ کو ایک خاص زاویہ نظر سے بیان کرتا ہے  اور بہت سے مواقع  پر بغیر استنباط کے کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آسکتا  جبکہ بعض احکام کا کلی فرضیہ قرآن نے بیان کردیا اور اس کی تفصیل رسول اللہ(ص) اور آئمہ(ع)  نے بوقت ضرورت بیان فرمائی جیسا کہ قرآن مجید نے نماز کے لئے فرمایا:«اقیمو الصلاۃ»۔ نماز قائم کیجئے جبکہ کہیں قرآنی آیات سے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ صبح کی 2 رکعت، ظہر کی 4 رکعت یا مغرب کی 3 رکعت پڑھی جائے ظاہر سی بات ہے رکعات کی تعداد رسول یا امام آکر بتائیں گے ہاں! قرآن مجید کے دامن میں بہت سے ایسے احکام  موجود ہیں کہ جو مستقیم طور پر بیان ہوئے ہیں لیکن ایسے موارد بہت کم ہیں چونکہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے اور جو کچھ ہدایت کے باب میں ممکن تھا وہ سب کچھ اس میں بیان کردیا گیا:«لَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ»۔(1)
اب ولی فقیہ کے اثبات کے لئے اگر ہم قرآن مجید کی آیات میں غور و فکر کریں تو ہمیں بہت سے ایسے موارد ملیں گے  جہاں حاکم کے شرائط بیان کئے گئے ہیں اور جن کی تطبیق معصومین(ع) کے علاوہ صرف ولی فقیہ پر  ہی صادق آتی ہیں۔
قرآن مجید کی نظر میں حاکم کے شرائط
1۔ اسلام و ایمان
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:لَنْ یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكافِرِینَ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا۔(2)
ترجمہ:اور اللہ کبھی کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ نہیں  چھوڑے گا۔
لا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكافِرِینَ أَوْلِیاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ وَ مَنْ یَفْعَلْ ذلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللَّهِ فِى شَىْ‏ءٍ)۔(3)
ترجمہ:(خبردار) اہل ایمان، اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا سرپرست نہ بنائیں۔ اور جو ایسا کرے گا۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق اور سروکار نہیں ہوگا ۔
2۔ عدالت
اللہ تعالٰی ظالم و جابر کی حکومت کو پسند نہیں کرتا لہذا حاکم و ولی کو عادل ہونا چاہیئے: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ۔(4)
ترجمہ:اور خبردار! ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ (ان کی طرح) تمہیں بھی آتشِ دوزخ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست نہ ہوگا اور نہ ہی تمہاری کوئی مدد کی جائے گی۔
چنانچہ روایات میں «ترکنوا» کی تفسیر دوستی اور اطاعت کے ذریعہ کی گئی ہے۔(5) اور اسی طرح خداوند عالم نے امامت کے کے شرائط میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا:لا یَنالُ عَهْدِى الظَّالِمِینَ۔(6) میرا عہدہ (امامت) ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
3۔ فقاہت
اسلامی سماج کے حاکم کو اسلامی احکام کا مکمل علم ہونا چاہیئے تاکہ انھیں نافذ کرسکے چنانچہ رسول اکرم(ص) اور معصومین(ع) کو اللہ کی جانب سے تمام احکام کا علم عطا کیا گیا تھا لیکن معصوم(ع) کی غیبت کے زمانے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جو ان احکام کو جانتا ہے وہ فقیہ ہے لہذا ارشاد ہوتا ہے: أَفَمَنْ یَهْدِى إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ یُتَّبَعَ أَمَّنْ لا یَهِدِّى إِلَّا أَنْ یُهْدى فَما لَكُمْ كَیْفَ تَحْكُمُونَ۔(7)
ترجمہ:پھر (بتاؤ) جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اس وقت تک راہ نہیں پا سکتا جب تک اسے راہ نہ دکھائی جائے؟ تمہیں کیا ہوگیا تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟  
چونکہ فقیہ نے برسہا برس حصول علم کی کوشش کی ہے اور اس میں مہارت پیدا کی ہے اور وہ  اسلامی احکام کو قرآن مجید، سنت، اجماع اور عقل کے ذریعہ حاصل کرسکتا ہے لیکن غیر فقیہ کہ جس نے یہ علم حاصل نہیں کیا اسے چاہیئے کہ وہ  فقیہ سے  آکر یہ احکام سکھے۔
4۔لیاقت اور امانت
معاشرہ کے انتظام و انصرام کو صحیح ڈھنگ سے چلانے کے لئے مدیر اور مدبر ہونا بھی شرط ہے چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:قالَ اجْعَلْنِى عَلى خَزائِنِ الْأَرْضِ إِنِّى حَفِیظٌ عَلِیمٌ۔(8) آپ (ع) نے کہا مجھے (اس) زمین کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے میں یقیناً (مال کی) حفاظت کرنے والا اور اس کام کا جاننے والا بھی ہوں۔ اور حضرت موسٰی اور دختر شعیب(ع) کے متعلق آیا ہے: إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِىُّ الْأَمِینُ)۔(9) اچھا کام کرنے والا جسے آپ رکھیں وہی ہے جو طاقت ور بھی ہو اور امانت دار بھی۔
قارئین اگر ان آیات میں غور کیا جائے تو ایک حاکم اور ولی کی کلی تصویر ہمیں مل جاتی ہے یعنی قرآن مجید کے نزدیک حکومت اور زمامداری صرف ان لوگوں کے لئے ہی مناسب ہے جو علمی اور اخلاقی صلاحیتوں سے مالا مال ہو اور ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں  کہ غیبت امام علیہ السلام میں صرف یہ تصویر ولی فقیہ پر ہی صادق آتی ہے اور دوسرے یہ کہ اسلامی حکومت یعنی قانون خدا کی خلق پر حکومت: مَنْ لَمْ یَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ۔(10)
ترجمہ: اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ کافر ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ اللہ کی حاکمیت غیبت کے زمانہ میں اور اللہ کے احکام کا نفاذ اور حدود کا اجراء ایک فقیہ جامع الشرائط کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔(11)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ سورہ انعام:59.
2۔نساء (4)، آیه 141.
3۔ آل عمران (3)، آیه 28.
4۔ هود (11)، آیه 113.
5۔ تفسیر على بن ابراهیم، ج 1، ص 338.
6۔ بقره: 421.
7 ۔یونس :35.
8۔یوسف:55.
9۔ قصص : 26.



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20