Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193395
Published : 24/4/2018 19:15

امام علی(ع) کی نظر میں قلب کی کیفیتیں

حضرت امیر علیہ اللسلام فرماتے ہیں: مؤمن نے اپنی عقل کو زندہ اور اپنے نفس کو مارڈالا ہے یہاں تک کہ اس کا جسمانی ڈیل ڈول لاغری میں اور روح کا کھردرا پن نرمی میں تبدیل ہوگیا اس کے قلب میں بھر پور درخشندگیوں والا نور ہدایت چمکا جس نے اس کے سامنے راستے نمایاں کر کے اسے سیدھی راہ پر لگا دیا اور وہ ایک دروازہ کے بعد دوسرے دروازہ کو روندتا ہوا آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ سلامتی کے دروازہ اور (دائمی) قرار گاہ تک پہنچ گیا اور اس کے پاؤں پرسکون بدن کے ساتھ امن و راحت کے مقام پر جم گئے۔

ولایت پورٹل: مؤمن نے اپنی عقل کو زندہ اور اپنے نفس کو مارڈالا ہے یہاں تک کہ اس کا جسمانی ڈیل ڈول لاغری میں اور روح کا کھردرا پن نرمی میں تبدیل ہوگیا اس کے قلب میں بھر پور درخشندگیوں والا نور ہدایت چمکا جس نے اس کے سامنے راستے نمایاں کر کے اسے سیدھی راہ پر لگا دیا اور وہ ایک دروازہ کے بعد دوسرے دروازہ کو روندتا ہوا آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ سلامتی کے دروازہ اور (دائمی) قرار گاہ تک پہنچ گیا اور اس کے پاؤں پرسکون بدن کے ساتھ امن و راحت کے مقام پر جم گئے اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اس نے اپنے دل و ضمیر کو عمل میں لگا رکھا تھا اور اپنے پروردگار کو راضی وخوشنود کیا تھا:«قَدْ اَحْیٰ عَقْلَہٗ وَاَمَات نَفْسَہٗ، حَتّٰی دَقَّ جَلِیْلُہٗ وَلَطَفَ غَلِیْظُہٗ وَبَرِقَ لَہٗ لَامِعُ کَثِیْرِالْبَرْقِ، فَاِنَّ لَہٗ الطَّرِیْقَ وَسَلَکَ بِہٖ السَّبِیْلَ وَتَدَافَعَتْہُ الْاَبْوَابُ اِلیٰ بَابِ السَّلَامَۃِ وَدَارِالْاِقَامَۃِ وَثَبَتَتْ رِجْلَاہُ بِطَمَأْنِیْنَۃِ بَدَنِہٖ فِیْ قَرَارِالْاَمْنِ وَالرَّاحَۃِ بِمَا اسْتَعْمَلَ قَلْبَہٗ وَاَرْضیٰ رَبَّہٗ»۔
ان جملوں میں ،جیساکہ ظاہر ہے کہ ایک دوسری زندگی کے سلسلہ میں گفتگو کی گئی ہے۔ ایک ایسی زندگی جس میں عقل کی حکمرانی ہے ،یہاں جہادا ور نفس امّارہ کے مغلوب کرنے کا ذکر ہے جسم و روح کی ریاضت کا تذکرہ ہے ،ایک ایسی روشنی کے بارے میں گفتگو ہے جو جہاد بالنفس کی وجہ سے سالک الیٰ اللہ کے دل میں طور کی مانند چمک اٹھتی ہے اور اس کی دنیا کو روشن کردیتی ہے۔ ان منازل و مراحل کا تذکرہ ہے جس کو ایک مشتاق اور سالک الیٰ اللہ کی روح بتدریج طے کرتی ہے تاکہ اس منزل مقصود کو پالے جو بشر کے معنوی سیر و صعود کی آخری حد ہے:«یَااَیُّھَاالْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلیٰ رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلَاقِیْهِ»۔(۱)
ترجمہ: ائے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے تو ایک دن اس کا سامناکرے گا۔
اس میں آرام و اطمینان کا ذکر ہے جو انسان کے پریشان و مضطرب اور با ظرف دل کو آخری مرحلوں میں بہر حال نصیب ہوجاتا ہے:«اَلَابِذِکْرِاللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ»۔(۲)
