Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192630
Published : 15/3/2018 6:8

میرا بیٹا تکفیریوں کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوا ہے:لبنان کےایک سنی عالم دین

لبنان کے جنوبی علاقے صیدا سے تعلق رکھنے والے اہل سنت کے سنیئر عالم دین 'شیخ خضر الکبش' کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا 'محمد البکش' تکفیری اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کے شانہ بشانہ رہا اور اسی راہ میں جام شہادت نوش کیا.

8.jpg
ولایت پورٹل:ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہید کے والد شیخ خضر نے اپنے بیٹے کی تصاویر دیکھائیں اور ان کا کہنا تھا کہ تکفیریوں کے خلاف شیعہ،سنی کی بات نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف ان کے بیٹے نے جام شہادت نوش کیا،ان سے پوچھا گیا کہ حزب اللہ ایک شیعہ گروہ ہے اور آپ کے بیٹے کا تعلق اہل سنت سے تھا، تو کیسے آپ کا بیٹا ان سےکیسے مل گیا اور آخر میں شہید ہوا، اس کے جواب میں شیخ خضر نے کہا کہ حزب اللہ ایک فعال سیاسی جماعت ہے جس کا لبنان میں نہایت اہم کردار ہے، ہم حزب اللہ کو ناجائز صہیونی ریاست کے خلاف ایک اہم طاقت سمجھتے ہیں،ہم حزب اللہ کو ایک طاقتور اور اسلامی گروہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو لبنان کے دشمنوں بالخصوص صہیونیوں کے خلاف سیسا پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے،شیخ خضر نے ایران کے خلاف حزب اللہ کے ساتھ گھٹ جوڑ کے الزامات یا شام و عراق میں ایران کی مداخلت جیسے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران مزاحمتی فرنٹ میں اہم کردار ادا کررہا ہے،سنی یا شیعہ ہونا اہم بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایران اور حزب اللہ سامراجی قوتوں بالخصوص امریکہ، صہیونیوں اور دہشتگردوں کے خلاف کھڑے ہیں،انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم نہیں کہ ہمارے مراکز قم، تہران، مصر یا ریاض میں ہوں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ہم سب دہشتگردی اور اسلام مخالف عناصر کے خلاف متحد ہوں لبنان کے اہل سنت عالم دین نے مزید کہا کہ آج عراق دہشتگردوں کی لعنت سے نجات پایا، لبنان کے جنوبی علاقوں کو بھی دہشتگردوں سے صفایا کرایا گیا اور جلد مستقبل میں شام بھی دہشتگردوں سے آزاد ہوگا، یہ ساری فتوحات مزاحمتی فرنٹ اور مجاہدین کی مرہون منت ہیں.
Iuvmpress





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15