ترجمہ: آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان قلب یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
۲۲۸ویں خطبہ میں دل کی حیات کے لئے اس طبقہ کے اہتمام کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:«یَرَوْنَ اَھْلَ الدُّنْیَا لَیُعَظِّمُوْنَ مَوْتَ اَجْسَادِھِمْ وَھُمْ اَشَدُّ اِعْظَاماً لِمَوْتِ قُلُوْبِ اَحْیَائِھِمْ»۔(۳)
ترجمہ: وہ اہل دنیا کو دیکھتے ہیں جو اپنی جسمانی موت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں لیکن یہ (ارباب معرفت وایمان )دلوں کی مردنی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کے حال کو زیادہ اندوہ ناک سمجھتے ہیں کہ جو زندہ ہیں مگر ان کے دل مردہ ہیں۔
وہ جذبات اور عاشقانہ احساسات جو بااستعداد روحوں کو بے چین کردیتے ہیں اور اس کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ،اس طرح بیان ہوئے ہیں:«صَحِبُوا الدُّنْیَا بِاَبْدَانِ اَرْوَاحِھَا مُعَلَّقَةٌ بِالْمَحَلِّ الْاَعْلیٰ»۔(۴)
وہ اس حال میں اپنے جسموں کے ساتھ دنیا میں رہتے اور دنیا سے معاشرت کرتے ہیں کہ ان بدنوں کی روحیں ملا اعلیٰ سے وابستہ ہوتی ہیں۔«لَوْلَا الْاَجَلُ الَّذِیْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ لَمْ تَسْتَقِرَّ اَرْوَاحُھُمْ فِیْ اَجْسَادِھِمْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ شَوْقاً اِلیٰ الثَّوَابِ وَخَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ»۔(۵)
ترجمہ: اگر ان کی اجل اور موت حتمی نہ ہوتی جو اللہ نے ان کے لئے لکھدی ہے تو الٰہی لطف وکرامت کے شوق اور عقاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے جسموں میں چشم زدن کے لئے بھی نہ ٹھہرتیں۔«قَدْ اَخْلَصَ اللّٰهُ سُبْحَانُهٗ فَاسْتَخْلَصَهٗ»۔(۶)
ترجمہ: اس نے خود کو اور اپنے ہر کام کو اللہ کے لئے خالص کردیا تو اللہ نے بھی اپنے لطف خاص سے اسے اپنالیا۔
افاضی و اشراقی علوم جو تہذیب نفس اور طریق عبدیت کے طے کرنے سے سالکان راہ خدا کے دلوں میں سوتا پیدا کرتے ہیں اور جس سے انہیں یقین محکم کی دولت حاصل ہوجاتی ہے اس کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:« ھَجَمَ بِھِمُ الْعِلْمُ عَلٰی حَقِیْقَۃِ الْبَصِیْرَۃِ وَبَاشِرُوْا رُوحَ الْیَقِیْنِ وَاسْتَلَانُوا مَااسْتَوْعَرَہٗ الْمُتْرَفُوْنَ وَاٰنَسُوا بِمَااسْتَوْحَشَ مِنْہُ الْجَاھِلُونَ»۔(۷)
ترجمہ: وہ علم جو حقیقت وبصیرت سے مملو ہے ان پر یلغار کئے رہتا ہے اور انہوں نے یقین واعتماد کی روح کو چھو لیا ہے،وہ چیزیں جو آرام پسند لوگوں کے لئے دشوارو سخت ہیں اور ان کے لئے سہل وآسان بن گئی ہیں اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔خطبہ:۲۱۸
۲۔سورۂ انشقاق:۶    
۳۔سورہ رعد: ۲۸
۴۔خطبہ:۲۲۸
۵۔حکمت:۱۴۷
۶۔خطبہ:۱۹۱
۷۔خطبہ:۸۵





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19